کشف المحجوب میں سیّدِ ہجویر حضرت علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش تصوف کی تعریف میں قلم فرسا ہیں: ’’تصوّف حْسنِ خْلق ہے۔ جو حْسنِ اخلاق میں آگے ہے،وہ تصوّف میں بھی زیادہ آگے ہے ‘‘۔ تصوف کی یہ تعریف حضرت امام باقرؓ سے منقول ہے۔ تصوف کے موضوع پر ایک ہزار برس قبل لکھی جانے والی اس نادر تصنیف میں تصوف کے متعلق گزشتہ چار سو برس قبل کے تمام مشاہیر اسلام کے احوال و اقوال بھی محفوظ کیے گئے ہیں۔ یوں یہ ایک شخصی تصنیف کی بجائے ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت بھی اختیار کر جاتی ہے۔ حضرت امام باقرؓ ،حضرت امام زین العابدینؓ کے فرزند ہیں اور حضرت امام زین العابدینؓ، نواسہ رسولؐ جگر گوشہِ بتولؓ حضرت امام حسینؓ کے فرزند و جانشین ہیں۔ سیّدِ ہجویرؒ خود نسبی اعتبار سے صرف آٹھ پشتوں کے واسطے سے دَرِ رسالتؐ سے واصل ہیں اور نو پشتوں کے فاصلے سے دَرِ ولایت سے متصل ہیں۔ یعنی آپؒ نسبی اور حسبی دونوں اعتبار سے مصطفوی اور علوی ہیں۔ صوفیاء دراصل اصحابِ صفہ کے معنوی جانشین ہیں۔ قرآن میں انہیں عبادالرحمٰن کے نام سے پکارا گیا ہے، کبھی انہیں محسنین کے نام سے یاد کیا گیا ہے اور کبھی شاہدین اور اہلِ ذکر سے موسوم کیا گیا۔ اہلِ ذکر سے سوال کرنے کا حکم ہے، فکری اور روحانی الجھنیں اہلِ ذکر کے سامنے رکھی جائیں تو سلجھ جاتی ہیں۔ چودہ برس سے یہ روایت قائم ہے کہ یہ اہلِ ذکر اپنا ایک حلقہ قائم کرتے ہیں۔اس حلقے میں ذکر و فکر محفلیں سجائی جاتی ہیں۔ فکر ایک خاموش ذکر ہے اور ذکر ایک بولتا ہوا فکر ہے۔ ذکر اور فکر دونوں کے لیے وضو لازم ہے۔ یہ لوگ نیت کا وضو بہت اہتمام سے کرواتے ہیں۔ دل سے حسد ، نفرت ، بغض اور لالچ ایسی نجاستیں دور کرواتے ہیں اور فکرو عمل کو قبلہ رْو کروا دیتے ہیں۔ عبادت کے لیے پاک ہونا بہت ضروری ہے۔ پاک وہ ہے جو ہر قسم کے مفاد سے
پاک ہے۔ نیت پاک، جسم پاک ، روح پاک… سبحان ذات کی طرف جانے کے لیے پاک ہونا ضروری ہے… صرف پاک کلمہ ہی آسمان کی طرف چڑھتاہے۔ لطافت اوپر اْٹھے گی، کثافت پیوندِ خاک ہو جائے گی۔ اسی اصول کی پاسداری، اسی اصول کی نگہداری کا نام تزکیہ ہے۔
سلسلہ ہائے رشد و ہدایت لے کر جو قافلے اس کرہِ ارض کے طول و عرض میں نکلے، ان میرانِ قافلہ میں ایک معتبر نام حضرت مولانا جلال الدین رومیؒ ہے، یہ نام اب شرق و غرب میں جگمگا رہا ہے اور متلاشیانِ حق کے قلوب میں ضیا پاشی کر رہا ہے۔ خانقاہیں تزکیہ گاہیں ہیں۔ اس کااندازہ ہمیں قونیہ میں حضرت مولانا جلال الدین رومیؒ کی خانقاہ کی زیارت کے دوران میں ہوا۔ اگرچہ اس قدیم خانقاہ کو اب ایک میوزیم کا درجہ دے گیا گیا ہے، لیکن تاریخ اور جغرافیہ ابھی تک بہت کچھ بتا رہا ہے۔
