غزہ بورڈ : آدمی اب ہمارا دمِ تحریر بھی ہو گا 

09:05 AM, 27 Jan, 2026

تحریک طالبان پاکستان سے لڑے گی اور افغان طالبان اور بھارت اُن کا معاون ومددگار ہو گا لیکن اس جنگ پر تحریک انصاف کو اعتراض ہے کہ جنگ کے بجائے دہشتگردوں سے مذکرات کیے جائیں اور فوج کو کے پی کے میںکسی صورت آپریشن کی اجازت نہیں دیں گے ۔ تحریک انصاف کا یہ موقف نیا نہیں بلکہ عمران نیازی کا حقیقی ¾ مسلسل اور نا قابل ِ تردید موقف صرف یہی ایک ہے جس سے اُس نے آج تک یو ٹرن نہیں لیا۔ اس تواتر اور تسلسل سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ عمران نیازی کے سیاسی ویژن میں تحریک طالبان پاکستان کی کیا اہمیت ہے اور ضرب عضب کی بھاگی ہوئی طالبانی بلاﺅں کو کے پی کے میں لا کر کیوں بسایا گیا ؟طالبان افواج پاکستان پر حملے کریں یا منشیات کی سمگلنگ میں مال حفاظت سے پہنچانے کی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے افواج پاکستان کے جوانوں اور افسروں کو شہید کریں ¾ وہ پی ٹی آئی کے طاقتورترین عہدیداروں سے بھتہ لیں یا پھر امن جرگہ کے لوگوں کو شہید کریں ¾ پی ٹی آئی ”اپنے ان بچوں“ کوکوئی گزند نہیں پہنچنے دے گی۔ پاک بھارت جنگ شروع ہو جائے اورپاکستان بھارت کی کھلی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے تو عمران نیازی کی بہن اُسے نورا کشتی سے تعبیر کرے۔ یعنی طالبا ن یا بھارت سے جنگ ہو گی تو پی ٹی آئی افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی نہیں ہو گی۔
 1990 کی دہائی میں جب افغانستان میں طالبان پہلی بار ابھر کر سامنے آئے تو مولانا فضل و الرحمان کی جماعت اُن کی ہم خیال ¾نظریاتی اور مذہبی تعلقات کا اشتراک تھی کیونکہ دونوں ہی اسلامی قانون کی سخت تشریح کے حامی تھے۔ فضل الرحمان، دیگر پاکستانی مذہبی جماعتوں کے ساتھ، ابتدائی طور پر طالبان کے عروج کو ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھتے تھے اور افغانستان میں اسلامی نظام کے قیام کی جانب ایک قدم کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔گزرے برسوں کے دوران مولانا فضل الرحمان نے طالبان قیادت کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھا۔ خاص طور پر جب اس گروپ نے 1996 سے 2001 تک افغانستان کو کنٹرول کر رکھا تھا۔ مولانا نے اکثر افغانستان پر امریکی قیادت میں حملے پر تنقید کی اور طالبان حکومت کی حمایت کا اظہار بھی۔ عمران نیازی اور مولانا فضل الرحمان میں یہی واحد قدر مشترک رہی ہے کہ دونوں نے افغانستان میں فوجی کارروائی کے بارے میں پاکستانی حکومت کے موقف کی مخالفت کی۔ مولانا طالبان کے نظریے کے حامی ہونے کے باوجود بعض اوقات ان کے ہتھکنڈوں پر تنقید بھی کرتے رہے لیکن تشدد کی مخالفت سے زیادہ انہوں نے ہمیشہ طالبان کی وکالت ہی کی ۔
غالب نے کہا تھا :
پکڑ ے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق
آدمی کوئی ہمارا دمِ تحریر بھی تھا؟
