نیویارک: اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر ماہانہ بریفنگ کے دوران مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آبادکاری اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی سمیت تمام غیر قانونی اقدامات فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان کا یہ مؤقف سلامتی کونسل میں اس کے مسلسل مطالبے سے بھی ہم آہنگ ہے کہ آبادکاری کی توسیع دو ریاستی حل کے امکانات کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقے انتہائی نازک صورتحال سے دوچار ہیں، جہاں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیاں جاری ہیں اور زمینی حقائق تبدیل کرنے کی کوششیں مستقبل کی فلسطینی ریاست کی علاقائی و سیاسی بنیادوں کو کمزور کر رہی ہیں۔انہوں نے ای ون آبادکاری منصوبے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے سے مغربی کنارے کا علاقائی تسلسل متاثر ہونے اور ہزاروں فلسطینیوں کے جبری بے دخلی کا خطرہ ہے۔ انہوں نے اسرائیل سے تمام غیر قانونی آبادکاری سرگرمیاں فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔
پاکستانی مندوب نے آبادکاروں کے تشدد میں اضافے کو بھی ناقابل قبول قرار دیا اور کہا کہ اس رجحان کی روک تھام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے فلسطینی اتھارٹی کے تقریباً 6 ارب ڈالر کے کلیئرنس ریونیو کی مسلسل روک تھام پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے رقم بلا تاخیر جاری کرنے پر زور دیا۔
غزہ کی صورتحال پر سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ جنگ بندی کے باوجود فلسطینی عوام بدستور جانی نقصان، تباہی اور شدید انسانی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے جنگ بندی کی مکمل پاسداری، مؤثر نگرانی اور خلاف ورزیوں کی تصدیق کے لیے عملی طریقہ کار یقینی بنانے پر زور دیا۔انہوں نے غزہ امن منصوبے اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر مکمل اور نیک نیتی سے عملدرآمد کا مطالبہ کر نے پر زور دیا۔
اسرائیلی آبادکاری اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی فوری روکی جائے، پاکستان
01:07 PM, 27 Aug, 2026