خادمہ پنجاب کا عزم، جدید آئی ٹی اور فلم سٹی

08:24 AM, 28 Apr, 2026

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پنجاب ہمیشہ سے ایک کلیدی اہمیت کا حامل رہا ہے، لیکن حالیہ مہینوں میں اس صوبے نے ایک ایسی قیادت دیکھی ہے جس نے روایت اور جدیدیت کے امتزاج سے حکمرانی کا ایک نیا معیار قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے جب منصب سنبھالا تو ان کے سامنے چیلنجز کا پہاڑ تھا، مگر انہوں نے ”گورننس بائی ڈیزائن“ کے ذریعے ثابت کیا کہ وہ محض سیاسی وراثت کی امین نہیں بلکہ ایک ٹھوس انتظامی وژن کی حامل لیڈر ہیں۔ ان کے حالیہ اعلانات، خاص طور پر پنجاب فلم سٹی کا قیام اور ٹریفک اصلاحات، اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ صوبے کو ایک جدید، منظم اور ثقافتی طور پر زرخیز ریاست بنانا چاہتی ہیں۔
پنجاب کی ثقافت اور فنونِ لطیفہ کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے، لیکن گزشتہ چند دہائیوں سے پاکستان کی فلمی صنعت زوال کا شکار رہی۔ اس تناظر میں لاہور کے نواز شریف آئی ٹی سٹی میں 50 ایکڑ پر محیط ”پنجاب فلم سٹی“ کا قیام ایک تاریخی سنگ میل ہے۔ یہ محض ایک عمارت یا چند سٹوڈیوز کا مجموعہ نہیں ہے، بلکہ وزیراعلیٰ کے بقول یہ ملک کا پہلا ”اینڈ ٹو اینڈ“ میڈیا پروڈکشن ہب ہو گا۔ اس منصوبے کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ یہاں سکرپٹ رائٹنگ سے لے کر پوسٹ پروڈکشن اور ڈسٹری بیوشن تک تمام سہولیات ایک ہی چھت تلے میسر ہوں گی۔ جدید ٹیکنالوجی، اینیمیشن سٹوڈیوز، ڈیجیٹل میڈیا لیبز اور شوٹنگ کے لیے بنائی جانے والی مصنوعی جھیل اور سیٹس بین الاقوامی فلم سازوں کو بھی پاکستان کی طرف راغب کریں گے۔ مریم نواز کا یہ قدم اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جدید دور میں ”سافٹ پاور“ کی اہمیت ایٹمی طاقت سے کم نہیں ہوتی۔ فلم سٹی کے ذریعے پنجاب کا مثبت چہرہ دنیا بھر میں جائے گا اور مقامی ٹیلنٹ کو وہ وسائل میسر آئیں گے جن کے لیے انہیں ماضی میں بیرونِ ملک دیکھنا پڑتا تھا۔
دوسری جانب، مریم نواز نے انتظامی نظم و ضبط کی بحالی کے لیے جس ”زیرو ٹالرنس“ پالیسی کا آغاز کیا ہے، اس کی بہترین مثال سڑکوں پر ٹریفک قوانین کا نفاذ ہے۔ لاہور جیسے میٹروپولیٹن شہر میں ٹریفک کا اژدھام اور قانون شکنی ایک ناسور بن چکی تھی۔ وزیراعلیٰ نے محض بیانات تک محدود رہنے کے بجائے ٹیکنالوجی کا سہارا لیا۔ موبائل گاڑیوں 
پر نصب کیمروں کے ذریعے لین لائن کی مانیٹرنگ اور زگ زیگ بائیک چلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی، بشمول تین دن کے لیے موٹر سائیکل کی تھانے میں بندش، ایک ایسا فیصلہ ہے جس نے شہریوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ اب قانون سب کے لیے برابر ہے۔ لین ڈسپلن اور ون وے کی خلاف ورزی پر سختی کا مقصد صرف جرمانے کرنا نہیں بلکہ ایک ایسی ٹریفک کلچر پروان چڑھانا ہے جہاں انسانی جان کی قیمت کو اولیت دی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ کم عمر ڈرائیونگ کی روک تھام کے لیے ان کی ہدایت والدین کے لیے ایک سنجیدہ وارننگ ہے کہ ریاست اب بچوں کے ہاتھ میں موت بانٹنے والے آلات (گاڑیاں اور بائیک) دیکھ کر خاموش نہیں رہے گی۔
