ڈیوس میں مارک کارنی کی فکر انگیز اور کلاسک تقریر

09:04 AM, 27 Jan, 2026

عالمی سیاست ایک بار پھر ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں طاقت، جغرافیہ اور ریاستی مفادات کے درمیان توازن بگڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد اقوامِ متحدہ، بین الاقوامی قوانین اور ریاستی خودمختاری کے اصولوں پر قائم ہونے والا عالمی نظام آج ایک سنجیدہ امتحان سے گزر رہا ہے۔ بڑی طاقتوں کی جانب سے دبا، دھمکی اور توسیع پسندانہ رویے اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ سامراجیت اور غصب کی تاریخ ختم نہیں ہوئی۔ ایسے غیر یقینی ماحول میں ڈیوس میں کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی کی تقریر محض ایک سیاسی ردِعمل نہیں بلکہ ایک فکری، اصولی اور اخلاقی مداخلت کے طور پر سامنے آتی ہے، جسے بجا طور پر کلاسک قرار دیا جا سکتا ہے۔
مارک کارنی کی تقریر کی اصل اہمیت اس بات میں مضمر ہے کہ وہ اب ایک مخصوص ملک تک محدود نہیں تھی۔ بظاہر گرین لینڈ اور کینیڈا کے حوالے سے دیے گئے بیانات کے تناظر میں یہ خطاب سامنے آیا، مگر درحقیقت یہ ابھرتی ہوئی اس سوچ کے خلاف ایک واضح اور مدلل ردِعمل تھا جس میں طاقتور ریاستیں جغرافیے کو سودے بازی اور دباﺅ کا موضوع سمجھنے لگی ہیں۔ یہ طرزِ فکر بین الاقوامی قانون کے اس بنیادی اصول سے متصادم ہے جس کے مطابق ریاستوں کی سرحدیں، خودمختاری اور سیاسی آزادی ناقابلِ سودا ہوتی ہیں۔
ماضی میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کو خریدنے جیسے بیانات کو سیاسی مزاح یا غیر سنجیدہ گفتگو سمجھ کر نظرانداز کیا گیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ ایسے بیانات ریاستی رویوں میں موجود ایک خطرناک تصور کی عکاسی کرتے ہیں۔ زبان محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ طاقت کے اشارے بھی ہوتی ہے۔ مارک کارنی نے اسی نکتے کو سمجھتے ہوئے اس بیانیے کا جواب جذبات سے نہیں بلکہ دلیل، اصول اور منطق کے ساتھ دیا، جس کی وجہ سے ان کی تقریر ایک فکری دستاویز کی حیثیت اختیار کر گئی۔
یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ کیا محض ایک تقریر کسی ممکنہ جارحیت کو روک سکتی ہے؟ عسکری نقطہ نظر سے اس کا جواب شاید نفی میں ہو، مگر سفارتی اور نظریاتی سطح پر اس کے اثرات غیر معمولی ہوتے ہیں۔ عالمی رائے عامہ، اخلاقی دباﺅ اور سفارتی تنہائی کسی بھی بڑی طاقت کے لیے جارحانہ اقدامات کو مہنگا بنا دیتی ہے۔ مارک کارنی نے گرین لینڈ کے معاملے کو امریکہ اور ڈنمارک کے درمیان ایک محدود تنازع کے بجائے نیٹو، یورپ اور عالمی سلامتی کے وسیع تر فریم ورک میں لا کھڑا کیا، جس سے کسی بھی یکطرفہ اقدام کی سیاسی اور اخلاقی قیمت میں اضافہ ہوا۔
