جب دو عیب دار شخص قریبی دوست بن جائیں یا کسی عیبی شخص کی اپنے جیسی کسی عورت سے شادی ہو جائے تو عام طور پر یہ جملہ بولا جاتا ہے ”رام ملائی جوڑی، ایک اندھا اور ایک کوڑھی“۔ یہ مثال آج کل بھارت اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی پیار کی پینگوں پر پوری طرح صادق آتی ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اسرائیل کے دورے میں بہت سینہ پھلا کر کہا کہ ”اسرائیل اِج پھادرلینڈ اینڈ انڈیا اِج مدرلینڈ“۔ یوں انہوں نے اسرائیل اور بھارت کے ڈھکے چھپے معاشقے کو ازدواجی بندھن میں بدلنے کا کھل کر اعلان کر دیا۔
بھارت اور اسرائیل کی یہ شادی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارت کی مانگ کا سندور اجڑے زیادہ عرصہ نہیں گزرا۔ یہ سندور پاکستان نے گزشتہ سال مئی میں آپریشن بنیان مرصوص کے ذریعے بھارت کے آپریشن سندور کو ناکام بنا کر اجاڑا۔ اس وقت سے اب تک بھارت کو اپنی مانگ اجڑنے کا غم کھائے جا رہا ہے۔ اس کے سینے پر ہر لمحہ سانپ لوٹتے ہیں اور وہ اس بدترین ہزیمت کا انتقام لینے کے لیے لوٹ پوٹ ہو رہا ہے۔ کبھی وہ افغان طالبان کی مدد سے پاکستان میں دہشت گردی کراتا ہے اور عدم استحکام لانے کی ناکام کوششیں کرتا ہے تو کبھی اسرائیل جیسے راندہ درگاہ ملک سے پیار محبت جتاتا ہے۔ یہ تینوں ملک بھارت، اسرائیل اور افغانستان اس وقت دنیا میں کسی نہ کسی اعتبار سے تنہائی کا شکار ہیں۔
اسرائیل کے حامیوں میں امریکہ یا اس کے دو چار ہم نوا ملک رہ گئے ہیں۔ باقی ساری دنیا غزہ پر دوسالہ جارحیت اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے بعد اس کی مخالف ہو چکی ہے۔ کوئی ملک اس کے ساتھ ہاتھ ملانے کو تیار نہیں حتیٰ کہ صدر ٹرمپ کی طرف سے بنائے گئے بورڈ آف پیس میں شامل ملک بھی غزہ کی ہم دردی میں اس معاہدے کا حصہ بنے ہیں۔ اگرچہ امریکی صدر کا مطمع نظر اس معاہدے کے ذریعے اسرائیل کو تحفظ دینا ہے۔ معاہدے میں شامل تمام ملک غزہ کی بحالی اور فلسطینی ریاست کا قیام چاہتے ہیں کیونکہ سب جانتے ہیں کہ اسرائیل جارح اور غزہ مظلوم ہے۔
دوسری طرف بھارت ہے جو اپنی کثیر آبادی کے باوصف دنیا کے لیے ایک بڑی مارکیٹ ہے۔ اس کے باوجود گزشتہ سال مئی میں معرکہ حق کے دوران پاکستان سے پٹنے کے بعد پوری دنیا کی نظر میں بے توقیر ہو چکا ہے۔ پاکستان نے بھارتی غرور کو ایسا خاک میں ملایا کہ بھارتی وزیر اعظم مودی مارے شرم کے اب کسی بیرونی ملک کے دورے پر ہی نہیں جاتے۔ معرکہ حق سے پہلے جو مودی بھاگ بھاگ کر دوسرے ملکوں کے دورے کرتے تھے، جنگ کے بعد سے اب تک صرف اسرائیل کے دورے پر جا سکے ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ امریکی صدر بھی بھارت پر طنز کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے تو اس کی دنیا کے کسی ملک کے ساتھ دوستی ہے نہ کوئی اعتماد کا رشتہ۔
