احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں!

09:07 AM, 27 Jul, 2025

بارش تو اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوتی ہے لیکن اگر ہم کسی ایڈونچر، لالچ، بے ایمانی، تجاوزات یا قانون شکنی کے چکر میں اسے خود اپنے لیے زحمت بنالیں تو کسی کا کیا قصور؟
 ہر سال جولائی اور اگست کے مہینوں میں مون سون کی بارشیں ہوتی ہیں، اور کئی علاقے پانی میں ڈوب جاتے ہیں۔ ندی نالے اُبل پڑتے ہیں، پہاڑی علاقوں سے پانی کا ریلا نیچے کی بستیوں کو بہا لے جاتا ہے، اور بدقسمتی سے ہم ہر بار بے بس تماشائی بنے موت کے منظر کو دیکھتے ہیں۔اس بھی زیادہ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ہمارے پاس اضافی پانی کو ذخیرہ کرنے کے خاطر خواہ انتظامات موجود نہیں ہیں یہی وجہ ہے کہ ان دو ماہ میں سیلابی صورتحال سے دوچار ہونے کے بعد ہم پورا سال پانی کی کمی کا رونا روتے رہتے ہیں اور اس وجہ سے نہ صرف بین الاقوامی سطح پر کشیدگی قائم رہتی ہے بلکہ صوبوں کے درمیان بھی تناو کی صورتحال بنی رہتی ہے۔ 
حالیہ بارشوں نے بھی ملک کے مختلف حصوں میں بدترین تباہی مچائی ہے۔اب تک سیکڑوں قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ کہیں دیوار گر گئی، کہیں نالے میں گاڑی بہہ گئی، کہیں بچے چھت سے گر کر جان سے گئے اور کہیں بجلی کے کھمبوں میں کرنٹ آ گیا۔
اس تمام صورتحال کا شکار عمومی طور پر تین قسم کے لوگ ہو رہے ہیں ۔ پہلے وہ جو مقامی آبادی ہے اور سالہا سال سے انہیں علاقوں میں مقیم ہیں، دوسرے وہ جو کسی بھی وجہ سے تجاوزات کرتے ہیں اور پھر اپنے لیے اور دوسروں کے لیے نقصان کا باعث بنتے ہیںاور تیسرے وہ جنہیں حکومت کی جانب سے بار بار الرٹ جاری کیے جانے اور محتاط رویہ اختیار کرنے کی ہدایات کے باوجودایڈونچر سوجھا رہتا ہے ۔
اب سوال یہ ہے کہ ہر کچھ سال بعد اتنی بڑی تباہی اور نقصان کی وجوہات کیا ہیں اور ہم کیونکر اپنے آپ کو اس قدرتی آفت سے بچا نہیں پاتے ؟ کیا یہ سب کچھ اچانک ہو جاتا ہے؟ کیا ہمیں پہلے سے اطلاع نہیںہو پاتی؟ یا پھر ہم جانتے بوجھتے ہوئے خطرے کے سامنے سے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
برسات کا موسم شروع ہوتے ہی ہم خبروں میں دیکھتے ، پڑھتے اور سنتے ہیں کہ فلاں شہر میں اتنے لوگ جان سے گئے، فلاں گاؤں میں سیلاب نے تباہی مچا دی، اور فلاں خاندان ایک ہی دن میں اجڑ گیا۔ لیکن افسوس، ہم سیکھتے کچھ نہیں۔نہ جانے کتنی بار محکمہ موسمیات نے پیشگی وارننگ دیتا ہے، نہ جانے کتنی بار حکومت الرٹ جاری کرتی ہے کہ اس سال شدید بارشیں ہوں گی، نالوں سے دور رہیں، بجلی کے کھمبوں کے قریب نہ جائیں، نچلے علاقوں سے نکل جائیں، مگر مجال ہے جو ہم نے ان باتوں پر کان دھریں۔
جانے کیوں ہم سمجھتے ہیں کہ حالات چاہے جو بھی ہوں ہمیں کچھ نہیں ہوگا۔ پھر ہوتا یہ ہے کہ یہی بہادری ہمیں لے ڈوبتی ہے۔ جب پانی کا بہاؤ آتا ہے تو وہ یہ نہیں دیکھتا کہ کوئی نوجوان ہے، بچہ ہے یا بوڑھا ہے۔ وہ صرف راستہ بناتا ہے، اپنے راستے میں آنے والی ہر شے کو اپنے ساتھ بہا لے جاتا ہے۔
اب ہم حکومت کو کوسنے دیں یا پھر اداروں کو ذمہ دار ٹھہرائیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ سوات میں حادثہ کا شکار ہونے والی فیملی بھی سیلفی کے چکر میں اپنی جان گنوا بیٹھی تھی۔ قصوروار کوئی بھی ہو لیکن افسوس یہ ہے کہ حادثات تواتر سے ہو رہے ہیں۔ا بھی چند دن پہلے کراچی میں بارش کے دوران ایک شخص رکشے میں بیٹھا گھر جا رہا تھا۔سڑک پر پانی  جمع تھا۔ رکشہ ایک کھلے گٹر میں گر گیا۔ رکشے والا تو کسی طرح بچ نکلا، لیکن وہ شخص ڈوب گیا۔ اس کی لاش کئی گھنٹے بعد ملی۔یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ حادثہ روکا جا سکتا تھا اور اس شخص کی جان بچ سکتی تھی یا نہیں؟
