لاہور: آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے 75 ویں یوم آزادی کے موقع پر 75 روپے کے نوٹ کے اجرا کو غیر محتاط قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے نتیجے میں قومی خزانے پر تقریباً 1 ارب 96 کروڑ 86 لاکھ روپے کا اضافی مالی بوجھ پڑا۔
آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا کہ سٹیٹ بینک نے دو یادگاری نوٹ جاری کیے، ایک یوم آزادی اور دوسرا اسٹیٹ بینک کے قیام کی مناسبت سے، جبکہ ان کی طباعت اور ترسیل پر بھاری اخراجات کیے گئے۔ عوامی سطح پر نوٹ کی قبولیت نہ ہونے کے باوجود انتظامیہ نے 6 مارچ 2023 کو نوٹوں کی تعداد 7 کروڑ 20 لاکھ کر دی، جو مارکیٹ کی حقیقی طلب کے مطابق نہیں تھی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ سٹیٹ بینک کی جانب سے نوٹ یادگاری طور پر جاری کرنے کی وضاحت دی گئی، لیکن آڈٹ حکام اسے تسلی بخش نہیں مانتے اور غیر ضروری مالی بوجھ کو منصوبہ بندی کی کمی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