عرفان صدیقی صاحب ۔ یادیں اور باتیں۔۔!

09:04 AM, 27 Jan, 2026

برادر مکرم و محترم عرفان صدیقی مرحوم و مغفور کے بارے میں یادوں اور باتوں کے سلسلے کے تحت کم و بیش بائیس ، تئیس کالم چھپ چکے ہیں۔ اس کے لیے میں اپنے اخبار روزنامہ "نئی بات " کا جہاں تہہ دِل سے ممنون ہوں وہاں اس سلسلے گو مزید ایک دو کالموں کے بعد ختم کرنا چاہتا ہوں۔ آج کے کالم میں ہمارے مختصر حلقہ احباب کی ایک انتہائی پیاری اور قابلِ قدر شخصیت عزیزِ گرامی ڈاکٹر ندیم اکرام کے عرفان صاحب کے بارے میں کچھ عرصہ قبل "استاد محترم عرفان صدیقی ۔۔۔منبع شفقت و تربیت و تخلیقیت " کے عنوان کے تحت لکھے ایک مفصل ، دلربااور خوبصورت مضمون کے ابتدائی حصے کو کچھ معمولی تبدیلیوں "ہے" ، " ہیں " وغیرہ کو" تھے" ، " تھی "میںتبدیل کرتے ہوئے پیش کیا جا رہا ہے۔ اس طرح آج کا کالم اگرچہ میرے سرنامے کے ساتھ چھپ رہا ہے لیکن حقیقت میں یہ عزیز گرامی ڈاکٹر ندیم اکرام کی تحریر ہے اور اسے ان کا لکھا ہوا کالم ہی سمجھا جانا چاہیے بلکہ داد بھی دی جانی چاہیے کہ کیسے خوبصورت الفاظ اور پُر کشش اندازِ بیان کے ساتھ ڈاکٹر ندیم اکرام نے اپنے اُستاد گرامی محترم عرفان صدیقی کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ وہ رقم طراز ہیں ۔۔۔" زندگی جن شخصیات کے جَلو میں گزری یا گزر رہی ہے اُن کا قرض اتارنا ممکن نہیں۔یقینا یہ امر خوش قسمتی کا باعث پائے گا کہ اگر ایسے لوگوں کی صحبت و شفقت میسر آ جائے جن سے کسبِ فیض شاہراہِ حیات پر سہولت کا سامان بہم کرے۔ اُستاد ِ محترم جناب عرفان صدیقی سے جو فیض حاصل ہوا ہے، تحدیث نعمت کے طور پر، اس کا ذکر فرض بنتا ہے۔ اُستادِ محترم کے طفیل ہمیںرہنمائی میسر ہوئی۔ اُن کی بدولت نظریات و خیالات کو سنورنے کا موقع ملا۔ یہ کہنے میں باک نہیں کہ آپ کی مشفق و مہربان شخصیت کو ہر موقع پر مشعلِ راہ کے طور پر لیا۔ آپ اس شجرِ سایہ دار کی مانند تھے جس کے سائے میں ہم جیسے درماندہ راہ، پل بھر کو سستا لیتے تھے۔ ایک چشمہ¿ فیض کہ جس کے شیریں جُرعے روحانی پیاس بجھانے کی سبیل بنتے تھے۔ ایک نغمہ¿ دل آویز کہ جو باعث تسکین و قلبِ وجاں ہے۔ فکر و دانش کا وہ منبع کہ جس سے راستی و رہنمائی کے ہمہ جہت دریچے وا ہوتے چلے جاتے تھے۔ عرفان صاحب کے پر تو میں مسائل سے وسائل ، تشکیک 
سے تشکیل، سبب سے اسباب، scratch سے to be star سبھی کچھ کی جھلک نظر آتی تھی۔ یہ سب کچھ حاصل کرنے کے لیے آپ نے شب و روز کی اک اک بوند کو نچوڑا، جسم و جاں کی توانائیاں صرف کیں، روحانی ، نظریاتی اور جائز دنیاوی تقاضوں کو سمجھا اور ما شاءاللہ اپنے پیکرِ بے مثال میں اسکو سمویا۔یادیں قطاریں باندھے کھڑی ہیں کہ استادِمحترم سے تعلق کے ایک ایک لمحے کو تم متبرک و مشکبو سمجھتے ہو اور اس کی جائز وجوہات کا بیان رکھتے ہو تو اس کا بیان ہونا ضروری ہے۔ آپ کی جدوجہد کچھ یوں بیان ہوتی ہے کہ: 
 اس قدر گوندھنا پڑتی ہے لہو سے مٹی
ہاتھ تھک جاتے ہیں تب کوزہ گری آتی ہے
