تیراہ سے نقل مکانی خود صوبائی حکومت کا فیصلہ تھا، کسی آپریشن کا وجود نہیں: خواجہ آصف

05:53 PM, 27 Jan, 2026

اسلام آباد: وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے خیبرپختونخوا حکومت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک افغان سرحد سے ملحقہ علاقوں میں برفباری کے باعث نقل مکانی ایک تاریخی روایت ہے اور حالیہ اقدام خود صوبائی حکومت کے جاری کردہ نوٹیفکیشن اور جرگے کے فیصلوں کے تحت اٹھایا گیا ہے۔
خواجہ آصف نے پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ     نقل مکانی کا فیصلہ 11 دسمبر کو ہونے والے جرگے میں کیا گیا جس میں 26 کے قریب مشران نے شرکت کی۔    ان مشران کی صوبائی حکومت کے نمائندوں سے ملاقات کے بعد ہی متاثرہ افراد کے لیے 4 ارب روپے کا امدادی پیکیج منظور ہوا۔    یہ تمام عمل دستاویزی صورت میں موجود ہے، لہٰذا اسے فوجی آپریشن کا رنگ دینا سراسر جھوٹ ہے۔
وزیرِ دفاع نے ایک تشویشناک نکاط کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ 12 ہزار فٹ کی بلندی پر بھنگ کی کاشت کی جا رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس غیر قانونی کاروبار سے حاصل ہونے والی خطیر رقم کالعدم ٹی ٹی پی اور مقامی سیاسی عناصر کی مالی معاونت کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

انہوں نے صوبائی انتظامیہ کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ علاقے میں ہسپتال، سکول اور تھانوں کا نہ ہونا حکومت کی نااہلی ہے۔ جرگے میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کا وعدہ کیا گیا تھا جس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت اپنی ناکامیوں کا ملبہ سکیورٹی اداروں پر ڈال کر عوامی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔

مزیدخبریں