خوگرِ حمد سے تھوڑخوگرِ حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے 

08:28 AM, 28 Apr, 2026

کل رات دیر تک اقبال کاشکوہ اورجوا ب ِشکوہ پڑھتا رہا توخیال آیا جب قومی شاعر اقبال اپنے رب سے شکوہ کرسکتا ہے تووہ جن کی سانس کے ساتھ ہماری سانس چلتی ہے ۔ جن کے دل کے ساتھ ہمارا دل دھڑکتا ہے ۔ جن کی عزت ¾ تکریم ¾وقار اورآبرو سب کچھ ہمارے ساتھ سانجھا ہے تو پھر ” خوگرِ حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے“ والی بات تویار لوگوں پربھی صادر اترتی ہے ۔ پاکستان ناقابل ِ تسخیر ہو چکا اور اِس کا نظارہ صرف بھارت نے نہیں دنیا نے کیا ہے ۔ بھارت تو پاکستانی شاہینوںکے ڈائریکٹ زیر عتاب رہا ۔فتنہ الخوارج کو افغانستان میں بھی چھپنے کی جگہ نہیں مل رہی اور افغان طالبان معافی نامے ہاتھ میں لیے ثالثی ڈھونڈ رہے ہیں ۔ فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کی آئے روز تصاویر اخبارات میں چھپ رہی ہیں کہیں ہتھیار پھینکتے ہوئے اورکہیں حملوں کی کوشش میں افواج ِ پاکستان کے ہاتھوں ذلت آمیز موت سے ہمکنار ہوتے ہوئے ۔ ایران ¾ امریکہ اور اسرائیل جنگ میں ہمیں ثالثی کا کردا ر ادا کرنے کیلئے فریقین نے رضا مندی کا اظہار کیا جو یقینا پاکستان کی سیاسی اور عسکری تاریخ کا خوشگوار ترین لمحہ ہے ۔ پاکستان کے عوام ہر بیرونی اور اندرونی دشمن کے خلاف اپنے اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں ۔پاکستا ن کو بظاہر ” ستے خیراں “ دکھائی دے رہی ہیں ۔قوم فخر سے سر اٹھاکر کامیابیوں اور کامرانیوں کے اس منظر کو دیکھنا چاہتی ہے لیکن پیٹ پر بندھے پتھر کمر سیدھی نہیں ہونے دے رہے ۔ فوج کی لامتناہی قربانیوں کے سلسلے نے جہاں پاکستان کے وقار کو بلند کیا ہے وہاں بیڈ گورنس کے نتیجہ میں معاشی استحصال اور لاقانونیت نے عوام کو بے یقینی کا شکاربنا رکھا ہے ۔ عمران نیازی کا جن بوتل میں واپس جا چکا جیسا کہ توقع تھی ۔کہیں کہیں سے کسی ” باشعور “ کی آواز سنائی دیتی ہے اورخاموش ہو جاتی ہے ۔ روس دنیا کی طاقتور ترین فوج ¾ ایٹم بم ¾ جدید ترین اسلحہ اورٹیکنالوجی کے باوجودمعاشی عدم استحکام کی وجہ سے بکھر گیاتھا۔یہ الگ بحث ہے کہ اُسے معاشی طورپرکمزور کرنے کیلئے عالمی سرمایہ داری نے کیا کردار ادا کیا اور وہی بے رحم عالمی سرمایہ داری کم عقل سیاستدانوں کے ساتھ مل کر ہمار ے جوانوں کی شہادتوں اورکامیابیوں کے اس عظیم سفر پر چلتے کارواں کو کہیں نہ کہیں روکنے کی جان توڑکوشش کریں گے ۔ ہم الیکشن دولت ¾ ذات برادری اور الزامات کے باوجود جیت سکتے ہیں کہ اس میں اقتداردینے والوں کی اعلیٰ عقل بھی شامل ہوتی ہے لیکن حکومتیں اورریاستیںسماج کی اعلی ترین عقل اوربہترین نیتوںسے ہی چلتی ہیں ۔ بارہ گھنٹے کام کرنے کے بعد جب ورکنگ کلاس) جو سب سے زیادہ ہے (کا مزدورگھر لوٹتا ہے اورتھوڑی ہی دیر کے بعدوہ مہنگی ترین بجلی غائب ہو جاتی ہے جو وہ استعمال بھی نہیں کرتا لیکن اُس کا بل باقاعدگی سے ادا کررہا ہے ¾ اور اُس کے بچے بے بس ماں باپ کے سامنے گر می سے بلک رہے ہوتے ہیں تو اُس کے دل سے حکمرانوں کیلئے دعائیں نہیں نکلتیں ۔پینے کا پانی لاہورکے کسی نل میں نہیں آتا جس کیلئے کم از کم تین سے چار ہزار روپے ماہانہ الگ سے ادا کرنا پڑتے ہیں ۔نل میں آنے والا گندہ پانی جس سے غسل بھی ممکن نہیں اورشہر بھر کی غلاظت اُس میں شامل ہوتی ہے بجلی کی موٹر کے بغیر گھروں تک نہیں پہنچتا لیکن واسا کا بل باقاعدگی سے آتا ہے۔یعنی وہ پانی جو پینے کے قابل ہی نہیں پانی اوربجلی کی قیمت پر خریدنا پڑتا ہے ۔