اس کے برعکس پاکستانی قیادت نے معرکہ حق کے بعد سے دنیا کے مختلف ملکوں کے دورے کیے ہیں اور انہیں ہر جگہ ہاتھوں ہاتھ لیا گیا ہے۔ چاہے صدر آصف علی زرداری ہوں وزیر اعظم شہباز شریف ہوں، نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار ہوں، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ہوں، وزیر داخلہ محسن نقوی ہوں، چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو ہوں یا کوئی اور عہدیدار، جہاں جہاں بھی گئے میزبانوں نے ان کے لیے دیدہ و دل فرش راہ کیے۔ اور تو اور ڈونلڈ ٹرمپ اپنی ہر تقریر میں پاکستان کی طرف سے بھارت کے طیارے گرائے جانے کا ذکر ضرور بڑھا چڑھا کر کرتے ہیں، چاہے اس کا موقع ہو یا نہ ہو۔ وہ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعریفیں کرنا بھی نہیں بھولتے۔
معرکہ حق کے بعد پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی دفاعی معاہدہ بھی ہوا جبکہ دنیا کے متعدد ملکوں نے پاکستان سے طیارے اور اسلحہ خریدنے میں دلچسپی بھی ظاہر کی جبکہ بھارت کی شکست کے بعد بھارتی فوج کی تربیت، کارکردگی اور اس کی اسلحہ سازی کی صنعت پر سوال اٹھنے لگے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ دبئی ایئرشو میں بھارت کا طیارہ تیجس کرتب دکھاتے ہوئے گر کر تباہ ہوا اور اس کا پائلٹ ہلاک ہو گیا۔ اسی واقعے کے کچھ عرصہ بعد تیجس گرنے کا ایک اور واقعہ بھی سامنے آیا جس کے بعد بھارت کو تیجس کا پورا بیڑا ہی غیر فعال کرنا پڑا۔ ان حالات میں بھارت کا دفاعی معاہدوں کے لیے ہاتھ پاو¿ں مارنا تو بنتا ہی ہے کہ جب سینے میں انتقام کی آگ بھی دہک رہی ہو اور پلے بھی کچھ نہ ہو۔ لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ اسرائیل کے سوا کوئی اور ملک بھارت سے دفاعی معاہدہ کرنے کو بھی تیار نہیں۔
بھارت کے اسرائیل سے دفاعی معاہدے کے لیے اضطراب کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مودی نے اسرائیل کو بھارت کا شوہر ہی بنا ڈالا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ آپریشن سندور میں پاکستان کے ہاتھوں بھارت کی مانگ کا جو سندور دھل گیا تھا، مودی حقیقی معنوں میں وہی سندور اسرائیل سے بھروانا چاہتا ہے۔ دیکھتے ہیں کہ اسرائیل بھارت کی مانگ میں کیسا سندور لگاتا ہے۔
ویسے تو آپریشن سندور میں بھی اسرائیل کی اخلاقی اور تزویراتی مدد بھارت کے شامل حال تھی اور بھارت کی شکست کی صورت میں اسرائیل کو بھی منہ کی کھانا پڑی لیکن بھارت کو اپنی شکست ابھی تک ہضم نہیں ہو رہی اور وہ سندور ٹو کرنے کے جتن کر رہا ہے۔ مودی کا حالیہ دورہ اسرائیل بھی سندور ٹو ہی کے سلسلے کی کڑی لگتا ہے اور یہی سندور ٹو پاکستان کی مغربی سرحد پر افغان طالبان کی مدد سے بھی جاری ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ اسرائیل اور بھارت میاں بیوی ہیں اور افغانستان ان کا بچہ ہے۔ بھارت افغانستان کے ذریعے اور اسرائیل کی مدد سے پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کا افغان طالبان کے خلاف آپریشن ”غضب لِلحق“ بھی ایک بہت بروقت اور بہترین فیصلہ ہے۔ پاکستان کو عدم استحکام میں مبتلا کرنے کی سازشیں اور کوششیں کرنے والے دشمنوں کی مکمل بیخ کنی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اب جبکہ افغانستان سے جنگ کا آغاز ہو چکا ہے تو ضروری ہے کہ مغربی سرحد سے پاکستان میں دراندازی کرنے والوں کا وہ حال کر دیا جائے کہ بھارت اور اسرائیل کی ناپاک جوڑی اس کی حمایت کرتے ہوئے بھی سو بار سوچے۔
اندھے اور کوڑھی کی ”آئیڈیل“ جوڑی
08:58 AM, 28 Feb, 2026