دریا جب قید سے نکلے

09:13 AM, 27 Aug, 2025

قدرتی آفات، سیلابوں، زلزلوں، طوفانوں، لینڈ سلائیڈنگ ،برف باری، جنگلات کی آگ، خشک سالی اور ان سے ملتی جلتی قدرتی آفات سے سو فیصد بچنے کے لیے ابھی تک ترقی یافتہ ممالک جن میں امریکہ، برطانیہ ،آسٹریلیا، چین، جاپان جیسے ممالک ابھی تک کوئی حل نہیں نکال سکے اور شاید کبھی ایسا ہو بھی نہ سکے کیونکہ کسی قدرتی آفت کے برپا ہونے سے پہلے مکمل طور پر کیلکولیٹ نہیں کیا جا سکتا ابھی تک کوئی بھی سائنسی تحقیق اس مقام تک نہیں پہنچ سکی لیکن ان سمیت بہت سے ممالک نے ان آفات میں جانی نقصان کو کم سے کم کرنے کے لیے بہت تحقیق تجربات اور محنت کی ہے۔
 میرا خیال ہے کہ ان کی تحقیق سے ساری دنیا فائدہ اٹھا سکتی ہے اگر تمام کے تمام ممالک ان کے مقرر کردہ پیرامیٹرز پر عمل کر لیں تو بہت سی قیمتی جانوں کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکتا ہے ۔ جس طرح گزشتہ دنوں سیلاب اور کلاؤڈ برسٹ نے سوات، بونیر، کالام ،آزاد کشمیر، گلگت، بلتستان، سمیت شمالی علاقہ جات میں تباہی کی وہ داستانیں رقم کی ہیں جن کا دکھ کبھی بھلائے نہیں جا سکتے اب آپ خود اندازہ لگائیں جس کا سارے کا سارا خاندان سیلاب میں بہہ گیا دریا کا بے رحم پانی اس کی آنکھوں کے سامنے اس کا مستقبل ،خواب، امیدیں، خوشیاں، امنگیں، گھر، مویشی، مال و دولت حتی کہ سب کچھ بہا لے گیا اس کو نارمل زندگی تک آنے میں نہ جانے کتنا وقت درکار ہوگا وہ اس اذیت دکھ تکلیف اور کرب کے ساتھ زندہ رہ بھی پائے گا یا نہیں یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا ۔
بچپن سے سنتے آ ئے ہیں کہ دریا جہاں سے ایک بار گزر جائے وہ جگہ اس کی ہو جاتی ہے اور وہ اپنی ملکیت سے کبھی دستبردار نہیں ہوتا انسان اپنی ٹیکنالوجی کی مدد سے لاکھ کوشش کر لے اگر اسے وقتی کامیابی مل بھی جائے تب بھی دریا خود کو قیدی ہی سمجھتا ہے اور جب وہ قید سے نکل کر اپنی ملکیت واپس لیتا ہے تو پھر مضبوط سے مضبوط رکاوٹوں کو بھی تہس نہس کر دیتا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سیلابی ریلے 
سارے کے سارے گاؤں بہا لے گئے لیکن سب سے زیادہ نقصان وہاں ہوا جو دریا کی ملکیتی زمین تھی لوگوں نے بڑی دلیری کے ساتھ اس کی زمینوں پر قبضہ کر کے گھر مارکیٹیں ہوٹل بنا لیے اور ان کی بنیادیں یقینا مضبوط رکھی ہوں گی لیکن پانی کے آ گے کس کا زور چل سکتا ہے بلاشبہ وطن عزیز کا یہ بڑا نقصان ہوا اب چاہ کر بھی ان لوگوں کو واپس نہیں لایا جا سکتا جو اس دنیا سے چلے گئے لیکن جو بچ گئے انہیں بچانے کی کوشش کرنی ہوگی میدانی علاقوں کے جو لوگ اس آفت سے محفوظ رہے ان پر لازم ہے کہ مصیبت کی اس گھڑی میں اپنے بھائیوں کا ساتھ دیں ان کے پاس کچھ نہیں بچا اس لیے کوشش کریں کہ پہلے مرحلے میں ان کے لیے ادویات خوراک اور خیموں کا انتظام کریں پاکستانی قوم دنیا میں خیرات کرنے والی اقوام میں پہلے نمبر پر ہے اور ہمیں اس نمبر پر قائم رہنے کے لیے اپنے بھائیوں کی مدد کو پہنچنا ہوگا۔