گٹر وں کی صفائی کے پیسے واسا کے بل میں لگ کرآتے ہیں لیکن حرام ہے کہ واسا ملازمین بغیر پیسے لئے گٹرصاف کردیں ۔مہینے میں دو تین موٹر بائیک کے چالان ہو جائیں توغریب آدمی کے گھر کا سارا بجٹ بگڑ جاتا ہے۔سی سی ڈی کی کارکردگی نے جرائم پیشہ افراد کی لاشوں کے انبار کھڑے کردیئے ہیں ۔بلاشبہ جرائم کسی حد تک کنٹرول ہوئے ہیں لیکن منہ زور پولیس نے شہریوں کی عزت ِ نفس کا جنازہ نکال کر رکھا ہواہے ۔شریف آدمی تھانے جانے سے خوف کھاتا ہے لیکن مخبر ٹائپ سیاسی ورکرز اپنے چھوٹے چھوٹے جرائم کوتحفظ دینے کیلئے تھانوں سے بنا کررکھتے ہیں ۔ توانائی بچانے کے عمل میں 8 بجے مارکیٹس اور 10 بجے کھانے پینے کی دکانیں بند کرنے کا حکم ہے لیکن پولیس کوتو چھوڑیں پیرا نامی نئے عذاب نے رشوت کا نیا بازار گرم کررکھا ہے ۔ پرائیویٹ سکولوں نے ماں باپ کولوٹنے کاایسا ایسا بندوبست کررکھا ہے کہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ ان لوگوں کو آئی ایم ایف میں ہونا چاہیے۔پرائیویٹ سوسائٹیوں میں لوگوں کے اربوں ڈوب چکے ہیں لیکن کوئی پرسان ِ حال نہیں ۔ مہنگائی کا طوفان ہے کہ جسم اورروح کارشتہ بھی قائم نہیں رہنے دے رہا ۔ دکاندار من مرضیاں کر رہے ہیں اورچوربازاری کا بازارگرم ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔سیاستدانوں سے لے کر اعلیٰ افسران تک ٹک ٹاک پرجا چکے ہیں اورزمین پر صرف رینگتے ہوئے عوام ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر منافع خوروں کے قدموں تلے آ کر کچلے جا رہے ہیں۔ آپ کی جیب میں پیسے ہیں تو کوئی بھی کام ناممکن نہیں لیکن مفلس اورناداروں کیلئے کوئی کام بھی ممکن نہیں ہے۔ 
تاریخ کا طالبعلم ہونے کے ناتے میں نے تاریخ سے یہی سیکھا ہے جو مٹی اپنے بیٹوں کو سکھ نہیں دیتی ¾ جو نظام اپنے لوگوں کی فلاح کیلئے ناقص ہوجائے ¾جوریاست اپنے وجود سے پیارکرنے والوں کے معاشی قتل پراترآئے اُس کے بیٹے بھی اُس کیلئے نہیں لڑتے ۔پروفیشنل اورمنظم ریاستی فوج نے تو ہرحال میں دفاع کیلئے جان دینا بھی ہوتی ہے اور لینا بھی ہوتی ہے لیکن اگرعوامی طاقت اپنے سیاسی اور عسکری اداروں کی پشت پر کھڑی نہ ہو تودنیا میں کوئی بھی کامیابی کی منازل طے نہیں کرسکتا ۔ امن کی کوشش کرنا کائنات کاسب سے بڑا کارِ خیرہے لیکن اپنے لوگوں کی ضروریات پوری کرنا اوراُن کی عزت ِ نفس کا خیال رکھنا بھی ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔جب حلال کے وسائل 20 تاریخ کے بعد ختم ہو جائیں توذلت کا وہ سفرشروع ہوتا ہے کہ جس میںکوئی مقدس نہیںرہتا ۔ عبد الرحیم خانِ خاناں اکبر اعظم کا سب سے قابل جرنیل تھا اوراکبرنے اُسے بڑی جاگیریں بھی عطاکررکھی تھیں ۔ ایک دن اُس کے دربار میں اُس کے ایک دوست نے دور سے خوشبو کی شیشی دکھائی جو آدھی سے زیادہ خالی ہوچکی تھی ۔ عبد الرحیم خانِ خاناں نے اُسے ایک ہزار اشرفی بھجوا دی۔ درباریوں کوکچھ سمجھ نہ آیا کہ ماجرا کیا ہے ۔انہوں نے خانان اعظم سے دریافت کیا تو اُس نے بتایا شیشی میں خوشبو آدھی سے زیادہ ختم ہو چکی تھی جس کامطلب تھاکہ سفید پوشی ختم ہو نے کو ہے ۔بس ! ایسا ہی کچھ معاملہ پاکستان کے عوام کا ہے یقینا یہ سیٹ اپ چلتا رہے گا لیکن عوام کی حالت بُر ی ہے ۔ میں نے تو سارا پاکستان پھرنا ہوتا ہے سینٹرل پنجاب میں آ کر زندہ انسان نظرآتے ہیں یا پھربڑے شہروں میں ¾ ورنہ معاشی حالات عام آدمی کے انتہائی برے ہیں اورمزید برایہ ہے کہ عام آدمی کو ابھی امید کی کوئی کرن نظربھی نہیں آ رہی ۔

مزیدخبریں