کہتے ہیں، کسی کی فطرت کا اندازہ کرنا ہوتو اس کے ساتھ سفر کرو، یا پھر اس کے ساتھ کھانا کھاؤ۔ سفر و حضر میں انسان کا اصل روپ سامنے آ جاتا ہے۔ اس خانقاہ کے قیام میں بھی شائد یہی اصول کار فرما تھا۔ یہاں سالکین کی تربیت کھانے کی میز سے شروع ہو جاتی تھی۔ گفتگو کی محفلیں لنگر خانے میں سج جاتیں۔ ایک بڑا سا گول میز سامنے ہوتا اور اس کے گردا گرد اساتذہ بیٹھ جاتے، ہر میز میں اساتذہ کے ساتھ ہی طلباء بھی ہوتے۔ سوپ پینے کے دوران میں ، قہوے کا دَور چلنے کے درمیان ہی میں رموزِ حکمت آشکار کر دیے جاتے۔ کھانے کے دوران میں کھانے کے متعلق کچھ بات نہ ہوتی۔ کھانا لانے اور دسترخوان برخاست کرنے کے لیے اشارات مقرر تھے۔ اگر پلیٹ میں چمچ سیدھی ہے تو اس کا مطلب ہے: ھل من مزید… اور چمچ اْلٹا کر رکھ دیا جاتا تو اِس کا مطلب ہوتا: پْرباش! اسی طرح کے اور بہت سے اشارہ جات اس محفل کے دستور میں شامل تھے۔ جب کوئی طالب علم بغرضِ حصولِ علمِ معرفت خانقاہ پر حاضر ہوتا تو اسے چند دنوں کے لیے خانقاہ سے باہر ایک تخت پوش پر بٹھا دیا جاتا، موسم کی گرمی سردی سے بچنے کے لیے اس کی نشست گاہ کے اوپر ایک چھتری نما کینوپی لگا دی جاتی۔ اس کی جوتیاں اسی تخت پوش کے نیچے پڑی رہتیں۔ ان چند دنوں میں اس کی حرکات و سکنات اور طعام و قیام کے آداب نوٹ کر لیے جاتے۔ اگر اسے خانقاہ میں داخلے کا اذن ہوتا تو اس کا اشارہ اسے یوں دیا جاتا کہ اس کی جوتیوں کا رخ خانقاہ کے دروازے کی سمت کر دیا جاتا ، اگر اسے اس تربیت گاہ سے واپس لوٹانا مقصود ہوتا تو اْس کے جوتوں کا رخ باہر کی سمت کر دیا جاتا، کہ جدھر سے آئے ہو، ادھر ہی لوٹ جاؤ۔ یہ لوگ اپنے طالبعلموں کا انتخاب کرنے میں بہت محتاط تھے۔ یہ سب باتیں ہمیں بہرام خان نے بتائیں۔ بہرام خان وہاں متعین ایک خوبرو نوجوان ہے، جو ایک عرصے سے گائیڈ کے فرائض سر انجام دے رہا ہے۔ اس گائیڈ تک پہنچنے میں ہمیں آمنہ بیٹی گائیڈ کیا تھا۔
چند ماہ قبل علی بھائی کے ہاں ایک بہت پیاری بیٹی سے ملاقات ہوئی ، اس کا نام آمنہ تھا ، معلوم ہوا کہ قونیہ یونیورسٹی میں انٹرنیشل ریلیشن میں ایم فل کر رہی ہے۔ علی بھائی کے ہاں اپنے پروفیسر عثمان تمیمی کے ہمراہ آئی تھی۔ عثمان تمیمی ، پروفیسر جہانگیر تمیمی کے شاگرد ہیں۔ پروفیسر جہانگیر تمیمی تمام عمر مجرد رہے ، درویش آدمی تھے، ساری عمر پنجاب یونیورسٹی کو دے دی، یہیں آسودہِ خاک ہیں۔ کسی زمانے میں ان کے ہاں خوب آمدر فت تھی۔ یونیورسٹی نے ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد ہوسٹل کے ایک کمرے میں انہیں تاحیات رہائش دے دی تھی اور یہ وہاں پروفیسر ایمریٹس کے طور پر تا دمِ مرگ کام کرتے رہے۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ کے نام اور مقام پر دل و جان سے فریفتہ تھے۔ پروفیسر صاحب کے چاہنے والے مجھے زندگی میں کسی نہ کسی موڑ پر اچانک ملتے رہتے ہیں۔
آدابِ خانقاہ حضرت مولانا
09:12 AM, 27 Aug, 2025