کٹھ پتلی افغان حکومت کی پسپائی

08:59 AM, 28 Feb, 2026

آپریشن غضب للحق نے افغان طالبان کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ اس آپریشن سے پہلے افغان حکومت نے پاکستان کے صبر کا امتحان لیا اور خوب لیا۔ قطر مذاکرات میں بھی پاکستان نے امن کی ترغیب دی مگر بھارت کے ریموٹ کنٹرول پر چلنے والی افغان طالبان کی حکومت اپنے آقا کی طرح غلط اندازہ لگا بیٹھی۔ طالبان اہلکاروں کو سبق سکھا دیا گیا ہے۔ پاک فضائیہ نے اہم عسکری تنصیبات ملیا میٹ کر دی ہیں۔ افغان چیک پوسٹ پر قبضے کے بعد سپاہی کی سبز ہلالی پرچم لہرا کر دشمن کو للکارنے کی ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس نے پاکستان کی دھاک بٹھا دی ہے۔ پاک فوج افغان سرحد پر بھرپور اور مو¿ثر جواب دے رہی ہے اور آئندہ بھی دے گی۔ اسی طرح قندھار کی فضاو¿ں میں پاکستانی شاہینوں کی پیٹرولنگ ہوئی ہے۔ دشمن اپنے بلوں میں چھپ چکا ہے۔ کابل میں طالبان وزارت دفاع کی عمارت کے اندر جھڑپوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ کابل اور پکتیا میں پاک فوج کے فضائی حملے کی ویڈیو سامنے آ گئی ہے۔ آپریشن ضرب للحق کے دوران پاک فضائیہ کے حملوں میں دشمن کی اہم ملٹری تنصیبات تباہ ہوئی ہیں۔ اسی طرح باجوڑ سیکٹر میں دراندازی کی کوشش ناکام بنائی گئی ہے۔ دہشت گرد زندہ گرفتار ہوا ہے۔ رات بھر کی جھڑپوں کے بعد افغان طالبان نے ایک بار پھر سرحدی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان پر بلااشتعال فائرنگ کی جس پر سکیورٹی فورسز نے فوری اور بھرپور جواب دیا، پاک فوج کے غضب للحق کے تحت آپریشن میں دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا اور اب تک 274 افغان طالبان ہلاک اور 400 سے زائد کارندے زخمی ہیں، جبکہ متعدد چیک پوسٹوں کو نشانہ بنا کر تباہ کیا جا چکا ہے۔ وزارت اطلاعات و نشریات نے اپنے بیان میں بتایا کہ افغان طالبان رجیم نے پاک افغان سرحد پر بلااشتعال فائرنگ کی جس پر سکیورٹی فورسز نے افغان طالبان کی کارروائی کا بھرپور جواب دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تازہ فضائی حملوں میں کابل میں دو بریگیڈ ہیڈ کوارٹر تباہ کیے گئے، جبکہ کارروائیوں کے دوران دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق قندھار میں فضائی حملے کے دوران ایک کور ہیڈ کوارٹر اور ایک بریگیڈ ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا، جبکہ ایمونیشن ڈیپو اور لاجسٹک بیس بھی مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ افغان صوبے ننگرہار میں پاک فضائیہ کے طیاروں نے ایک بڑا ایمونیشن ڈپو تباہ کر دیا۔ مزید بتایا گیا کہ پکتیا میں ہونے والی کارروائی میں ایک کور ہیڈ کوارٹر کو بھی مو¿ثر فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔ پاکستان نے جنوبی وزیرستان کے مقابل 
افغانستان کے پکتیا کے علاقے میں پانچ افغان پوسٹوں پر قبضہ کر کے پاکستان کا جھنڈا لگا دیا۔ قبضے میں آنے والی پوسٹوں میں دو شوال کے مقابل، دو انگور اڈہ کے مقابل اور ایک زرملان کے مقابل میں ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے مو¿ثر کارروائی کے دوران انگور اڈہ کا افغانی ٹرمینل بھی تباہ کر دیا۔ پاکستانی سکیورٹی فورسز کے بھرپور اور طاقتور جواب میں افغان طالبان فورسز کو بھاری نقصان کا سامنا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج نے پاک افغان سرحد پر خوست میں افغان طالبان کی متعدد اہم پوسٹس کو مکمل تباہ کر دیا، پاکستان کی فیصلہ کن کارروائی کی بعد افغان طالبان فوج نے متعدد بار پوسٹوں پر سفید جھنڈا بھی لہرایا۔ سکیورٹی فورسز نے افغان طالبان فورسز کو آرٹلری اور کوارڈ کاپٹر کے ذریعے مو¿ثر انداز میں نشانہ بنایا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن غضب للحق کے تحت جوابی حملوں میں اب تک 274 افغان خارجی جہنم واصل ہو گئے ہیں اور 400 سے زائد زخمی ہیں۔ پاک فوج نے 27 پوسٹیں مکمل طور پر تباہ کر دی ہیں جبکہ 7 افغان پوسٹوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ موثر جوابی کارروائی میں 50 سے زائد ٹینکس، آرٹلری گنز اور اے پی سیز تباہ کر دیا گیا۔ افغان طالبان نے چترال، خیبر، مہمند، کرم اور باجوڑ میں سرحدی خلاف ورزی کی۔ ان علاقوں میں بھی پاکستان کے جواب پر افغانستان کو بھاری جانی نقصان ہوا جبکہ متعدد چیک پوسٹیں تباہ ہو گئیں۔ ذلت آمیز شکست کے بعد طالبان کا سول آبادی پر حملہ بھی رپورٹ ہوا ہے۔ سکیورٹی فورسز کے جاری کامیاب آپریشن ضرب للحق میں ہزیمت کے بعد افغان طالبان نے سول آبادی پر حملے شروع کر دیئے۔ گزشتہ رات باجوڑ کے سرحدی علاقوں لغژئی اور گرد و نواح میں سرحد پار سے فائر کیے گئے مارٹر گولے گرنے کے نتیجے میں پانچ افراد زخمی ہو گئے، جن میں تین خواتین بھی شامل ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق زخمیوں کو فوری طور پر خار ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ شیلنگ کے باعث ایک مقامی مسجد کی چھت اور دیگر حصوں کو بھی نقصان پہنچا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق بلا اشتعال افغان جارحیت کا پاکستان کی سکیورٹی فورسز پوری طاقت سے منہ توڑ جواب دی رہی ہیں، پاکستانی سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی سے افغان طالبان کے ٹھکانے تباہ اور خوارج بھاگ کھڑے ہوئے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق چترال سیکٹر پر افغان طالبان کی چیک پوسٹ کو پاکستانی سکیورٹی فورسز نے نہایت درستی سے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا جبکہ ناو¿گئی سیکٹر باجوڑ، تیراہ خیبر، ضلع مہمند اور ارندو سیکٹر چکوال بھرپور جواب دیا گیا۔ اس کے علاوہ سکیورٹی فورسز نے باجوڑ میں افغان طالبان کی 2 چوکیاں تباہ کر دیں۔ سکیورٹی فورسز نے کہا ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز سرحد کی حفاظت اور کسی بھی قسم کی جارحیت کے خلاف سخت اور فوری جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی سکیورٹی فورسز نے افغان جانب سے جارحیت پر فوری ٹینکوں کا استعمال کرتے ہوئے طالبان کی کئی پوسٹیں تباہ کر دیں جبکہ متعدد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ اسی طرح طورخم بارڈر پر افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کے بعد پاک فوج نے مو¿ثر اور منہ توڑ جوابی کارروائی کرتے ہوئے دشمن کو پسپا کر دیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی افواج کے بھرپور ردعمل کے باعث افغان طالبان دم دبا کر فرار ہو گئے۔ سکیورٹی فورسز کے مو¿ثر جواب کے بعد مہمند سیکٹر کے قریب افغان طالبان چوکیاں چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان طورخم بارڈر سے ٹرکوں پر سامان لاد کر علاقے سے نکل گئے، جبکہ پاکستانی فورسز نے سرحدی دفاع کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔ اسی طرح پاک افغان سرحد پر ولی خان سیکٹر میں پاک فوج نے ایک اور افغان پوسٹ کو مسمار کر دی۔ اس جنگ میں عالمی نشریاتی ادارے کا جھوٹا دعویٰ بھی سامنے آیا۔ نشریاتی ادارے سکائی نیوز کی پاکستان سے متعلق مبینہ گمراہ کن سوشل میڈیا پوسٹ پاکستانی صارفین کی شدید تنقید کے بعد ہذف کر دی گئی۔ رپورٹ کے مطابق سکائی نیوز نے افغانستان ایئرفورس کے ذریعے پاکستان پر حملے کا دعویٰ کیا تھا جسے سوشل میڈیا پر جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا گیا۔ ادھر غیر ملکی میڈیا ادارے آماج نیوز کے مطابق پاکستان کے آپریشن ضرب للحق میں جاری فضائی حملوں کے دوران وزارت دفاع کے احاطے میں فائرنگ اور کشیدگی کی صورتحال دیکھی گئی۔ حالات یہ بتا رہے ہیں کہ پاکستان یہ جنگ جیت چکا ہے اور افغان طالبان کو منہ کی کھانا پڑی ہے۔ بہتر ہوتا کہ افغان طالبان کی حکومت اپنے ہینڈلرز یعنی بھارت کی باتوں میں نہ آتی اور بھارت کی چالوں کا شکار ہو کر پاکستان جیسے طاقتور فوج کے حامل ملک سے ٹکر نہ لیتی۔ مگر افغان طالبان نے ایک بہت بڑی غلطی کی ہے اور پاکستان کو للکار کر اپنے تابوت میں آخری کیل خود ہی ٹھونک دی ہے۔ افغان طالبان کی حکومت نے کواڈ کاپٹرز بھی استعمال کیے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت اور اسرائیل افغانستان کی مدد کرنے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ جو حال پاکستان نے بھارت کا کیا اس سے برا افغانستان کا ہو رہا ہے ایسے حالات میں افغانستان کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور پاکستان جیسے ملک سے ٹکر لینے کا سوچنا بھی نہیں چاہیے۔

مزیدخبریں