کلائمیٹ بم اور موسمیاتی دفاعی نظام؟

09:12 AM, 27 Aug, 2025

 دنیا کے تمام ممالک کی طرح پاکستان بھی اپنے دفاعی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کرتاہے۔ جدید ہتھیار، جنگی جہاز، میزائل اور ڈرونز تیار کیے جاتے ہیں تاکہ مربوط دفاعی نظام کے ذریعے بیرونی دشمن کے حملے سے بچا جا سکے۔ لیکن ایک ایسا دشمن جو نہ کسی جنگی جہاز کا سہارا لیتا ہے، نہ ڈرون یا میزائل کا، بلکہ خاموشی سے حملہ کرتا ہے، ہزاروں جانیں نگل جاتا ہے اور اربوں ڈالر کا معاشی نقصان کردیتاہے، اس کے خلاف کوئی مربوط حکمتِ عملی نظر نہیں آتی۔ یہ دشمن ہے کلائمیٹ چینج یعنی موسمیاتی تبدیلی۔
موسمیاتی تبدیلی اب محض ایک سائنسی اصطلاح نہیں بلکہ دنیا بھر میں تباہی مچانے والی ایک حقیقت ہے۔ پچھلی چند دہائیوں میں عالمی درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، گلیشیئرز پگھل رہے ہیں، غیر متوقع بارشوں اور کلاؤڈ برسٹ جیسے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک پر اس کے اثرات کہیں زیادہ شدید ہیں، کیونکہ یہاں بنیادی ڈھانچہ مضبوط ہے اور نہ ہی قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے خاطر خواہ وسائل  و حکمت عملی موجود ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کی اپریل  2025 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان ہر سال اوسطاً دو ارب ڈالر سے زائد نقصان موسمیاتی آفات کی وجہ سے برداشت کرتا ہے۔ یہ نقصان صرف معیشت تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس سے غربت کی شرح میں بھی اضافہ ہوتا ہے، کیونکہ بنیادی سہولیات متاثر  ہونے اور زراعت کی تباہی سے لوگوں کے روزگار ختم ہو جاتے ہیں۔
ڈنمارک کا دارالحکومت کوپن  ہیگن موسمیاتی تبدیلی کے خلاف کامیاب حکمتِ عملی کی ایک بہترین مثال ہے۔ یہ شہر تاریخی طور پر کلاؤڈ برسٹس اور بڑھتے ہوئے سمندری پانی کے خطرات سے دوچار رہا ہے۔ 2011 میں ایک تباہ کن بارش نے تقریباً ایک ارب ڈالر کا نقصان کیا، جس کے بعد حکومت نے فوری طور پر ایک جامع کلاؤڈ برسٹ مینجمنٹ پلان تیار کیا۔ اس منصوبے کے تحت پانی کے بہاؤ کی نقشہ سازی، بارش کے پانی کو روکنے کے لیے اپ اسٹریم اسٹوریج، خصوصی سڑکوں اور رین گارڈنز کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس حکمتِ عملی نے نہ صرف اربن فلڈنگ کے خطرات کم کیے بلکہ شہر کو مزید خوبصورت اور ماحول دوست بنایا۔ آج کوپن  ہیگن دنیا کے ان چند شہروں میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کا مقابلہ کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔کیا پاکستان بھی اس حکمت عملی سے سبق سیکھ سکتا ہے؟  ۔
ملک کا معاشی حب کراچی بھی شدید بارشوں کی زد میں رہاہے۔ گزشتہ دنوں ہونے والی  بارش نے شہر کی زندگی مفلوج کرکے معاشی سرگرمیوں کو بھی مکمل طور پر ٹھپ کردیا۔ رپورٹس کے مطابق تاجروں کو صرف دو دن میں تقریباً 15 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ عوام کے جانی و مالی نقصانات کا اندازہ  اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔   
کراچی جیسے شہر پر حکمرانی کے دعویدار تو سب ہیں لیکن اس کا والی وارث کوئی نہیں بنتا۔ اس بارش کے بعد بھی تمام سیاسی سٹیک ہولڈرز ایک دوسرے پر الزامات لگاتے نظر آئے ہیں۔ پانی کی قلت، خراب سڑکوں، خستہ حال ٹرانسپورٹیشن، بد ترین ٹاؤن پلاننگز اور مسلسل  بد انتظامیوں و لوٹ مار نے کراچی کاحال برا کر دیا ہے۔ لیکن یہ بد ترین حالات کسی کے لئے بہترین حالات کا پیش خیمہ بھی ہوتے ہیں۔    انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے میئرکراچی مرتضیٰ وہاب، وفاق سے ترقیاتی پیکج کے مطالبات کررہے ہیں۔  لیکن سوال یہ ہے کہ ان  فنڈز کا استعمال کہاں پر ہوتا ہے؟ماضی میں کئی ترقیاتی پیکجز کا اعلان ہوچکا ہے اور آن گراؤنڈ ایک منصوبہ بھی مکمل نظر نہیں آتا۔ کراچی کو درپیش مسائل حل کرنے کے لیے المشہور 1100 ارب روپے کے پیکج کا اعلان 2020 میں اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے کیا تھا۔ جس میں تین