اگر ہم مریم نواز کے اب تک کے دیگر بڑے کاموں کا جائزہ لیں تو ”نواز شریف آئی ٹی سٹی“ کا منصوبہ سرفہرست نظر آتا ہے۔ یہ منصوبہ پنجاب کو خطے کا آئی ٹی حب بنانے کی جانب ایک بڑا قدم ہے، جہاں عالمی معیار کی ٹیک کمپنیاں اپنے دفاتر قائم کریں گی، جس سے نہ صرف زرمبادلہ آئے گا بلکہ لاکھوں نوجوانوں کو باعزت روزگار ملے گا۔ اسی طرح، صحت کے شعبے میں ”ایئر ایمبولینس سروس“ کا آغاز ایک ایسا انقلابی قدم ہے جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ پنجاب کے دور دراز علاقوں، جہاں سڑک کے راستے بڑے ہسپتالوں تک پہنچنا گھنٹوں کا کام تھا، اب وہاں سے مریضوں کو منٹوں میں ریسکیو کیا جا رہا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ مریم نواز کے نزدیک غریب اور امیر کی جان برابر ہے اور ریاست ہر شہری کو علاج کی بہترین سہولت فراہم کرنے کی پابند ہے۔
تعلیم اور زراعت کے میدان میں بھی ان کے اقدامات دور رس اثرات کے حامل ہیں۔ ”کھیت سے منڈی تک“ سڑکوں کی تعمیر کا منصوبہ کسانوں کو بچولیا (مڈل مین) کے استحصال سے بچانے اور زرعی اجناس کی بروقت ترسیل یقینی بنانے کے لیے ناگزیر تھا۔ اسی طرح روٹی اور نان کی قیمتوں میں استحکام کے لیے انہوں نے جس طرح انتظامی مشینری کو متحرک کیا، اس سے عام آدمی کو براہِ راست ریلیف ملا۔ ”کھیلتا پنجاب“ پروگرام کے تحت گراو¿نڈز کی بحالی اور نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا ایک روشن مستقبل کی سرمایہ کاری ہے۔
جب ہم مریم نواز کے طرزِ حکمرانی کا موازنہ روایتی حکمرانی سے کرتے ہیں، تو چند بنیادی فرق واضح ہو جاتے ہیں۔ روایتی طرزِ حکمرانی میں فیصلے سست روی کا شکار ہوتے تھے اور منصوبے فائلوں کی نذر ہو جاتے تھے۔ مریم نواز کا سٹائل ”پرو ایکٹو“ (Proactive) ہے۔ وہ دفتر میں بیٹھ کر رپورٹ لینے کے بجائے خود فیلڈ میں جاتی ہیں، ہسپتالوں کے اچانک دورے کرتی ہیں، سکولوں کے بچوں سے ملتی ہیں اور عوامی شکایات پر فوری ایکشن لیتی ہیں۔ ان کی حکمرانی میں ”ڈیجیٹل مانیٹرنگ“ کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ وہ ہر منصوبے کی پیشرفت کا جائزہ جدید ڈیش بورڈز کے ذریعے لیتی ہیں، جس سے بیوروکریسی میں جوابدہی کا تصور مستحکم ہوا ہے۔ان کا موازنہ اگر ان کے پیشروو¿ں سے کیا جائے تو مریم نواز نے ”خادمہ“ کا وہ تصور دوبارہ زندہ کیا ہے جو شہباز شریف کی پہچان تھا۔ تاہم، ان کے کام کرنے کے طریقے میں ایک لطافت اور جدیدیت بھی ہے جو بدلتے ہوئے وقت کی ضرورت ہے۔ وہ انفراسٹرکچر (سیمنٹ اور سریا) کے ساتھ ساتھ انسانی ترقی (آئی ٹی، صحت، آرٹ) پر بھی برابر توجہ دے رہی ہیں۔ ان کی پالیسیاں صرف شہروں تک محدود نہیں بلکہ وہ دیہاتوں کو بھی ماڈل بنانے کا وژن رکھتی ہیں۔
مریم نواز کے مخالفین بھی اب یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہیں کہ ان کی انتظامی صلاحیتیں توقعات سے کہیں زیادہ نکلیں۔ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ ایک خاتون سربراہِ حکومت نہ صرف نرم دل ہو سکتی ہے بلکہ قانون کے نفاذ کے وقت اتنی ہی سخت بھی ہو سکتی ہے۔ ان کا وژن ایک ایسے پنجاب کا ہے جہاں قانون کی حکمرانی ہو، نوجوان بااختیار ہوں، خواتین محفوظ ہوں اور عام آدمی کو زندگی کی بنیادی ضرورتیں اس کی دہلیز پر میسر ہوں۔مختصر یہ کہ پنجاب فلم سٹی، آئی ٹی سٹی، ایئر ایمبولینس اور ٹریفک اصلاحات جیسے منصوبے مریم نواز کی اس لگن کا ثبوت ہیں کہ وہ پنجاب کو ایشیا کا بہترین صوبہ بنانا چاہتی ہیں۔ ان کے یہ اقدامات نہ صرف صوبے کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک مثال بن سکتے ہیں۔ اگر یہ سفر اسی رفتار اور وژن کے ساتھ جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب پنجاب واقعی ترقی اور خوشحالی کا استعارہ بن جائے گا۔ مریم نواز کی حکمرانی کا یہ نیا ماڈل ”خدمت، سُرعت اور شفافیت“ کا حسین سنگم ہے جو عوام کے دلوں میں گھر کر رہا ہے۔

مزیدخبریں