کارنی کی تقریر کا ایک مضبوط علمی پہلو اجتماعی سلامتی کے تصور سے جڑا ہوا تھا۔ انہوں نے بالواسطہ طور پر اس خوش فہمی کی نشاندہی کی جو سرد جنگ کے خاتمے کے بعد مغربی دنیا میں پیدا ہو گئی تھی کہ اب طاقت کے استعمال کا دور ختم ہو چکا ہے۔ مگر یوکرین کی جنگ، مشرقِ وسطی کی مسلسل کشیدگیاں اور امریکہ کی شمالی خطوں میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی دلچسپی اس خوش فہمی کو چیلنج کر رہی ہیں۔ کارنی کا عالمی قیادت کے لیے پیغام واضح تھا کہ کسی بھی ملک کی سلامتی کو دوسروں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔
 اگر یورپ نے اپنی دفاعی صلاحیت، سیاسی وحدت اور اسٹریٹجک خودمختاری کو سنجیدگی سے نہ لیا تو وہ مستقبل میں امریکی دبا اور بلیک میلنگ کا آسان شکار بنتا رہے گا۔ یہ مو¿قف محض سیاسی تجویز نہیں بلکہ بین الاقوامی تعلقات کے حقیقت پسندانہ نظریات کا عملی اظہار ہے۔
کینیڈا کے تناظر میں کارنی کی تقریر نے ریاستی وقار اور خودمختاری کے تصور کو ایک نئے انداز میں پیش کیا ہے۔ انہوں نے کینیڈا کو کسی کمزور یا خوف زدہ ریاست کے طور پر نہیں بلکہ ایک ذمہ دار، بااصول اور خوداعتماد ملک کے طور پر پیش کیا۔ ان کے مطابق جدید دنیا میں خودمختاری صرف فوجی طاقت سے ہی نہیں بلکہ مضبوط اداروں، معاشی استحکام، قانونی بالادستی اور فعال سفارت کاری سے محفوظ رہتی ہے۔
کارنی کا اسلوب خاص طور پر قابلِ توجہ تھا۔ انہوں نے براہِ راست محاذ آرائی یا اشتعال انگیزی سے گریز کیا اور بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور ریاستی برابری کے اصولوں کو بنیاد بنا کر ایسا بیانیہ تشکیل دیا جو جارحانہ سیاست کو خود بخود دفاعی پوزیشن میں لے آتا ہے۔ یہ دراصل عسکری طاقت کے مقابلے میں اصولوں کی طاقت کا اظہار تھا۔ کینیڈین وزیراعظم کی ڈیوس میں کی جانے والی تقریر نے امریکی صدر ٹرمپ کو گرین لینڈ کے حوالے سے دو قدم پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا ہے۔ 
انہوں نے خوف کی سیاست کی اور نہ جنگ کے نعروں کا سہارا لیا، مگر اصولوں کے زوال کے نتائج کی واضح نشاندہی ضرور کی۔ ان کا استدلال سادہ مگر گہرا تھا۔ جب معاہدے بے معنی ہو جائیں، عالمی قوانین کو نظرانداز کیا جائے اور کمزور ریاستوں کی خودمختاری کو ثانوی حیثیت دی جائے تو منہ زور طاقت کا بے لگام استعمال تباہ کن ہو جاتا ہے، اور یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں عالمی نظام عدم استحکام کا شکار ہو جاتا ہے۔
مارک کارنی کی تقریر کو کسی فوری یا انقلابی کامیابی کے بجائے ایک طویل المدتی فکری سمت کے تعین کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے توسیع پسندانہ سیاست کو نہ صرف چیلنج کیا بلکہ اسے سیاسی اور سفارتی سطح پر بے نقاب بھی کیا ہے۔ آج کے دور میں قیادت کا معیار جارحانہ بیانات نہیں بلکہ اصولوں اور سرحدوں کا دفاع ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب دنیا دوبارہ طاقت کی زبان کی طرف مائل ہو رہی ہے۔امریکہ جیسے منہ زور ممالک کی سامراجیت سے بچاﺅ کیلئے پائیدار سلامتی عسکری و اقتصادی طاقت سے ہی نہیں بلکہ قانون، باہمی تعاون اور اصولوں سے بھی جنم لیتی ہے۔ آج جیسے غیر یقینی عالمی ماحول میں مارک کارنی جیسی قیادت عالمی استحکام کے لیے ناگزیر ہوتی جا رہی ہے۔

مزیدخبریں