پاکستان کا آپریشن "غضب للحق": افغان طالبان کے خلاف بڑی فوجی کارروائی

09:17 AM, 27 Feb, 2026

اسلام آباد : پاکستان کی مسلح افواج نے افغان طالبان کے خلاف ایک بڑا آپریشن شروع کیا ہے جس کا نام "غضب للحق" ہے۔ یہ کارروائی افغان طالبان کی جانب سے پاکستانی سرحدی علاقوں میں بلااشتعال حملوں کے جواب میں کی گئی ہے، جس میں اب تک 133 طالبان ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

پاک فوج نے افغان سرحد پر طالبان کی 27 چوکیاں تباہ کر دی ہیں اور 9 چوکیاں قبضے میں لے لی ہیں۔ اس کے علاوہ، پاک فضائیہ نے بھی افغانستان میں اہم عسکری تنصیبات پر فضائی حملے کیے، جن میں ننگرہار، کابل، قندھار اور پکتیا شامل ہیں۔ ان حملوں میں طالبان کے کور ہیڈکوارٹرز، بٹالین ہیڈکوارٹرز، اسلحہ ڈپو، اور کئی بکتر بند گاڑیاں تباہ ہو گئی ہیں۔

پاک فوج نے افغان طالبان کے حملوں کا مؤثر جواب دیتے ہوئے ان کے مختلف ٹھکانوں اور چیک پوسٹوں کو تباہ کر دیا۔ باجوڑ، تیراہ خیبر اور چترال میں طالبان کے حملوں کے دوران پاکستانی سکیورٹی فورسز نے فوری اور بھرپور جواب دیا، جس میں افغان طالبان کے کئی جنگجو مارے گئے۔

افغان طالبان نے پاکستانی علاقوں میں مارٹر گولے فائر کیے جس سے پانچ افراد زخمی ہو گئے، جن میں تین خواتین بھی شامل ہیں۔ اسی دوران، افغان طالبان نے ایک مسجد کو بھی نشانہ بنایا، جس سے مسجد کی چھت اور دیگر حصے متاثر ہوئے۔

پاکستان کے وزیرِ اطلاعات، عطا تارڑ نے اس آپریشن کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاک فوج نے طالبان کی چوکیاں اور فوجی تنصیبات تباہ کر کے ان کو بھاری نقصان پہنچایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

پاکستانی فوج کی اس کارروائی نے افغان طالبان کو ایک واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان اپنی سرحدوں اور عوام کی حفاظت کے لیے کسی بھی جارحیت کا جواب بھرپور انداز میں دے گا۔

مزیدخبریں