تماشے ہیں کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے۔ گذشتہ کالم ”بانی کو مس گائیڈ کون کرتا ہے“ میں بڑی تفصیل کے ساتھ اس بات پر بحث کے بعد نتیجہ قارئین کے سامنے رکھا تھا کہ بانی کو مس گائیڈ کرنے کی بات در حقیقت ان کی فیس سیونگ ہے ورنہ عمران خان کے مزاج سے جو بندہ واقف ہے وہ پورے یقین کے ساتھ یہ بات کہہ سکتا ہے کہ انہیں کوئی بھی مس گائیڈ نہیں کر سکتا بلکہ وہ اپنے آپ کو مس گائیڈ کرنے کے لیے خود ہی کافی ہیں۔ یہ بات اس لیے کہی جاتی ہے کیونکہ کسی بھی قسم کی تحریک، احتجاج اور ہر طرح کی سیاسی سر گرمی کی کالز کی ناکامی کے بعد اس کے سوا اب کچھ کہا بھی نہیں جا سکتا۔ اب سہیل آفریدی کی جانب سے ”بانی رہائی فورس“ کے نام سے ایک اور شوشا چھوڑا گیا۔ انہوں نے ایک جگہ خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی اصل جنگ تو اسٹیبلشمنٹ سے ہے۔ ہر ایک کے علم میں ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سے مراد کون سا ادارہ ہے۔ جب پاکستان کی جانب سے افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے کیمپوں پر انٹیلی جنس بیسڈ ٹارگٹڈ کارروائی کی گئی ہے تو اس کے فوری بعد اسٹیبلشمنٹ کو للکارنے اور خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف کے پرچم ہاتھ میں لیے ڈیڑھ دو سو افراد پر مشتمل فوج کے خلاف ریلی نکالنا اور اس میں انتہائی قابل اعتراض نعرے لگانے کی ٹائمنگ کیا محض اتفاق ہے۔ یہ بات ہم اس لیے کہہ رہے ہیں کہ یہ غلیظ مہم اچانک صرف پاکستان میں ہی شروع نہیں ہوئی بلکہ سوشل میڈیا پر بیٹھے تحریک انصاف کے لوگوں نے بھی یک دم فوج کے خلاف ٹرولنگ شروع کر دی ہے اور یہ
کام کوئی لونڈے لپاڑے نہیں کر رہے بلکہ امریکہ میں بیٹھے ایک سینئر صحافی نے بھی ایک انتہائی گھناﺅنی پوسٹ کے ساتھ یہی کام کیا ہے۔ افواج پاکستان کے خلاف اندرون اور بیرون ملک سے ایک دم اس طرح کی مہم کوئی اتفاق نہیں ہے بلکہ یہ وہی دباﺅ کے منفی ہتھکنڈے کہ جو اس جماعت کی جانب سے ہمیشہ اپنائے جاتے ہیں اور اس کی وجہ صرف اور صرف دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کو سبو تاژ کرنا ہے۔ اب ایک جانب افواج پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانا، دوسری جانب افواج پاکستان کے خلاف صوبائی حکومت کی مکمل آشیر باد کے ساتھ ریلیاں نکالنا اور نفرت انگیز نعرے لگانا، تیسری طرف سہیل آفریدی کا خود اپنے خطاب میں یہ بات کہنا کہ ان کی اصل جنگ اسٹیبلشمنٹ سے ہے اور چوتھی جانب بانی رہائی فورس بنانا، ان سب میں نہ صرف یہ کہ تال میل ہے بلکہ یہ در حقیقت افواج پاکستان اور ریاست کے خلاف مہم کا حصہ ہیں۔
بات اگر تماشوں کی ہے تو منگل کو ایک اور تماشا لگانے کی کوشش کی گئی۔ سہیل آفریدی صاحب اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیف جسٹس سرفراز ڈوگر صاحب کی عدالت میں پہنچ گئے اور پھر اچانک روسٹرم پر جا کھڑے ہوئے اور چیف جسٹس کو سلام کر دیا جس کا چیف جسٹس نے جواب نہیں دیا اور اٹھ کر اپنے چیمبر میں چلے گئے۔ باہر آ کر انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سوا گھنٹے انتظار کیا لیکن چیف جسٹس صاحب نے ان کے سلام کا جواب تک نہیں دیا اور بات سنے بغیر ہی عدالت سے چلے گئے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سماعت کے وقت چیف جسٹس کے سیکرٹری کی جانب سے انہیں پیغام دیا گیا تھا کہ وہ ملاقات کے لیے ان کے آفس میں آ جائیں لیکن بقول سہیل آفریدی صاحب کے کہ چونکہ بانی پی ٹی آئی کے کیسز مقرر نہیں ہو رہے تو وہ اوپن کورٹ میں ہی بات کریں گے۔ اب اعلیٰ عدلیہ کا اپنا ایک طریقہ کار ہوتا ہے اور اسی کے تحت کارروائی ہوتی ہے۔ اول تو وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا عمران خان کے کوئی وکیل نہیں تھے اور دوسری بات کہ روسٹرم پر آنے کے لیے اجازت لینا پڑتی ہے اور پھر جب چیف جسٹس صاحب نے ملاقات کے لیے اپنے آفس بلایا تو وہاں چلے جاتے لیکن مقصد جب صرف سیاسی پوائنٹ سکورنگ ہو تو پھر اسی طرح کے تماشے لگائے جاتے ہیں۔ یہ سب سیاست اور سیاسی تاریخ سے نا آشنا لوگ ہیں ورنہ انہیں اس بات کا علم ہوتا کہ یہ تو وزیر اعلیٰ ہیں یہاں تو وزیر اعظم بھی اگر آتے ہیں تو وہ بھی عدالت کی اجازت کے بغیر کچھ نہیں بول سکتے تو سہیل آفریدی کس بات کا شکوہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بات بھی کہی کہ وہ ساڑھے چار کروڑ پاکستانیوں کے منتخب وزیر اعلیٰ ہیں۔ سہیل آفریدی اس کے علاوہ بھی کئی جگہ یہ بات کہہ چکے ہیں لیکن بات یہ ہے کہ اپنی ذات کے لیے تو وہ ساڑھے چار کروڑ لوگوں کا ذکر کرتے ہیں لیکن یہ بھی تو بتائیں کہ وہ ان ساڑھے چار کروڑ لوگوں کے لیے کیا کر رہے ہیں۔ یہ تو انہیں دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر خود اڈیالہ جیل کے باہر بیٹھے ہوتے ہیں۔ خدارا اگر ساڑھے چار کروڑ لوگوں کی بات کرتے ہیں تو صرف تماشے نہ لگائیں بلکہ ان کی فلاح و بہبود کے لے بھی کچھ کریں۔
بانی رہائی فورس
09:00 AM, 28 Feb, 2026