آو جنگل میں چھوڑ آئیں تمہیں

09:03 AM, 27 Jan, 2026

اے درندوں کے چاہنے والو
آو جنگل میں چھوڑ آئیں تمہیں
یہ شعر بالکل تازہ ہے اور اس کے مخاطب وہ لوگ ہیں جنھیں گھروں میں شیر پالنے کا بہت شوق ہے۔ شیر پال کر وہ شاید خود کو بہادر ثابت کرنا چاہتے ہیں اور ہو سکتا ہے وہ بہادر ہی ہوں لیکن شیر گھر میں رکھتے ہوئے شاید وہ بھول جاتے ہیں کہ یہ صرف بہادر ہی نہیں، طاقتور بھی ہے اور خونخوار بھی۔ یہ تینوں صفات جب یکجا ہو جائیں تو بہت خطرناک ہو جاتی ہیں۔ پھر شیر کو گھر میں رکھنے کا کچھ فائدہ بھی نہیں بلکہ الٹا خرچہ ہی خرچہ ہے کہ اول تو اسے کسی بہت مضبوط پنجرے میں رکھنا پڑتا ہے، کھلا نہیں چھوڑا جا سکتا۔ پھر اس کی بہت زیادہ دیکھ بھال کرنا پڑتی ہے۔ یہ دن میں کئی کئی کلو گوشت کھا جاتا ہے، وہی گوشت جو آج کل عام آدمی کو مہینے میں شاید ایک بار ایک کلو بھی نصیب نہیں ہوتا۔ ایسے جانور کو پالنے کا بھلا کیا فائدہ جس کے بارے میں بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ کام کا نہ کاج کا دشمن اناج کا۔اب بھلا ایسے شوق کا کیا فائدہ جس سے ہر گھڑی نقصان کا دھڑکا لگا رہے۔ یہ شیر اگر پنجرے سے باہر نکل آئے یا زنجیر توڑ کر بھاگ جائے تو راستے میں آنے والے کسی بھی انسان کو نہ صرف زخمی کر سکتا ہے بلکہ اس کی زندگی کا چراغ بھی گل کر سکتا ہے۔ ایسے چند افسوس ناک واقعات تو حالیہ دنوں میں رونما بھی ہو چکے ہیں۔
چند روز قبل لاہور میں میں پالتو شیر نے ایک بچے کا بازو چبا لیا۔ یہ افسوسناک واقعہ سبزہ زار کے علاقے میں پیش آیا۔ کہا جا رہا ہے کہ واقعہ ایک فارم میں پیش آیا جہاں شیر پالے جا رہے تھے۔ ایک 8 سالہ بچہ کھیلتے ہوئے شیروں کے قریب چلا گیا جہاں ایک شیر نے اس کا بازو چبا ڈالا۔ فارم مالکان نے بچے کو مقامی ہسپتال لے جا کر ڈاکٹر کو بچے کا ہاتھ مشین میں آنے کا بتایا، ڈاکٹروں نے بچے کی جان بچانے کے لیے اس کا بازو کاٹ دیا۔ پولیس واقعے کی اطلاع ملنے پر ہسپتال پہنچ گئی۔ پولیس حکام کے مطابق فارم محکمہ وائلڈ لائف سے باقاعدہ لائسنس یافتہ ہے۔ واقعہ شیروں کے پنجرے نامناسب ہونے اور مالکان کی غفلت کی وجہ سے پیش آیا، متاثرہ بچہ پھل توڑنے کے لیے فارم ہاﺅس میں گیا تھا۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک ملزم کو گرفتار کرلیا اور واقعے کا مقدمہ پولیس کی مدعیت میں درج کرلیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ ملزمان نے متاثرہ خاندان کی مالی معاونت کی جس کے باعث متاثرین قانونی کارروائی سے گریزاں تھے تاہم متاثرین کی جانب سے کارروائی نہ کرانے پر پولیس خود مقدمے کی مدعی بن گئی۔ مقدمے میں وائلڈ لائف ایکٹ سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔ 
