میڈرڈ: یورپی ملک سپین نے تارکینِ وطن کے حوالے سے اپنی پالیسی میں بڑی نرمی لاتے ہوئے 5 لاکھ غیر قانونی مقیم افراد کو شہریت اور قانونی حیثیت دینے کا عمل شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔اس سے 5 لاکھ غیر دستاویزی تارکینِ وطن مستفید ہوں گے۔ قانونی حیثیت ملنے کے بعد یہ افراد کسی بھی شعبے میں ملازمت کر سکیں گے۔
سپین نے سخت قوانین کے بجائے "انسانی حقوق اور معاشی ضرورت" کو ترجیح دی ہے۔ اس اسکیم میں وہ افراد شامل ہو سکیں گے جو گزشتہ 5 ماہ سے اسپین میں موجود ہیں اور ان پر کوئی مجرمانہ مقدمہ درج نہیں ہے۔ اس فیصلے میں تارکینِ وطن کے بچوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
درخواستوں کی وصولی کا آغاز اپریل 2026 سے متوقع ہے جو جون کے آخر تک مکمل کر لیا جائے گا۔
ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے واضح کیا کہ ملک میں نوجوان افرادی قوت کی کمی ہے اور آبادی تیزی سے بڑھاپے کی طرف جا رہی ہے، جس کے باعث معیشت کا پہیہ چلانے کے لیے تارکینِ وطن کو سسٹم کا حصہ بنانا ناگزیر ہے۔
اگرچہ سپین کی دائیں بازو کی اپوزیشن جماعتوں نے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے مزید غیر قانونی آمد کا سبب قرار دیا ہے، تاہم حکومت نے پارلیمانی ووٹنگ کے بجائے اسے صدارتی فرمان کے ذریعے نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ فوری نتائج حاصل کیے جا سکیں۔
سپین میں لاکھوں تارکینِ وطن کی موجیں، 5 لاکھ افراد کو ورک پرمٹ دینے کی تیاری
08:17 PM, 27 Jan, 2026