لاہور میں ایک ماں اپنے بچوں کے ساتھ سکول جا رہی تھی۔ سڑک پر پانی تھا، بچے پھسل گئے، ایک بچہ وہیں کرنٹ لگنے سے دم توڑ گیا۔ کیا اس کا قصور یہ تھا کہ وہ سکول جا رہا تھا؟ اس قسم کے حادثات کی فہرست بہت لمبی ہے۔ لیکن مسئلہ صرف اتنا نہیں کہ یہ تسلسل کے ساتھ حادثات ہو رہے ہیں اور ہم ان سے کچھ سیکھ نہیں رہے۔
 اگلی بار پھر وہی غلطیاں، پھر وہی غفلت، اور پھر وہی افسوس۔ہم نے شاید اپنی زندگیوں کی قیمت گھٹا دی ہے۔ ہم چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ بارش ہو رہی ہو تو بھی ہم موٹر سائیکل پر نکل پڑتے ہیں چاہے سامنے کچھ دکھائی نہ دے رہا ہو، چاہے سڑک پر پانی کا بہاؤ ہو، مگر ہم باز نہیں آتے،ہمیں کوئی کام یاد آ جاتا ہے، کوئی سودا لینا ہوتا ہے، کسی دوست سے ملنے جانا ہوتا ہے، اور ہم نکل کھڑے ہوتے ہیں، جیسے کچھ مسلہ ہی نہیں۔ اور جب کچھ ہو جاتا ہے، تو سب کہہ دیتے ہیں کہ نصیب میں یہی لکھا تھا۔ کیا واقعی ایسا ہے؟ کیا خطروں سے چھیڑ خانی کرنے، بلا وجہ اپنی جان کو جوکھوں میں ڈالنے اور غیر ضروری طور پر اپنے آپ کو نامناسب حالات کے سامنے ایکسپوز کرنے کو نصیب کا لکھا قرار دینا چاہیے؟
حکومت کا قصور اپنی جگہ، اداروں کی نااہلی بھی اپنی جگہ لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ ہمارے اپنے رویے کیا ہیں؟  ہمیں خود سے بھی تو سوال کرنا چاہیے کہ ہم کیا کر رہے ہیں؟ کیا ہم نے احتیاطی تقاضے پورے کیے؟بارش سے پہلے اگر ہم اپنے گھروں کی چھتیں چیک کریں، نالے صاف کرائیں، بجلی کے تاروں سے دور رہیں، اپنے بچوں کو سمجھائیں کہ پانی کے قریب نہ جائیں اورنامناسب موسمی حالات میں غیر ضروری طور پر تفریحی مقامات کا رخ نہ کریں تو شاید کئی جانیں بچ بھی سکتی ہیں۔
کام پر جانا  ہو، روزی کمانی ہو یا پھر کسی ایمرجنسی میں بعض اوقات گھر سے نکلنا ناگزیر ہو جاتا ہے،لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ احتیاط تو کی ہی جا سکتی ہے۔ سکول سے ایک دن کی چھٹی، آفس تھوڑا دیر سے جانا یا روزمرہ کے کاموں کو ملتوی کر دینا اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے سے کہیں بہتر آپشن ہے۔
 کسی اور کی کیا بات کروں میں خود بارشوں کے موسم سے پہلے چھتوں کی مکمل چیکنگ کرتا ہوںاور اگر درکار ہو تو مرمت کرواتا ہوں، سڑک پر پانی کھڑا ہونے کی صورت میں کسی حکومتی اہلکار کا انتظار کیے بغیر مختلف آلات کی مدد سے ڈرین کھولتا ہوں۔
 محلہ کے بچوں کو سمجھاتا ہوں کہ پانی میں نہ کھیلیں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہیں۔ افسوس کہ آس پاس کے لو گ مجھے یہ سب کرتا ہوا دیکھتے ہیں لیکن کوئی بھی ہاتھ بٹانے یا مدد کرنے کے لیے آ گے نہیں آتا۔
ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ صرف حکومت پر تنقید کرنے یا اسے کوسنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ ہمیں اپنی جانوں کی حفاظت خود کرنی ہوگی۔ہمیں اپنے گھروں ، محلوں ، اسکولوں میں، مسجدوں ، کام کی جگہوں غرض ہر جگہ یہ شعور پیدا کرنا ہوگا کہ احتیاط ہی زندگی ہے۔ ہر سال جانوں کا ضیاع صرف قدرتی آفت سے نہیں بلکہ ہماری کوتاہی سے بھی ہوتا ہے لہذا احتیاط کریں۔

مزیدخبریں