برادرِ مکرم و محترم عرفان صدیقی مرحوم ومغفور کے حوالے سے یادوں اور باتوں کے تذکرے کے تحت آج اُن کی شاعری کے مجموعے ”گریز پا موسموں کی خوشبو“ کے بارے میں کچھ اظہارِ خیال کیا جاتا ہے۔ جولائی 2022ءمیں یہ مجموعہ چھپا تو میں نے اس کے بارے میں ایک تفصیلی مضمون لکھا جس کے کچھ اقتباسات برادرِ مکرم و محترم عرفان صدیقی صاحب کو خراجِ عقیدت کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔ ”گریز پا موسموں کی خوشبو محبی مکرم و محترم عرفان صدیقی کے حال ہی میں چھپ کر آنے والے شعری مجموعے کا نام ہے۔ جیسے یہ شعری مجموعی انتہائی دلآویز، دلکش، خوبصورت اور پُر سوز نظموں اور غزلوںپر مشتمل ہے، اسی طرح شعری مجموعے کا نام ”گریز پا موسموں کی خوشبو“ بھی انتہائی دلکش، خوبصورت اور وسیع تر مفہوم و معنی اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ سچی بات ہے میرے لیے اس نام کی تفہیم یا وضاحت کرنا آسان نہیں ۔ البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ عام روش سے ہٹ کر ایک خوبصورت اور اچھوتا نام، موسم گرمی، سردی، بہار، خزاں نہیں بلکہ گریز پا جن میں گرمیوں کی تپش، حرارت اور حبس، سردیوں کی ٹھنڈک، کپکپاہٹ اور شدت، خزاں کی ویرانی، پت جھڑ اور نااُمیدی اور بہار کی خوش رنگی خوشبو اور حسن۔ یہ سب پہلو ایسے ہیں جن کو گریز پا موسموں کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے۔ بلا شبہ عرفان صاحب کی شاعری کا کمال یہ ہے کہ ان کی شاعری میں ان تمام پہلوﺅں کے رنگ خوشبو کی طرح پھیلے ہوئے ہیں۔ عرفان صاحب کی شاعری اگر لاجواب ہے تو اُن کے شعری مجموعے کا نام بھی لاجواب ہے۔ ”گریز پا موسموں کی خوشبو“ میں شامل نظموں اور غزلوں کا جو مجموعی تاثر اُبھرتا ہے اس میں گریز پا موسموں کے سارے رنگوں جن کا اُوپر ذکر کیا گیا ہے کی جھلک نظر آتی ہے۔
برادرِ مکرم و محترم عرفان صدیقی صاحب کے بارے میں بہت کم لوگ جاتے ہیں کہ وہ ایک صاحبِ اسلوب نثر نگار، خوبصورت کالم نگار، مثبت سوچ کے حامل ایک دانشور، موقر تجزیہ کار اور ایک اہم سیاسی رہنما ہیں۔ کم لوگوں کو علم ہے کہ وہ خوبصورت، قابلِ قدر اور کسی حد تک قادر الکلام شاعر بھی ہیں۔ اُن کا شاعری کا ذکر کرتے ہوئے مجھے اپنی اس کمزوری کے اظہار میں کوئی باک نہیں کہ مجھے اشعار یاد نہیں رہتے اور نہ ہی میرا شعری ذوق فطری طور پر توانا اور جاندار ہے کہ میں شعری محاسن کو صحیح طور پر پرکھ سکوں۔ تاہم عرفان صاحب کی شاعری اتنی خوبصورت ، پُر کشش، توانا ، جاندار اور غنائیت اور سوز و ساز سے بھرپور ہے اسے پڑھتے ہوئے بے پناہ لطف ہی محسوس نہیں ہوتا بلکہ کیسے کیسے لوگ ، کیسی کیسی باتیں اور کیسے کیسے واقعات یا د آنے لگتے ہیں۔ یہ کمال کی بات نہیں ہے کہ ہمارے مختصر حلقہ احباب کے دوستوں جن میں عزیزی ڈاکٹر ندیم اکرام اور مکرم ومحترم فواد حسن فواد (فواد خود بھی بڑے خوبصورت اور پائے کے شاعر ہیں) شامل ہیں کو عرفان صاحب کے کتنے ہی اشعار بلکہ پوری پوری نظمیں اور غزلیں ازبر ہیں۔احباب کی محفل میں جب کبھی عزیزانِ گرامی عرفان صاحب کی کوئی نظم یا غزل کے اشعار سناتے ہیں تو بلا شبہ ایک سماں بندھ جاتا ہے۔
