کہانی تو کافی حد تک کھل ہی چکی کہ سینیٹ آف پاکستان کے فلور پر وفاقی وزیرڈاکٹر طارق فضل چودھری کا پالیسی بیان ریکارڈ کا حصہ ہے۔ابھی تک جو معاملہ سامنے آیا ہے اس کو دیکھ کر یہی کہا جاسکتا کہ ’’حیراں ہوں دل کو رووں کہ پیٹوں جگر کو میں‘‘میں نے انہی صٖفحات میں لکھتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان میں خرابیاں بھی ہیں لیکن اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ یہاں سب کچھ ہی خراب ہے بلکہ پاکستان میں بہت کچھ اچھا بھی ہے ۔گزشتہ ہفتے کے کالم میں، میں نے انہی اچھے اقدامات کے ذریعے معاشی میدان میں ہوئی بہتری کے اشاریے اور ثمرات کا تذکرہ کیا تھاساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ میں مایوس نہیں ہوں اور اگر کوئی قابل تنقید بات سامنے آئی تو اس پر تنقید بھی ہوگی ۔
اب یہ نشوو نماپروگرام کا قصہ کچھ یوں ہے کہ ہمارے ایک وزیرخزانہ ہوتے تھے جناب مفتاح اسماعیل صاحب ۔ جب نوازشریف کو دوہزار سترہ میں نااہل کیا گیا تو شاہد خاقان عباسی وزیراعظم بنے ۔وزیرخزانہ اسحاق ڈار بھی ملک سے چلے گئے تو مفتاح اسماعیل کو وزیرخزانہ بنایا گیا۔مفتاح عباسی حکومت کے خاتمے تک وزیرخزانہ رہے اس کے بعد جب عمران خان صاحب کی حکومت ختم ہوئی اور پی ڈی ایم نے اقتدا ر سنبھالا تو ایک بار پھر شہبازشریف نے بطور وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا ہی انتخاب کیا۔پاکستان میں غربت کے خاتمے کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو آئینی اور قانونی تحفظ حاصل ہے یہ پروگرام پیپلزپارٹی نے شروع کیا اور اب تک یہ اربوں روپے کا پروگرام جاری ہے۔اس پروگرام میں بہت سی جعل سازیوں کے ذریعے غریب خواتین کے لیے مختص رقم صاحب ثروت افراد کے گھروں تک پہنچنے کے قصے بھی سامنے آچکے ہیںلیکن ساتھ ساتھ اس کی تطہیر کا کام بھی جاری رہتا ہے۔ اب سینیٹ کے فلور پر اسی پروگرام میں مفادات کے ٹکراؤ اور کرپشن کی کہانی سامنے لائی گئی ہے۔
ویسے تو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا اانتظام الگ وزارت کرتی ہے لیکن وزیرخزانہ کو اس میں مرکزی کردار ملاہوا ہے۔سینیٹ کو بتایا گیا بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ایک ’’نشوونماپروگرام‘‘ ہے جو اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام کے تحت چلتا ہے۔یعنی اس کی فنڈنگ عالمی ادارہ خوراک کرتا ہے۔وہی ادارہ ایسی خواتین جو غذائی قلت کا شکار ہیں ان کو فوڈ سپلیمنٹ فراہم کرتا ہے۔ اور یہ ادارہ دنیا بھر میں یہ پروگرام چلاتا ہے ۔سینیٹ میں دستیاب دستاویزات اور سوالوں کے تحریری جوابات سے حاصل معلومات کے مطابق دوہزار بائیس تک عالمی ادارہ خوراک براہ راست خود خرید کر یہ غذائی سپلیمنٹ پاکستانی خواتین کو بھی فراہم کرتا تھا لیکن دوہزار بائیس میں جب مفتاح اسماعیل صاحب دوسری بار وزیر خزانہ تھے تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان اس مفت تعاون کی بجائے بے نظیر انکم سپورٹ کے اپنے فنڈ سے خود خریدکر خواتین کو فراہم کرے گا۔فیصلہ انہوں نے کردیا لیکن حیران کن طوپر اس وقت کی وفاقی کابینہ کو اس پر اعتماد لیا اور نہ ہی کوئی اوپن ٹینڈر اس خریداری کے لیے دیا گیا اور نہ ہی پیپرا رولز کی پاسداری ضروری سمجھی گئی اور پھر سونے پہ سہاگہ یہ کہ اس کام کے لیے صرف ایک کمپنی کو منتخب کرلیا گیا جو خود وزیرخزانہ کے خاندان کی ملکیت ہے۔یعنی غذائی سپلیمنٹ کی تیاری بھی یہی انڈسٹری کرے گی اور ترسیل بھی حکومت پاکستان ا س کمپنی سے خریداری کرکے اس کو غذائی قلت کاشکار خواتین کو فراہم کرے گی ۔اس پر بھی مستزاد یہ پہلے اس کام کے لیے صرف دوارب روپے کا بجٹ تھا لیکن وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل صاحب نے یہ بجٹ دو سے بڑھا کر اکیس اعشاریہ پانچ ارب روپے کردیا۔یعنی ٹھیکہ اپنی کمپنی کو دیا تو بجٹ میں بھی بیس ارب کا اضافہ کردیا ۔سینیٹ کو یہ بھی بتایا کہ اب تک اس مد میں ستانوے ارب روپے خرچ کیے جاچکے ہیں۔
