حالیہ پاک بھارت جنگ کے بعد اور وزیر اعظم شہباز شریف کی چین کے خوبصورت شہر تیانجن میں منعقد ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت سے پہلے چینی وزیر خارجہ وانگ ژی کی اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ تین روزہ دورے پر پاکستان آمد انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ پاکستان اور چین کی سدا بہار دوستی مثالی ہے۔ دونوں ممالک کے باہمی رابطے ہمیشہ ہی اہم اور ثمر آور نتائج کے حامل ہوتے ہیں۔ چینی وزیر خارجہ وانگ ژی کی پاک چین سٹرٹیجک مذاکرات کے چھٹے دور میں شرکت کے بعد اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ پاکستان آمد نے خطے میں رونما ہونے والے واقعات کے تناظر میں خاص اہمیت اختیار کرلی ہے۔ پاکستان اور چین کی پائیدار سٹرٹیجک شراکت داری خطے میں امن و استحکام کیلئے نہایت اہم اور دونوں ممالک کی خوشحالی کیلئے ناگزیر حیثیت کی حامل ہے۔
پاکستان اور چین اس بات پر مکمل طور پر متفق ہیں کہ خطے کے امن اور استحکام کیلئے مل کر کام کیا جائے گا۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے اشارے بھی واضح ہیں۔ چینی وزیر خارجہ نے چینی صدر شی چن پنگ کے اس ویژن کا اعادہ کیا ہے کہ چین اور پاکستان کا مستقبل مشترک ہے۔ چینی وزیر خارجہ کے یہ جملے خاص اہمیت و معنونیت کے حامل ہیں کہ چین کے پاکستان کیساتھ تعلقات مزید نئی بلندیوں تک لے جائے جائیں گے۔
چین پاکستان کی قومی آزادی، علاقائی سالمیت، خودمختاری کے تحفظ اور انسداد دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کی مکمل حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان اور چین کے وزراء خارجہ کا دورہ افغانستان اور افغان عبوری وزیر خارجہ امیر متقی سے کابل میں ملاقات خطے کی اقتصادی ترقی اور امن و امان کے قیام کے حوالے سے انتہائی اہم ہے۔ پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خواہ اور بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی کے ڈانڈے افغانستان میں روپوش ان دہشت گردوں سے ملتے ہیں جن کی براہ راست سرپرستی بھارت کر رہا ہے۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ افغان حکومت پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے پیچھے بھارت کے ہاتھ اور افغان دہشتگردوں کے ساتھ کے بارے میں سب کچھ جانتی ہے۔ افغان حکام یہ بھی جانتے ہیں کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے ،خیبر پختون خواہ اور بلوچستان میں ہونے والی دہشتگردی کی وجہ سے بری طرح سے متاثر ہو رہے ہیں۔
افغانستان کو علاقائی ترقی کے دھارے میں شامل کرنے اور سی پیک منصوبوں کو کامیاب بنانے کے لئے چین اور پاکستان کی سول وعسکری قیادت نے دہشتگردوں کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر کچلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ افغان طالبان حکام کی ناک کے نیچے ٹی ٹی پی, بی ایل اے، مجید بریگیڈ اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں اور یہی دہشت گرد پاکستان اور چین کی سالمیت،ترقی اور امن کے لئے انتہائی خطرناک ہیں۔ 90 کی دہائی میں پاکستان اور افغانستان سے ملحقہ چین کے صوبہ شن جیانگ میں ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کے دہشتگردوں نے چین کا امن و امان تاراج کئے رکھا جسے چینی سکیورٹی فورسز نے کامیابی سے کچل کر رکھ دیا۔
میں تین بار چین کا دورہ کر چکا ہوں اسی لئے ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کی چینی علاقے شن جیانگ میں کی جانے والی دہشتگردی کی تفصیلات سے مکمل طور پر آگاہ ہوں۔ جس طریقے سے چینی سکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کے دہشتگردوں کا شن جیانگ میں کامیابی سے صفایا کیا پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس ایجنسیاں اس سے رہنمائی لیتے ہوئے ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ سمیت تمام دہشت گرد گروہوں کو کچل کر ملک میں امن و امان قائم کر سکتی ہیں۔ بھارت نے حالیہ پاک بھارت جنگ میں عبرتناک شکست کے بعد پلان بی کے تحت اپنے دہشت گردوں کو ایک بار پھر خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں متحرک کر دیا ہے۔ پاکستان فضائیہ کی مہارت اور صلاحیتوں سے خائف بھارت اب مشرق سے پاکستان پر حملے کی جرأت نہیں کرے گا۔ اسی لئے بھارت اب مغربی سرحد سے دہشتگردوں کے ہاتھوں پاکستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے۔ پاکستان نے مشرقی سرحد پر بھارت کو جس ذلت سے دوچار کیا ہے اسے مغربی سرحد پر بھی اسی ذلت سے دوچار کرنا ہوگا۔ یہ فتح پاکستان کی 10مئی سے بھی بہت بڑی فتح ہوگی۔
دفاعی تعاون کے علاوہ زراعت اور مائننگ میں تعاون جاری رکھنے پر بھی پاکستان اور چین میں اتفاق ہوا ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کا معیار بلند کرنے اور اس ضمن میں پیش قدمی کے واضح اشارے دیئے گئے ہیں۔ چینی وزیر خارجہ وانگ ژی کی اعلیٰ سطح وفد کے ہمراہ وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر موجود رہے۔ اس اعلیٰ سطحی ملاقات میں پاکستانی سول اور عسکری قیادت نے چین کے ساتھ دفاع کے ساتھ دیگر اہم شعبوں میں بھی مزید تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
اگلے برس وزیراعظم شہباز شریف ایس سی او اجلاس کے موقع پر بیجنگ جائیں تو پاک چین دوستی کی 75ویں سالگرہ نہ صرف انتہائی جوش و خروش سے منائی جائے بلکہ دونوں ملکوں کے باہمی تعاون کے حوالے سے نئے پہلو اور پیش رفتیں مزید نمایاں ہوں۔ چین کے ساتھ دوستی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔ چینی وزیر خارجہ کے دورے کا یہ وقت دوسرے عوامل کیساتھ اس بنا پر بھی خاص اہمیت کا حامل ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے پہلے مرحلے میں بجلی اور سڑکوں سے متعلق بنیادی کام بڑی حد تک تکمیل پا چکے ہیں دوسرے لفظوں میں انفرا اسٹرکچر کی تعمیر اور گوادر بندرگاہ کو تجارت کیلئے فعال بنانے کا کام اس مرحلے پر پہنچ چکا ہے کہ اْسے وسطی ایشیا کو باقی دنیا سے تجارت کیلئے بھرپور طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔
سی پیک کے دوسرے مرحلے میں معیشت اور عوامی بہبود سے براہ راست تعلق رکھنے والے منصوبے بروئے کار لائے جائیں جن سے لوگوں کی بڑی تعداد کو روزگار اور صنعت و تجارت کا پہیہ رواں کرنے میں مدد ملے۔ پاکستان صنعتی و زرعی انقلاب کی طرف قدم بڑھا کر ہی چین سے ہم آہنگ ترقی کر سکتا ہے۔ سی پیک میں مزید ممالک بھی شمولیت کے خواہشمند ہیں۔ حالیہ پاک بھارت جنگ کے بعد سی پیک منصوبوں کی حفاظت، دہشت گردی کے خاتمے اور بھارت کی کسی بھی مہم جوئی سے نمٹنے کو یقینی بنانا ہوگا۔
اک بڑی فتح کا انتظار
09:14 AM, 27 Aug, 2025