دینی مدارس کوشیطانوں سے بچائیں

09:07 AM, 27 Jul, 2025

کل تک تعلیم وتربیت کے لئے دینی مدارس کی مثالیں دی جاتی تھیں لیکن افسوس مٹھی بھرعناصر کی جاہلیت اورحیوانیت کی وجہ سے آج نہ صرف اہل علم کے لئے رول ماڈل کی حیثیت رکھنے والے دینی مدارس بدنام ہورہے ہیں بلکہ پورے مذہبی طبقے کی طرف لوگ گھورگھورکے دیکھنے لگے ہیں ۔سوات کے ایک مدرسے میں معصوم طالب علم کی تشددسے شہادت نے مدارس اور اہل مدارس کو میدان میں لاکھڑا کر دیا ہے۔ وہ علماء اورقراء جنہیں لوگ محبت،عزت واحترام کی نظروں سے دیکھتے تھے سوات جیسے افسوسناک واقعات کی وجہ سے اب لوگ ان علماء کی طرف شک بھری نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں۔ علماء ہمارے سروں کے تاج اوردینی مدارس اسلام کے قلعے، اہم ستون اور مراکز ہیں۔ ہمیں دینی مدارس اور علماء سے پہلے بھی محبت وعقیدت تھی اور ہمارا اب بھی علماء سے عقیدت ومحبت کا رشتہ ہے۔ہماری زندگی کااکثرحصہ علماء کے درمیان انہی مدارس میں گزرا۔ہم نے ان مدارس اوراہل مدارس کوہمیشہ عوام کی خیرخواہی اوردین کی سربلندی کے لئے سرگرداں دیکھا۔ان مدارس میں نہ صرف قوم کے بچوں کومفت میں قرآن وحدیث کی اعلیٰ تعلیم دی جاتی ہے بلکہ ان مدارس میں ان کی بہترسے بہتر تربیت بھی کی جاتی ہے۔ملک،قوم اوردین کی انہی اعلیٰ خدمات پرہم علمائے حق کوکل بھی انبیاء کے وارث سمجھتے تھے اورہم علماء کوآج بھی دین کے چوکیدارسمجھتے ہیں لیکن معذرت کے ساتھ سوات مدرسے میں دینی تعلیم کے نام پرظلم وبربریت کی تاریخ رقم کرنے والے درندوں کوہم مولوی اورقاری تودورانسان کہنے کے بھی لائق نہیں سمجھتے۔ کیا انبیاء کے وارث اور دین کے پہرہ دار ایسے ہوتے ہیں۔؟ ہم آج بھی دنیاکوکہتے ہیں کہ مدارس میں انبیاء کے وارث ہوتے ہیں لیکن ایسے درندے نہ پہلے انبیاء کے وارث تھے اورنہ یہ آج دین کے کوئی پہرہ دارہیں۔معصوم طالب علم کی تشدزدہ نعش کودیکھ کرہم سمجھتے ہیں کہ واللہ یہ ہمارے اس نبی کے دین کے ہرگزوارث نہیں جونبی دونوں جہانوں کے لئے رحمت اللعالمین بن کر اس دنیا میں آئے۔ ہمارے نبی نے تو دشمن کے بچوں کو بھی گلے لگایا۔ یہ اس نبی کے کیسے وارث ہیں جو پھول جیسے بچوں کو مسلتے ہوئے ذرہ بھی خدا اور اس کے رسول ﷺ سے نہیں ڈرے۔ ایسا کام تو قصائی جانوروں کو ذبح کرتے ہوئے بھی نہیں کرتے جو کام اور ظلم مولویت کا لبادہ اوڑھے ان شیطانوں نے ایک معصوم طالب علم کے ساتھ کیا۔ ایک معصوم طالب علم کو ڈنڈوں، مکوں اور لاتوں کے ذریعے تشدد کا نشانہ بنا کر موت کے گھاٹ اتارنے والے ان درندوں کے اپنے گھروں میں کیا بچے نہیں۔؟ بچے تو دشمن کے بھی سانجھے ہوتے ہیں۔ سخت سے سخت دل انسان بھی بچوں پرہاتھ اٹھاتے ہوئے کانپ جایا کرتا ہے۔ معلوم نہیں یہ کیسے قاری۔؟ کیسے مولوی۔؟ اور کیسے انسان تھے جو بچے کی جان لیتے ہوئے بھی نہیں کانپے۔ کوئی انہیں مولوی کہے یاقاری لیکن سچ یہ ہے کہ یہ انسان بھی نہیں۔انہیں انسان کہنابھی انسانیت کی توہین ہے کیونکہ جوکام انہوں نے کیاہے وہ انسان نہیں حیوان ہی کرسکتے ہیں۔دین کالبادہ اوڑھنے والے ان درندوں پر دو حرف بھیجنے اور ان کے خلاف آواز اٹھانے والوں پر تنقید نہیں بلکہ ان کی تعریف کرنی چاہئیے۔ اہل مدارس اور اللہ کا خوف سینے میں رکھنے والے علمائے کرام ایک بات یاد رکھیں کہ سوات کے ان درندوں پر تنقید یہ نہ تودینی مدارس پر تنقید ہے اور نہ ہی علمائے حق کے خلاف کوئی مہم۔ دین کے لبادے میں اگرکسی نے شیطان بن کر دین کو بدنام کیا ہے تو اب ایسے شیطانوں کو کنکر مارنے میں کیا حرج ہے۔؟ سوات کے ان موٹے تازے شیطانوں کے خلاف مذمتی الفاظ اور کنکریوں کو اگر کوئی قاری اور مولوی اپنے یا مدارس کے خلاف کوئی مہم سمجھتا ہے تو وہ اگر ان درندوں کا رشتہ دار، سہولت کار یا کوئی مرید نہیں تو پھر اس کو ان درندوں کے دفاع میں لال پیلا ہونے کے بجائے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئیے۔ مدرسے کے مہتمم اور اس کے قاریوں کے تشدد سے جان کی بازی ہارنے والا بدقسمت بچہ بھی آخر کسی کا لخت جگر تھا۔ اس معصوم کے جسم کو تشدد سے نیلا و کالا کرنے والے کیا اپنے بچوں کے ساتھ ایسا سلوک اور ظلم برداشت کریں گے۔؟ استاد تو روحانی باپ ہوتاہے یہ کیسے استاداورروحانی باپ تھے جوروحانی بیٹے کی جان ہی نکال گئے۔قال اللہ اورقال رسول اللہ کی تعلیم حاصل کرنے والے بچے کے ساتھ اگریہ ظالم یہ ظلم نہ کرتے توکوئی ان پردوحرف نہ بھیجتا۔ان کوکنکریاں اس لئے پڑرہی ہیں کہ انہوں نے کام ہی غلط کیا۔ مدرسے کامہتمم اورسربراہ جب خوددرندوں کادرندہ ہوپیچھے کیا بچتا ہے۔ ایسے مہتمم، ایسے قاریوں اور ایسے نام نہادمدرسوں کادینی مدارس اوردین سے کوئی تعلق نہیں۔ایسے درندے مدرسے میں ہوں،کسی سکول،کالج یاکسی یونیورسٹی میں سب پرایک نہیں ہزار اور لاکھ بار لعنت بھیجنے میں کوئی حرج نہیں۔ ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے نہ صرف ملک وقوم بلکہ مدارس اورہمارادین بھی بدنام ہو رہا ہے۔ دین میں کوئی سختی نہیں۔دین اسلام توشروع سے آخرتک پیار،محبت اورامن کادین ہے۔جولوگ اپنی درندگی اور جاہلیت کے باعث قوم کے معصوم بچوں کو تشدد کا نشانہ بنا کر لوگوں کو دین سے بدظن کر رہے ہیں ان لوگوں سے بڑھ کردین اوردینی مدارس کے بڑے دشمن اورکوئی نہیں۔ 

مزیدخبریں