اب یہ کہانی سینیٹ آف پاکستان کے فلور پر بتائی گئی ہے،سرکاری کاغذوں میں اس کا ریکارڈ موجود ہے ۔مفتاح اسماعیل صاحب کی شہرت ایک ایسے شریف آدمی کی ہے جو باقی سب کو بدمعاش ہی سمجھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے معاشی مسائل کا حل ان کے پاس ہے اور صرف انہی کے پاس ہے۔وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اسحاق ڈار نے انہیں چلنے نہیں دیا اور ان سے وزارت بھی چھین لی اس لیے وہ شہاز شریف کا ساتھ چھوڑ گئے ۔ایک ضمنی الیکشن انہوں نے کراچی سے لڑا لیکن وہ بہت کم مارجن سے ہار گئے ۔اس کے بعدانہوں نے مسلم لیگ ن کو چھوڑ دیا اور آج کل شاہد خاقان عباسی کے ساتھ ان کی پارٹی پاکستان عوام پارٹی کے سیکریٹری جنرل ہیں۔مجھے ان کے سیاسی نظریات سے کوئی خاص غرض نہیں ہے ۔وہ اخلاقی برتری کی سیاست کرتے ہیں۔ وہ اس ملک سے محبت کی بات کرتے ہیں وہ اس ملک کا نظام ٹھیک کرنے کی بات کرتے ہیں۔یہ نشوونما پروگرام کے شاشے کی تیار ی کے لیے اپنی کمپنی کو ٹھیکہ بغیر کسی قانونی عمل سے گزرے دینے کا ان کے پاس اختیار بھی ہوگاجس کا انہوں نے بظاہر استعمال کیا ۔ان کے پاس اس کام کا کوئی نہ کوئی جواز بھی ہوگا۔ اس انکشاف کے بعد ان کی طرف سے بھی کوئی جواب لازمی آئے گا ۔ یہ کام اگر درست بھی ہو تو پھر بھی میرے نزدیک یہ غلط ہی ہوگا۔
اس کام کے غلط ہونے کی بہت سی وجوہات ہیں۔ایک تو یہ کہ جب آپ اخلاقی برتری کی سیاست کرتے ہیں خود کو اعلیٰ اور دوسروں کے کردار پر سوال کرتے ہیں تو آپ کا اپنا کردار بہت زیادہ صاف ہونا ناگزیر ہے ورنہ آپ کا حال جناب عمران خان صاحب جیسا ہوجائے گاجو دوسروں پر چور ڈاکو ہونے کا الزام لگاتے سیاست میں آئے اور خود جیل میں جابیٹھے ۔دوسرایہ کہ اگر یہ کام قانونی طورپر بالکل درست بھی ہوپھر بھی یہ مفادات کا ٹکراؤ ہوتا ہے جو کرپشن کی ہی ایک قسم ہے کہ آپ کے پاس اختیار تھا تو آپ نے مقابلہ ہی نہیں ہونے دیا۔ آپ نے ایک ہی کمپنی کو سارا مال دے دیا اور پھر جب اپنی کمپنی کو مال بنانے کا ٹھیکہ دیا تو احساس ہوا کہ ٹھیکہ تو مل گیا ہے لیکن کام او ردام کم ہیں تو وزیر خزانہ کا اختیار استعمام کیا اور بجٹ دو سے بڑھاکر بیس کردیا ۔یعنی ’’ہینگ لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا‘‘۔
میں اس لیے بھی حیران ہوا کہ ایک کام جو ورلڈ فوڈ پروڈ پروگرام خود کرتا ہو اس کو عالمی اداہ خوراک سے مفت حاصل کیے رکھنے کی بجائے خود حکومت پاکستان کے خزانے سے رقم خرچ کرنے کا فیصلہ کیوں کیا گیا ؟ یہ تو ایسے ہی ہے کہ پاکستان میں پولیو ختم کرنے کے لیے عالمی ادارہ صحت فنڈنگ فراہم کرتاہے۔ اس کے ساتھ دوسرے ڈونر ز ہیں جو معاونت کرتے ہیں تو پاکستان ایک دن اٹھے اور کہے کہ ہمیں کسی قسم کی مدد نہیں چاہئے ہم خود ہی پولیو کی ویکسین بنائیں گے یا امپورٹ کریں گے اور خود ہی بچوں کو لگالیں گے اور اس کام کے لیے اربوں روپے اپنے بجٹ میں رکھ دے؟کیا یہ عقلمندی کا سودا ہوگا یا خسارے اور بے وقوفی کا ؟ مجھے تو بے وقوفی ہی لگتی ہے لیکن مفتاح صاحب کا تعلق کراچی کے میمن خاندان سے ہے وہ خسارے کا سودا کرنے والے تاجر ہی نہیں ہیں پھر انہوں نے ایسا کیوں کیا ؟ یا پھر یہ گمان کرلیا جائے کہ انہوں نے اپنے لیے تو خسارے کا سودا نہیں کیا اپنے لیے تو منافع ہی منافع کمایا ہاں جس عہدے پر تھے اس عہدے اور پاکستان کے لیے خسارے کا سودا کرگئے ۔اس کا جواب اور احتساب ہونا چاہئے۔
نشوونماپروگرام
09:07 AM, 27 Jul, 2025