حکومت کے پی کے سے گزارش ہے کہ فوری طور پر ان کے لیے رہائش کا انتظام کریں۔ آ ئندہ چند روز میں کے پی کے کے بہت سے علاقوں میں درجہ حرارت گر جائے گا یہ نہ ہو کہ جو سیلاب میں بچ گئے وہ سردی کی شدت سے متاثر ہو جائیں اس لیے فوری طور پر صوبے میں موجود تمام سرکاری اور پرائیویٹ سکول کالجز یونیورسٹیاں سرکاری گودام خالی پڑی فیکٹریاں دفاتر یونین کونسلوں محکمہ خوراک جنگلات ٹرانسپورٹ کے دفاتر اور جتنی بھی جگہیں حکومت کے دسترس میں ہوں کو خالی کروا لیا جائے اور انہیں سیلاب زدہ بھائیوں کی عارضی رہائش گاہوں میں تبدیل کر دیا جائے اس وقت ان علاقوں میں سیاحت کے لیے جانے والے افراد کو روک کر تمام ہوٹل بغیر کسی کرائے کے انہیں دے دیے جائیں اور جو لوگ پھر بھی بچ جائیں کے پی اور پنجاب کے لوگوں کو چاہیے کہ وہ اللہ کی رضا کے لیے اپنے گھروں کا ایک ایک کمرہ عارضی طور پر انہیں دے دیں تاکہ یہ اور ان کے بچے موسمی شدت سے محفوظ رہ سکیں ۔
یہ آفات نہ تو پہلی بار آئیں ہیں اور شاید نہ آ خری ہوں گی اس لیے حکمرانوں کو چاہیے کہ فورا آئندہ آنے والی مشکلات سے بچنے کا کوئی مستقل سدباب کریں ۔ سب سے پہلے دریا اور نشیبی زمینوں کو آبادی سے خالی کروایا جائے ایک پلاننگ سروے اور نقشے کے تحت انہیں متبادل جگہیں فراہم کی جائیں دریاؤں کے کناروں کو مضبوط کیا جائے درختوں سے تمام خالی جگہوں کو بھر دیا جائے تاکہ زمینی کٹاؤ اور ریلوں کی رفتار کو کم کیا جا سکے سیلاب میں بہہ کر آنے والے درختوں نے یہ داستان بیان کی ہے کہ کے پی کے میں کس بے دردی سے جنگلات کو کاٹا گیا اگلے مرحلے میں پانی کو جمع کرنے کے لیے فوری طور پر بڑے اور چھوٹے ڈیمز تالاب ٹوبے کنویں تعمیر کیے جائیں جدید انفراسٹرکچر فلڈ چیلنجز اور بائی پاس نہریں نکال کر پانی کو جھیلوں اور دریاؤں تک پہنچایا جائے تمام دلدلی علاقوں کی نشاندہی کی جائے کیونکہ ان علاقوں میں پانی جذب کرنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے ۔ اس پانی کو ایک منظم نہری نظام کے ذریعے بارانی اور بنجر علاقوں تک پہنچا کر بڑے بڑے تالابوں میں جمع کیا جائے جو خشک سالی کے دنوں میں زرعی ضروریات کو پورا کرنے کے کام آئے اور پہاڑوں میں جہاں کہیں بھی مناسب جگہ ملے پانی جمع کریں اور اسے ٹریٹمنٹ پلانٹ سے گزار کر ان علاقوں کو مہیا کریں جہاں پینے کے پانی کی کمی ہے حکومت کے پاس ضائع کرنے کے لیے ایک دن بھی نہیں ہے کیونکہ اب سب پر یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ دریا جب قید سے نکلتے ہیں تو کتنے خوفناک اور بے رحم ہو جاتے ہیں ۔
جناب وزیراعظم اور جناب وزیراعلیٰ کے پی برائے کرم اپنی سیاسی جنگ بند کریں اور لوگوں کو بچانے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھ جائیں تاکہ آنے والی ممکنہ تباہی سے اپنے لوگوں کو بچایا جا سکے۔ کیونکہ دنیا بھر کے سائنس دانوں نے پاکستان کو یہ وارننگ جاری کی ہے کہ آنے والے کئی سالوں تک ایسی مصیبتیں آتی رہیں گی اس کا کوئی مناسب اور مستقل سد باب کر لیں ۔ اگر اب بھی حکمران اپنے لوگوں کو سیلابی ریلوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر جلسے جلوسوں میں ناچ گا رہے ہوں تو پھر عوام کو بھی یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آئندہ الیکشن میں ان کے ساتھ کیا رویہ رکھنا چاہیے اللہ کریم سے دعا ہے کہ عرض پاک کو ہر قسم کی آفات سیلابوں زلزلوں طوفانوں اور جنگوں سے محفوظ فرمائے بے شک میرا رب بڑا رحم کرنے والا ہے۔

مزیدخبریں