امریکہ کا 'پریشر ڈپلومیسی' کارڈ: جنیوا مذاکرات کے درمیان دنیا کا جدید ترین امریکی بحری بیڑا اسرائیل پہنچ گیا

03:09 PM, 27 Feb, 2026

واشنگٹن / تل ابیب: امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں اس وقت ڈرامائی موڑ آگیا جب جنیوا میں جاری مذاکرات کے عین مطابق امریکی بحریہ کا جدید ترین طیارہ بردار بحری جہاز USS Gerald R. Ford اسرائیل پہنچ گیا۔ ماہرین اسے مذاکرات کی میز پر ایران کو جھکانے کے لیے واشنگٹن کی "پریشر ڈپلومیسی" قرار دے رہے ہیں۔امریکی دفاعی ذرائع کے مطابق، خطے میں بحری طاقت کی تعیناتی اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔
 خطے میں اب USS Abraham Lincoln کے ساتھ USS Gerald R. Ford بھی موجود ہے؛ بیک وقت دو ایٹمی طیارہ بردار جہازوں کی موجودگی جنگ کی بھرپور تیاری کا اشارہ ہے۔ ان جہازوں کے ساتھ 9 ڈسٹرائرز اور درجن سے زائد دیگر جنگی بحری جہاز بھی تعینات ہیں، جو یونان سے ہوتے ہوئے اسرائیل کے قریب پہنچے ہیں۔ایک طرف جنیوا میں 26 فروری کو مذاکرات کا نیا دور ہوا، تو دوسری طرف صدر ٹرمپ نے ایران کے گرد گھیرا تنگ کر دیا ہے۔ 
صدر ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ اگر ایران نے ان کے 3 بڑے مطالبات تسلیم نہ کیے اور نئے جوہری معاہدے پر دستخط نہ کیے تو فوجی کارروائی ناگزیر ہوگی۔امریکہ کا دعویٰ ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کی تہران مسلسل تردید کر رہا ہے۔

مزیدخبریں