محترم عرفان صاحب ایک ایسے استاد اور دوست تھے جو اپنی رہنمائی میں پگڈنڈیوں سے کھینچ کر بھٹکے ہوو¿ں کو شاہراہِ حیات پر ڈالنے کا ہنر جانتے تھے۔ جو اپنے التفات سے آپ کو گھائل کر لیتے تھے۔ جو اپنی توجہ سے آپ کوسراپا نیاز بنا دیتے تھے۔ جو اپنی رجائیت سے آپ کی شخصیت کو مایوسیوں سے کنارہ کشی سکھاتے تھے۔ اور واللہ اس میں کوئی مبالغہ نہیں ۔ جو ہے سچ ہے اور بعینہ¿ِ اسی طرح ۔ استادِ محترم کے در کی دریوزہ گری کی دین ہے جو ہم ماتھے پر سجائے ہوئے ہیں۔ یہ آسمان رہنمائی و مرحمت کے ان درخشاں ستاروں میں سے تھے جن سے کچھ کرنیں چرا کر ہم جیسوں نے اپنی امیدوں، تمناو¿ں، خواہشوں اور صلاحیتوں (اگر کچھ ہیں) کے دیے روشن کرنے کی کوشش کی ہے۔
نگاہِ یار جسے آشنائے راز کرے
وہ اپنی خوبیِ¿ قسمت پہ کیوں نہ ناز کرے 
عرفان صاحب کی شخصیت ہماری ملی، تہذیبی، معاشرتی، سماجی و سیاسی حکایت و روایت سے منضبط ہے۔ گلی کوچوں، کھیتوں کھلیانوں ، قومی معرکہ آرائیوں، چائے خانوں اور بڑے بڑے ایوانوں کے شناور۔ نظریہ کا وقار، مٹی کی مہکار، موسموں کی پھوار،جمہور کی پکار ان کا زادِ راہ۔سر دو گرم چشیدہ، بنتے بگڑتے پاکستانی معاشرے کے شاہد و شاہکار و شہسوار۔ ہر لحظ تخیر و تشکیل کے مراحل سے گزرتی ہوئی مملکت کی حنا بندی و آرائش کے لیے، اس طور کہ نظرِ بد سے بچا جائے اور جتھوں کے نرغوں سے نکلا جائے، عرفان صاحب جیسے دور اندیش و نکتہ ور شخصیت کی موجودگی کسی نعمت سے کم نہیں تھی۔
راولپنڈی صدر بابو محلے کی تِکوں اور کبابوں کی اشتہا میں لپٹی محفل ہوتی تھی یا اسلام آباد کلب کی شستگی و سنجیدگی یا سینٹ کی بالکونی میں بیٹھ کر عرفان صاحب کی گھتیاں سلجھاتی گفتگو کو سماعت یا بحیثیت مشیران کے وزارتی دفتر کی نشست ، ہر جگہ ان کی چشم منعطف اور لبِ ملتفت کے بے مول گدا رہے، ہر موڑ پر عرفان صاحب کی عنایت کے قرض دار رہے۔
عملی زندگی میں سکول سے لے کر کالج تک عرفان صاحب کامیاب استاد گردانے گئے۔ ایک طویل عرصہ سر سید کالج کا مجّلہ انہی کی کدو کاوش اور محنت کا غماز تھا۔ عرفان صاحب کے دئیے ہوئے الفاظ و انداز نے نہ صرف سکول اور کالج کے سیکڑوں طلبہ کے نطق کے تالے کھولے بلکہ حکمران بھی اپنی گویائی کے لیے عرفان صاحب سے الفاظ مستعار لینے پر مجبور ہوئے۔ ریڈیو پاکستان کے جادوئی دور میں عرفان صاحب مسلسل اپنی موجودگی کا احساس اپنی محنت شاقہ کی بدولت خوب دلاتے رہے۔ فیجر اور ڈرامے عرفان صاحب کا ریڈیو پر مستقل سلسلہ رہا۔لا تعداد صدا کا ر عرفان صاحب کے ڈراموں کے ذریعے متعارف ہوئے اور ان کی زیرِ نگرانی انہوں نے اپنی آواز کے زیروبم کو صیقل کیا۔ "بھید بھری آواز" عرفان صاحب کے انہی ڈراموں کا ایک ایسا مجموعہ ہے جسے بھر پور پذیرائی حاصل ہوئی۔
شاعری میں بھی عرفان صاحب نے ایک مخصوص آہنگ، الفاظ کے با معنی استعمال اور حُسنِ بیان سے تسکین ذوق کے ساتھ ساتھ سبق آفرینی کا سامان بہم کیا۔ کالم نویسی میں عرفان صاحب نے اردو نثر کی کلاسیکی روایت کو خوبصورتی سے سمویا۔ آپ کا زرخیز قلم، دھڑکتا دل اور ذہن رسا خوب جوبن پر رہا۔ اُن کے قلم کی مزدوری اور اس کے پہلو بہ پہلو قلم پر شہنشاہی کا سفر خوب جاری و ساری رہا۔
سرسید کالج ، اوورسیز فاو¿نڈیشن ، وزارت اور سینٹ کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت میں اپنی انتظامی صلاحیتوں کا لوہا بھی خوب منوایا۔ وزیرِ اعظم کی مشیر کی حیثیت سے آپ نے ادیبوں کی فلاح و بہبود کے لیے لا تعداد کار ہائے نمایاں انجام دئیے۔ ادب اور ادبی اداروں کی ترویج کے لیے بے پناہ کام کیا۔ پارلیمان کے ایوانِ بالا میں آپ کی موجودگی قومی مسائل کی بھر پور آگاہی کا باعث بنی رہی۔ (جاری ہے)

مزیدخبریں