غزہ بورڈ میں شرکت پر پاکستان میں کچھ سیاستدانوں کو جو اعتراض اور تکلیف ہے اُس کی دو بڑی وجوہات ہیں ۔اول :ایسے لوگ سفارتی کاری ¾ اُس کے طریقہ کار ¾ خارجی معاملات اور اُس کے اختیارات کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ۔ دوم: وہ ہیں جن کی زندگیوں کا مقصد ہی عوام کو گمراہ کرنا یا پھر انارکی پھیلانا اور عام پاکستانی کو بے چین رکھنا ہے ۔ ورنہ دنیا میں کون کم عقل ہو گا جو خارجہ پالیسی کے کسی فیصلے پر ریفرنڈم کی بات کرے گا او ر اُس سے بڑا لطیفہ تو یہ ہے کہ یہ وہی لوگ ہیںجو کل تک پرویز مشرف کے ریفرنڈم میں دھمال ڈال رہے تھے اور وزارت عظمیٰ کی واسکٹ سلوا کربیٹھے تھے ۔دنیا جانتی ہے کہ ہم اسرائیل کو نہ صرف ریاست تسلیم نہیں کرتے بلکہ اُسے اعلانیہ جابر ¾ غاصب اور قاتل ریاست کہتے بھی ہیں ۔ ترکی جیسے دوست ممالک اُسے کب کا تسلیم کیے بیٹھے ہیں لیکن ہمارا موقف غزہ کے بھائیوں کیلئے دنیا میں سب سے زیادہ مضبوط ہے ۔غزہ بورڈ میں پاکستان کی موجودگی اقوام متحدہ، او آئی سی اور دیگر فورمز پر فلسطینیوں کے حقوق کیلئے پاکستان کی آواز کو مزید توانا اور طاقتور بنا دے گا۔ پاکستان کو علاقائی حریفوں کیلئے جگہ چھوڑنے کے بجائے ایک اجتماعی مسلم موقف کی تشکیل میں مدد ملے گی۔پاکستان پناہ گزینوں کے انتظامات ¾ ڈیزاسٹر ریلیف (زلزلے، سیلاب) ¾اقوام متحدہ کی امن اور انسانی ہمدردی کی ہم آہنگی اور غزہ کی تعمیر نو، امداد کی ترسیل اور شہری تحفظ کے طریقہ کار میں افواج ِ پاکستان یعنی پاکستان کے کردار کو مزید اہم اور اہل ِ غزہ کو محفوظ بنادے گا ۔میرے ذاتی خیال کے مطابق ٹرمپ پاکستانی فوج غزہ میں رکھ کر اسرائیل کی کھلی بدمعاشی کو بھی ختم کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسرائیل اگردنیا کیلئے خطرہ ہے تو اسی دنیا میں امریکہ بھی آباد ہے اور امریکی اتنے بیوقوف بھی نہیں کہ دو متخارب گروپوں کو ایک ہی بورڈ میں رکھ لیں اور اُن کے کوئی مقاصد نہ ہوں۔ اس طرح غزہ کے عوام کی ہر خبر ہمیں اپنے لوگوں سے ملتی رہے گی ۔اس بورڈ میں فعال شرکت سے پاکستان کا امیج بہتر ہوگا ۔ایک ذمہ دار بین الاقوامی اداکار ¾ امن پر مبنی ریاست نہ کہ صرف رد عمل والی ریاست ¾عالمی میڈیا میں پاکستان سے منسلک منفی بیانیے کا مقابلہ کرنے میں مدد ملے گی ۔غزہ بورڈ میں شمولیت پاکستان کو زیادہ موقع فراہم کرتی ہے کہ 
فلسطین کے ساتھ زیادہ سے زیادہ یکجہتی برقرار رکھ سکے ۔غزہ بورڈ پاکستان کو گلوبل سا¶تھ، مسلم ریاستوں اور بین الاقوامی اداروں کے درمیان ایک پل بننے کا موقع دے رہا ہے جو میں سمجھتا ہوں کہ زیادہ عزت کی بات ہے۔بین الاقوامی قوانین کی پاکستان نہ صرف حمایت کرتا ہے بلکہ اُس کا پُر زور وکیل بھی ہے ۔ہم اپنا مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرانا چاہتے ہیں۔ ان اصولوں سے ہم آہنگ غزہ بورڈ پاکستان کے قانونی اور سفارتی بیانیے کے عین مطابق ہے اور ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اقوام متحدہ میں ہم گزشتہ سات دہائیوں سے زائد عشروں سے اسرائیل کے ساتھ ہی موجود ہیں ۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار ہماری فوج اسرائیلیوں کے سروں پر بیٹھی ہو گی جس کی موجودگی غزہ کے لوگوں کے احساس ِ تحفظ میں اضافہ کرے گی۔ جس سے عام پاکستانی کی حمایت بھی ریاست کوزیادہ توانا آواز میں میسر آئے گی۔ اِن تمام باتوں کے باوجود جو ریاست مخالف بیانیہ پھیلانے والوں کا ایجنڈا چونکہ پاکستان اوراس کے عوام نہیں ہیں سو وہ نت نئے طریقوں سے اس بہترین اقدام کو اپنے منفی پروپیگنڈا کی بھینٹ چڑھانا چاہتے ہیں لیکن ایسا قیامت کی صبح تک نہیں ہو گا کہ پاکستان انتہائی مضبوط ہاتھوں میں ہے اور غیر ملکی ایجنٹوں کی شکست لوح ِ محفوظ پر لکھی جا چکی ہے۔

مزیدخبریں