اسلام آباد : صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان امن، استحکام اور علاقائی سالمیت کے معاملے میں کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ پاک افغان کشیدگی کے حوالے سے اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی عوام اور مسلح افواج وطن کی سالمیت اور سرحدوں کے تحفظ کے لیے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو کسی بھی دباؤ یا دھمکی سے مرعوب نہیں کیا جا سکتا۔ "ہماری مسلح افواج کی جوابی صلاحیت مکمل طور پر بروقت، مؤثر اور فیصلہ کن ہے، اور وہ دشمن کے ناپاک عزائم کو جڑ سے ختم کرنے کی بھرپور طاقت رکھتی ہیں۔"
صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان تصادم نہیں چاہتا، لیکن اگر کسی نے پاکستان کے امن کو کمزوری سمجھا تو اسے سخت جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ پچھلے پانچ سالوں سے طالبان اپنے دہشتگردوں کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں۔
صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان نے کئی بار اس مجرم گروہ کو راہ راست پر لانے کی کوشش کی، مگر وہ کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ "آج اس گروہ نے بین الاقوامی سرحد عبور کر کے پاکستان کی سالمیت کو چیلنج کیا ہے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے برادر ممالک کی مدد سے سفارتی ذرائع استعمال کیے، مگر کوئی مثبت پیش رفت نہ ہو سکی۔
صدر زرداری نے یاد دلایا کہ "میں نے 8 فروری کو اسلام آباد میں ہونے والے خودکش حملے کے بعد طالبان کو سخت پیغام دیا تھا، اور پھر 22 فروری کو بھی انہیں دو ٹوک وارننگ دی تھی۔"آخر میں، انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بخوبی علم ہے کہ تشدد کے منصوبہ ساز اور سہولت کار کہاں ہیں، اور اگر خونریزی کا سلسلہ جاری رہا تو ان عناصر کی رسائی سے باہر کوئی نہیں ہوگا۔