ایسی ہی ایک خبر فیصل آباد سے بھی سامنے آئی ہے جہاں جڑانوالہ روڈ پر غیر قانونی شیر کو پکڑنے کے لیے جانے والے وائلڈ لائف ملازم پر شیر نے حملہ کردیا۔ متاثرہ ملازم کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ محکمہ وائلڈ لائف نے دو شیروں کو غیر قانونی طور پر رکھنے کی اطلاعات پر کارروائی کی تھی۔ شیر مالکان کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔
یاد رہے کہ چند روز قبل لاہور کے علاقے بھیکے وال پنڈ میں بھی پالتو شیرنی کے حملے سے 8 سال کی بچی زخمی ہوگئی تھی۔ بچی کے کان اور گردن پر زخم آئے تھے۔ اس واقعے میں بھی پولیس اور محکمہ وائلڈ لائف کی ٹیموں نے شیرنی سمیت غیر قانونی طور پر رکھے گئے 11 شیر برآمد کر کے ملزمان کو گرفتار کرلیا تھا۔ ان ملزمان کے پاس شیروں کو لاہور میں رکھنے کا لائسنس موجود نہیں تھا، ملزمان خطرناک جانوروں کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث تھے۔
اس سے پہلے تقریباً چھ ماہ قبل لاہور ہی کے علاقے جوہر ٹاﺅن میں ایک شیر نے خاتون اور بچوں پر حملہ کر دیا تھا جس کے بعد مالک کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا تھا۔ دوسری طرف یہ بھی پتا چلا ہے کہ پولیس نے رہائشی علاقوں میں غیر قانونی طور پر جنگلی جانور رکھنے پر رواں ماہ8افراد کوگرفتار کیا جبکہ 6مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں۔ گرفتار ملزمان کی تحویل سے 26شیر، 14ہرن اور مختلف اقسام کے پرندے برآمد ہوئے ہیں جبکہ محکمہ جنگلی حیات نے بھی شیر پالنے والوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
اوپر درج پانچوں خبروں سے یہ تو پتا چل رہا ہے کہ ملزمان کے خلاف مقدمات درج ہوئے ہیں اور انھیں گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ ان کے قبضے سے جنگلی جانور بھی قبضے میں لیے گئے ہیں تاہم یہ واضح نہیں کہ ملزموں کے ساتھ گرفتاری کے بعد کیا سلوک کیا گیا۔ یہ بھی واضح نہیں کہ اتنے ملزم پکڑنے اور جانور قبضے میں لینے کے بعد بھی اس قسم کے واقعات کیوں تسلسل کے ساتھ وقوع پذیر ہو رہے ہیں۔ یہاں یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان لوگوں کو رہائشی علاقوں میں شیر جیسا جنگلی جانور لاتے وقت کیوں نہیں روکا جاتا اور افسوس ناک واقعات سامنے آنے کے بعد ہی ان کی پکڑ دھکڑ کیوں شروع کی جاتی ہے۔
اگر کوئی لائسنس کے بغیر شیر کو گھر میں رکھتا ہے تو اس پر کسی کی نظر کیوں نہیں پڑتی اور اگر وہ لائسنس لے کر رکھتا ہے تو اسے اجازت کیوں دی جاتی ہے، یہ بات بھی سمجھ سے باہر ہے۔ اس پر تو لائسنس جاری کرنے والوں کی بھی گرفت ہونی چاہیے۔ شیر جیسے درندے کو رہائشی آبادیوں میں رکھنے کا کوئی جواز ہی نہیں بنتا۔ ایسے لوگوں کے خلاف صرف قانونی کارروائی کافی نہیں بلکہ انھیں چڑیا گھر میں شیر کے پنجرے میں بند کر دینا چاہیے تاکہ دن رات شیروں کے درمیان رہ کر اپنا شوق پورا کرتے رہیں۔ اس سے بھی زیادہ بہتر یہ ہے کہ شیروں کی صحبت سے لطف اندوز ہونے کے لیے انھیں جنگل ہی میں چھوڑ دیا جائے۔

مزیدخبریں