عرفان صاحب کی شاعری یا اُن کا یہ شعری مجموعہ انتہائی خوبصورت اور جاں فزا ہی نہیں ہے بلکہ اس میں الفاظ و تراکیب کا جو حسن، بلند خیالی ، زندگی کے تجربات و مشاہدات کا نچوڑ، عشق و محبت سے لبریز جذبات کی مٹھاس ہجر و وصال کی لذت اور حالاتِ حاضرہ جو عکس جھلکتا نظر آتا ہے وہ اسے بے مثال بناتا ہے۔ اس کے ساتھ اس میں یاس اور اُمید جو ایک دوسرے کی متضاد کیفیات ہیں اُن کو ساتھ ساتھ اشعار میں سمونا کوئی معمولی یا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ بلا شبہ اس کےلئے اعلیٰ پائے کی فنی مہارت کے ساتھ ٹھوس علمی و ادبی پس منظر ، بلند ویژن اور گہری فکر و سوچ کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ عرفان صاحب اپنی شاعری میں جہاں ان تقاضوں کو پورا کرتے دکھائی دیتے ہیں وہاں نادر خوبصورت تشبیہات اور وسیع تر مفہوم کی حامل تراکیب کا استعمال بھی اُن کی شاعری کے حسن کو دوبالا کرتا ہے۔ یہاں میں محترم افتخار عارف جو خود ایک بڑے پائے کے شاعر اور قلمکار ہیں کی اس شعری مجموعے کے بارے میں قابلِ قدر رائے جو سَر ورق کے اندرونی حصے میں فلیپ کے طور پر چھپی ہوئی ہے کے مختصر سے اقتباس کا حوالہ دینا چاہوں گا۔ وہ لکھتے ہیں ”عرفان صدیقی کے زیرِ نظر شعری مجموعے کا حصہ اول نظموں پر مشتمل ہے ۔ یہ نظمیں ایک کہانی بیان کرتی ہیںجو محبت کے سارے موسموں پر محیط ہے ۔ جذبے کی شدت اور احساس کا وفور پہلے مصرعے سے آخری مصرعے تک عہد و پیمان کے مہربان موسموں سے ہجر و فراق کے اَلم انگیز زمانوں تک سارا احوال افسانہ در افسانہ بیان ہوا ہے۔ نظموں کا غالب حصہ ہجر کے پُر آشوب موسموں کا حزینہ بیان ہے۔ خالص ، سادہ بھی، پُر ماجرا بھی، چھلکتے ہوئے مصرعے ’رنج غم کتنے کیے جمع تو دیوان کیا‘ کے مصداق خزاں کے موسم میںبہاروں کی گریز پائی کا احوال دل گرفتہ کرتا ہے “۔
جناب افتخار عارف کے یہ گراں قدر خیالات بہت خوبصورت اور اہم ہیں ، تاہم عرفان صاحب نے بھی اپنی شاعری یا اس شعری مجموعے کا تعارف میںلکھا ہے ۔ ”بنیادی طور پر یہ خوابوں، رنگوں اور خوشبوﺅں کی شاعری۔ تتلیوں اور جگنوﺅں کی شاعری ہے ، محبت کے اس سرمدی جذبے کی شاعری جس کی کونپل ہر دل میں پھوٹتی ہے۔ اس ٹھنڈی سکون بخش چاندنی کی شاعری جو ہر دل کے آنگن میں ضرور اُترتی ہے ۔ اُن شبنمی رُتوں کی شاعری جو شاداب موسموں میں ہر قلبِ حساس پر دستک دیتی ہیں۔ اس جذبے کی نغمگی جو ہر انسان کی سماعتوں میں رس گھولتی اور اس کی آنکھوں میں خوابوں کے دیے جلاتی ہے ۔ یہ جذبہ بدلتے موسموں کی قید سے آزاد کبھی چلچلاتی دھوپ میں خنک ہوا کے جھونکے کی طرح اُترتا تو کبھی سردیوں کی طویل یخ بستہ راتوں میں آگ کا الاﺅ بن کر بھڑکتا ہے ۔ کبھی زندگی کے دشت ِ بے اماں میں خوش رنگ نخلستانوں کے دریچے کھولتا اور کبھی کاروباری زندگی کی اُکتا دینے والی یکسانیت میں طلسماتی نیرنگیوں کے باب و ا کرتا ہے۔ محبتوں کے سفر میں انسان جن رنگا رنگ تجربوں سے گزرتا ہے ان میں سے ہر ایک اپنا رنگ ، اپنی خوشبو اور اپنا ذائقہ رکھتا ہے۔ ان رنگوں، خوشبوﺅں اور ذائقوں کا تنوع ہی محبت کی گہرائی ، گیرائی اور وسعت کی علامت ہے اور اسی کے طفیل یہ جذبہ خارج کی فتنہ گری کے باوجود داخل میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے ۔ کبھی پوری طرح بیدار ، کبھی نیم خوابیدہ اور کبھی خوابیدہ۔۔۔۔۔۔ لیکن کبھی مرتا نہیں۔ میری شاعری بھی انہی تجربوں کی نارنگی سے عبارت ہے ۔ یہ محبت کے رومانوی عہد کی مسافتوں ، رفاقتوں، قربتوں اور فرقتوں کی کہانی ہے۔۔۔۔۔ رومانویت میں گندھے آسودہ موسموں کی آسودگی اور نامہربان رُتوں کی نامہربانی کی داستان۔“
گریز پا موسموں کی خوشبو!
08:59 AM, 28 Feb, 2026