ایران اور امریکا کے درمیان جنیوا میں عمان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں پیش رفت

12:57 PM, 27 Feb, 2026

تہران : ایران اور امریکا کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں عمان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی ہے۔ دونوں ملکوں نے اگلے ہفتے آسٹریا میں مزید بات چیت پر اتفاق کیا ہے۔ یہ مذاکرات اس وقت ہو رہے ہیں جب امریکا نے ایران کو معاہدے تک پہنچنے کے لیے 15 دن کا وقت دیا تھا، اور اس دوران ایران پر حملے کی دھمکیاں بھی دی تھیں۔

ایران کا موقف یہ ہے کہ مذاکرات صرف اس کے جوہری پروگرام پر مرکوز رہیں، جبکہ امریکا کا مطالبہ ہے کہ ایران کے میزائل پروگرام اور خطے میں اس کی حمایت یافتہ جنگجو تنظیموں کو بھی محدود کیا جائے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ مذاکرات میں بہت اچھی پیش رفت ہوئی ہے اور ہم معاہدے کے نکات پر سنجیدگی سے بات کر رہے ہیں۔ عراقچی نے یہ بھی بتایا کہ اگلا مذاکراتی دور ایک ہفتے کے اندر ہو سکتا ہے، اور اس دوران اقوامِ متحدہ کی جوہری ایجنسی کے ساتھ تکنیکی بات چیت ویانا میں شروع ہوگی۔

عمانی وزیرِ خارجہ بدر البوسعیدی نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ تکنیکی بات چیت اگلے ہفتے ویانا میں ہوگی اور مذاکرات میں اہم پیش رفت ہو چکی ہے۔

یہ مذاکرات اس وقت ہو رہے ہیں جب امریکا مشرقِ وسطیٰ میں اپنی سب سے بڑی فوجی تعیناتی کر رہا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود سخت سکیورٹی میں عمانی سفیر کی رہائش گاہ پر ملاقات کر رہے ہیں، اور اس کے بعد دونوں نے اپنے اپنے حکام سے مشاورت کے لیے وقفہ لیا ہے۔

عباس عراقچی نے ان مذاکرات کو اب تک کے سب سے سنجیدہ مذاکرات قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے کے لیے مزید تفصیل سے بات چیت کی جائے گی، جس میں پابندیوں کے خاتمے اور جوہری اقدامات پر بات کی جائے گی۔

مزیدخبریں