سبز پاسپورٹ کی عزت کیسے بحال ہو گی؟

08:29 AM, 28 Apr, 2026


یہ سفید بلکہ ”کالا جھوٹ“ صرف بیرون مُلک بیٹھے کچھ شرپسند ہی بول سکتے ہیں کہ امریکہ اسرائیل اور ایران کی جنگ رُکوانے میں پاکستان کی امن کوششوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا یا اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا، کچھ لوگوں کی فطرت بڑی منفی ہوتی ہے، مثبت سوچ کا کوئی تصور ہی اُن کے ہاں نہیں ہوتا، وہ ہلکے سے بخار اور نزلے میں مبتلا کسی شخص کے بارے میں بھی اُس کے عزیزوں سے کہہ رہے ہوتے ہیں ”ایدا کفن سلوا لو، اینے نئیں بچنا“، پچھلے دنوں میرے ایک جاننے والے کو اللہ نے پندرہ سال بعد اولاد (بیٹے) سے نوازا، میں مبارک دینے اُس کے گھر گیا، کچھ دیر بعد وہاں ایک صاحب لائے جو اُن کے عزیز تھے، اُنہوں نے بچے کو گود میں لیا، کہنے لگے ”ماشاءاللہ بڑا پیارا بچہ ہے، اس کی آنکھیں بھی بڑی پیاری ہیں، رنگ بھی گورا چٹا ہے، مگر افسوس مر ایک دن اس نے بھی جانا ہے“۔ میں نے سوچا اس شخص کی کتنی منفی ذہنیت ہے جو انتہائی خوشی کے اس موقع پر بھی باہر آئے بغیر نہیں رہ سکی، پاکستان کی عزت اور خوشی کے اس موقع پر بھی کچھ لوگ ایسی ہی منفی فطرت کا اظہار کیے بغیر نہیں رہ پا رہے، اپنی منفی فطرت کے مطابق وہ بالکل ٹھیک فرما رہے ہیں کہ ”پاکستان ایسے ہی وقت ضائع کر رہا ہے، امریکہ کے تھلے لگا ہوا ہے، ایران نے کوئی نہیں ماننا، تباہی طے ہو چکی ہے، پاکستان کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا“، خیر کی کوئی خبر اُن کے پاس نہیں ہے، فرض کر لیں پاکستان کی ہنوز جاری امن کوششوں کا کوئی مستقل حل یا نتیجہ نہ بھی نکلا، یہ نتیجہ کم ہے پاکستان کی کوششوں سے پچھلے تین ہفتوں سے جنگ بندی ہے، یہ کوششیں اگر ناکام ہو گئی ہوتیں اب تک مزید کتنا جانی و مالی نقصان دُنیا کا بلکہ خود پاکستان کا بھی ہو گیا ہوتا، دوسری اہم بات یہ ہے پاکستان کے اس صلح و امن پسند کردار سے پہلی بار دُنیا کے سامنے ایک مختلف پاکستان آیا ہے، عالمی سطح کے معاملات طے کرتے ہوئے پاکستان کو باہر رکھنا اب ناممکن ہو گا، پاکستان مخالف قوتوں نے دُنیا کے سامنے پاکستان کو ایک دہشت گرد مُلک بنا کے پیش کیا ہوا تھا، یہ قوتیں دُنیا میں ہونے والی ہر دہشت گردی کو کسی نہ کسی طرح پاکستان سے جوڑ دیتی تھیں، پاکستان کی حالیہ امن پسند کوششوں سے ان قوتوں کے پاکستان مخالف جذبوں اور منصوبوں پر گہری زد پڑی ہے، دُنیا کے لیے اب پاکستان مخالف اُن کے کسی مو¿قف سے اتفاق کرنا مشکل ہو گا، اس سے بڑی کامیابی پاکستان کی اور کیا ہو سکتی ہے؟ اور اس سے بھی بڑی کامیابی پاکستان کی اور کیا ہو سکتی ہے اپنے روایتی و اصلی حریف بھارت کو مکمل طور پر اُس نے کُھڈے لائن لگا دیا ہے، دنیا کی بڑی قوتوں کے درمیان امن پسند کوششوں میں بھارت کا اب کہیں ذکر تک نہیں ہے، اس لیے نہیں ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں وہ سالہا سال سے جس درندگی کا مظاہرہ کر رہا ہے، جو مظالم نہتے کشمیریوں پر وہ ڈھا رہا ہے، اس گھناو¿نے کردار کے بعد دُنیا اُس سے امن کی کوششوں کی کوئی توقع کیسے رکھ سکتی ہے؟ گو کہ اس وقت ایران امریکہ اور اسرائیل کے درمیان مستقل جنگ بندی کے امکانات زیادہ روشن دکھائی نہیں دیتے، پر اُمید کا دیا اب بھی روشن ہے، امریکی صدر ٹرمپ کو اپنا غیر سنجیدہ رویہ ترک کر دینا چاہیے، اُسے شاید احساس نہیں اُس کی ہٹ دھرمی سے کتنا نقصان اُن مسلم ممالک کا ہو چُکا ہے جو امریکہ کے دوست ہیں، خود کو محفوظ رکھنے کے لیے جدید ہتھیار بنانا کسی مُلک کا حق ہوتا ہے، اس حق سے کوئی اُسے کیسے محروم رکھ سکتا ہے؟ ایران سے ایسی توقع رکھنا بیکار ہے، امریکہ اگر ایران کو ایٹمی قوت بننے سے روکنے کی اپنی شرط پر قائم رہا اُس کے نتیجے میں اُس کے س±پر پاور ہونے کا تاثر یا بھرم تھوڑا بہت جو باقی ہے وہ بھی ٹوٹ جائے گا، پاکستان کی خوش قسمتی ہے وہ ایٹمی قوت ہے ورنہ امریکہ اسرائیل اور ایران کی حالیہ جنگ میں اُسے نقصان پہنچانے کی کسی کی خواہش یا کوشش بھی شاید کامیاب ہو جاتی، دوسری اہم بات یہ ہے بھارت اور افغانستان کو ناکوں چنے چبوا کر پاکستان نے اپنی جو ساکھ قائم کی ہے اصل میں دُنیا کو اُس نے پیغام دیا ہے ”ہمیں ایزی نہیں لینا“، ہم اپنے دُشمنوں کو بھرپور جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ درست ہے پاکستان کے کچھ اندرونی معاملات میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اپنے عوام کی سو فیصد توقعات پر پورا نہیں اُترے، ایک سیاسی جماعت کے ساتھ اُن کا رویہ بھی اکثر زیربحث رہتا ہے، ہماری یہ شدید خواہش ہے جس طرح بیرونی طور پر اُنہوں نے مُلک کو مضبوط کیا اندرونی طور پر بھی ایسے اقدامات کریں جس سے اُن کی عزت میں مزید اضافہ ہو، اپنے ماتحت وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ مل کے بیرونی طور پر پاکستان کو مضبوط کرنے کی اُن کی کوششوں کے نتائج عارضی ہوتے ہیں، مستقل ہوتے ہیں یا کتنے دیرپا ہوتے ہیں؟ اس کا فیصلہ ظاہر ہے مستقبل کرے گا، فی الحال اُن کے کردار کو ہر جگہ سراہا جا رہا ہے، کچھ زہریلے اوورسیز پاکستانیوں کا معاملہ اور ہے مگر پاکستان کو حقیقی طور پر چاہنے والے اوورسیز پاکستانیوں کا کہنا ہے ”کچھ عرصے سے پاکستان اپنے جس امن پسند کردار کے ساتھ اُبھرا ہے وہ اُن کے لیے باعث فخر و عزت ہے“، البتہ حقیقی معنوں میں دُنیا میں پاکستان کا وقار اُسی صورت میں بحال ہو گا جب ہم اپنی ”بُنیادی شناختوں“ جھوٹ، دھوکہ دہی، ملاوٹ، منافقت اور ریاکاری وغیرہ سے مکمل نجات حاصل کر لیں گے، اس کے بغیر اگر کوئی تصور کرے پاکستانی پاسپورٹ کی عزت محض ہماری کچھ امن کوششوں سے بحال یا قائم ہو جائے گی، یہ خام خیالی ہے، دُنیا میں پاکستان کی عزت کی بربادی کا باعث صرف حکمران نہیں عوام بھی ہیں، بلکہ عوام زیادہ ذمہ دار ہیں، جب تک عوام اور حکمران اپنی دو نمبریوں بلکہ سو نمبریوں سے چھٹکارا حاصل نہیں کریں گے، اپنی تہذیب، اپنی زبان اپنے لباس اپنی ثقافت کو اہمیت نہیں دیں گے، ہر معاملے میں بدنیتی دکھاتے رہیں گے، جب تک ”من الحیث الہجوم“ اپنے کردار پر نظرثانی کر کے بنیادی سطح کی کچھ تبدیلیاں وہ خود میں نہیں لائیں گے، تب تک دُنیا میں سبز پاسپورٹ کی عزت کا تصور بھی محال ہے۔

مزیدخبریں