بھارت کی خارجہ پالیسی 2025: وعدے پورے نہ ہوئے، عالمی سطح پر ناکامی

02:44 PM, 27 Dec, 2025

نئی دہلی: بھارتی اخبار دی ہندو نے 2025ء کو بھارت کی خارجہ پالیسی کے لیے ناکامی اور وعدوں کے  پورے نہ ہونے  سال قرار دیا ہے۔ اخبار کے مطابق علامتی سفارت کاری، ذاتی تعلقات اور بیانیہ سازی حقیقی معاشی، عسکری اور سفارتی طاقت کا نعم البدل ثابت نہیں ہو سکیں۔

اخبار نے کہا کہ بھارت نے خود سے اور شراکت داروں سے کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد کے لیے درکار اثر و رسوخ اور قوت نہیں رکھی۔ امریکا کے ساتھ تعلقات 2025 میں بھارت کے لیے سب سے مشکل ثابت ہوئے، جس میں 25 فیصد ٹیرف، روسی تیل پر اضافی پابندیاں اور H-1B ویزا قدغنوں نے بھارت کی واشنگٹن کے ساتھ مشروط شراکت واضح کر دی۔

چین اور روس کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے باوجود لائن آف ایکچول کنٹرول پر کوئی ٹھوس پیش رفت نہ ہو سکی، سرمایہ کاری رکاوٹیں برقرار رہیں، اور توانائی کے شعبے میں امریکا کے دباؤ کے نتیجے میں بھارت روسی تیل پر اپنے موقف سے پیچھے ہٹ گیا۔ پہلگام حملے کے بعد عسکری کارروائیوں کو عالمی سطح پر حمایت نہ ملنے اور طیاروں کے نقصانات پر خاموشی نے بھارت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔

سعودی پاکستان باہمی دفاعی معاہدے نے بھارت کے لیے ایک اضافی دھچکا دیا، جبکہ پاکستانی قیادت کی مضبوط اور منظم صلاحیتوں کا بھارتی تجزیہ کاروں کے اعتراف نے بھارت کے دعوے کہ پاکستان کمزور ہے، جھٹلایا۔

اخبار کے مطابق بھارت “وشو گرو” کے بیانیے سے نکل کر “وشو وکٹم” کی طرف بڑھ رہا ہے اور دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرانا حقیقت پسندانہ پالیسی سازی میں سب سے بڑی رکاوٹ بن رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کو اپنی سفارتکاری کو عملی اقدامات سے مضبوط کرنا ہوگا اور اپنے ملک میں اقلیتوں پر حملوں کی روک تھام کے اقدامات اٹھانے ہوں گے۔

مزیدخبریں