 مراحل قلیل مدت، درمیانی مدت اور طویل مدت کے ترقیاتی منصوبے شامل کیے گئے  تھے۔ لیکن اس اعلان کے بعد کیا ہوا؟ کتنا عمل درآمد ہوا؟ اس کا اندازہ آپ حالیہ بارش سے لگاسکتے ہیں۔ سندھ پر دہائیوں سے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم حکومت کرتی آئی ہے البتہ کراچی کی حالت مزید ابتر سے  بدبتر ہوتی چلی جارہی ہے۔ حیرت اس بات کی ہے کہ بارش کے دوران  ایم کیو ایم کے رہنما  فاروق ستار لینڈ کروزر کی چھت پر بیٹھ کر نعرے لگوا رہے تھے۔ وزیر اطلاعات شرجیل میمن فرماتے  ہیں کہ اگر  بارش وقفے وقفے سے ہوتی تو اتنے مسائل نہ ہوتے۔ ان کی اس دانشمندی پر کراچی کے ایک عام شہری نے بڑا برجستہ تبصرہ دیا کہ کیا اب بارش بھی ان کی فرمائش پر ہونی چاہیے تھی؟ کراچی میں مزید بارشوں کی پیشگوئی ہے۔ بس دعا ہے کہ قدرت عام شہریوں پر رحمت کی بارش برسائے جن کا کوئی والی وارث نہیں ہے۔ 
اقوامِ متحدہ کے آفس فار کوآرڈینیشن آف ہیومینیٹیرین افیئرز کے مطابق 26 جون سے 20 اگست کے دوران پاکستان میں شدید مون سون بارشوں اور فلیش فلڈز نے 739 افراد کی جان لی، 978 افراد زخمی ہوئے اور 2,400 سے زائد مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہوئے ہیں۔ خیبر پختونخواکے انفرااسٹرکچر اور زرعی اراضی کو شدید نقصان پہنچاہے۔ صرف 15 اگست کے بعد سے صوبے میں 400 سے زائد افراد جاں بحق، 526 رابطہ سڑکیں اور 106 پل  تباہ، 326 تعلیمی مراکز، 38 صحت کے مراکز، 67 سرکاری دفاتر اور 2,808 دکانیں متاثر ہوئیں۔ اس کے علاوہ گلگت  بلتستان میں بھی شدید نقصان ہوا ہے۔  یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ قدرتی آفات نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان کر رہی ہیں بلکہ معیشت اور خوراک کی سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ یہ تمام حقائق ایک تلخ حقیقت کو آشکار کرتے ہیں کہ موسمیاتی آفات کا سب سے بڑا نقصان انسانی جانوں کا ضیاع ہے جس کی کوئی بھروائی نہیں کر سکتا۔ موجودہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ ہم فوری طور پر ایک جامع حکمتِ عملی اپنائیں۔ قومی سطح پر کلائمیٹ ریزیلینس پلان بنایا جائے، جس میں شہری منصوبہ بندی، انفراسٹرکچر، اور قدرتی وسائل کے مؤثر استعمال پر زور دیا جائے۔ اربن فلڈنگ کے حل کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے، جیسے واٹر فلو ماڈلنگ، بارش کے پانی کے لیے مخصوص راستے، اور زیرِ زمین اسٹوریج سسٹم۔ سبز انفراسٹرکچر کو فروغ دیا جائے، جیسے رین گارڈنز، گرین روفس اور پارکس تاکہ بارش کے پانی کو جذب کیا جا سکے۔ اس کے لیے قانون سازی اورقومی و عالمی مالیاتی فنڈنگ کی ضرورت ہے تاکہ موسمیاتی خطرات کو محدود کیا جاسکے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں موجود سیاسی عدم استحکام، کمزورفیصلہ سازی، نااہل بیوروکریسی اور پلاننگ کے فقدان کے باعث عوام کو اس کلائیمیٹ بم کے چیلنج کا سامنا ہے۔اگر پاکستان نے  فوری طورپر عملی اقدامات نہ کیے تو آنے والے  برسوں میں یہ خطرہ مزید بڑھے گا اور ہماری بقا کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن جائے گا۔ ہمیں اب یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم اس ''کلائمیٹ بم''  کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی دفاعی نظام بنائیں یا آنے والی نسلوں کو تباہی کے دہانے پر چھوڑ دیں!۔

مزیدخبریں