امریکہ کی طرف سے ایران کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا گیا۔ یہ مذاکرات درحقیقت اسی روز ختم ہو گئے تھے۔ جب دنیا کی نظریں مذاکرات کے دوسرے دور پر لگی تھیں لیکن ایران نے ان مذاکرات کو بے سود قرار دیتے ہوئے آنے سے انکار کر دیا تھا۔ امریکہ کی طرف سے اس اعلان کے باوجود ایک دروازہ کھلا رکھا گیا ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کہتے ہیں ایرانی اب جب چاہیں ان سے بات کر سکتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی مو¿قف پاکستان اور ایران کا ہے کہ مذاکرات کے دروازے بند نہیں ہونے چاہئیں لیکن ایران اس بات پر زور دیتا ہے کہ مذاکرات وہیں سے شروع ہوں گے جہاں ختم ہوئے تھے یعنی وہ وعدے پہلے پورے کئے جائیں جو پہلے دور میں کئے گئے تھے۔
ایرانی وزیر خارجہ جناب عباس عراقچی کے دورہ پاکستان سے کئی افواہیں دم توڑ گئیں اور پاکستان و ایران کو فاصلوں پر دیکھنے والوں کی امیدوں پر پانی پھر گیا خاص طور پر جناب عباس عراقچی کے بوقت رخصت پاکستان کی بحالی امن اور جنگ بندی کی مخلصانہ کوششوں کی تعریف کے بعد امریکی اور اسرائیلی گماشتے منہ چھپاتے پھر رہے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ کے پاکستان پہنچنے سے قبل ہی ان کے دورے کے مقاصد واضح کر دیئے گئے تھے اور ایرانی سفارتخانے نے ابہام دور کرنے کے لئے کہہ دیا تھا کہ ان کے اس دورے میں امریکی وفد سے مذاکرات نہیں ہوں گے لیکن ایرانی وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان کی اطلاع ملتے ہی اوول آفس کی بل بتوڑی نے ہدایات کے مطابق بیان جاری کر دیا کہ امریکی وفد مذاکرات کے لیے پاکستان جا رہا ہے جس میں جے ڈی وینس شامل نہیں ہوں گے۔ جیرڈ کشنر اور سٹیو وٹکوف امریکہ کی نمائندگی کریں گے۔ اس جوڑی کے ناموں کے اعلان سے ہی واضح ہو گیا تھا کہ یہ اعلان دراصل سٹاک مارکیٹ کو اوپر لے جانے اور پٹرول کی قیمتوں کو سنبھالنے کے لیے کیا گیا ہے ورنہ امریکہ مذاکرات جیسے اہم معاملے کو اپنے دو غیر منتخب نمائندوں پر نہ چھوڑتا ان کے ساتھ مارکوروبیو کو بھیجا جاتا جو سیکرٹری آف سٹیٹ ہیں۔
پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر چند روز قبل جب ایران گئے تو جنگ بندی کے حوالے سے گفتگو کے بعد ایرانی قائدین نے ان سے کہا تھا کہ وہ اپنی لیڈرشپ کے ساتھ مشاورت کے بعد اپنا مفصل جواب پیش کریں گے۔ جناب عباس عراقچی نے مفصل ایرانی مو¿قف پیش کر دیا ہے جو امریکیوں تک پہنچایا جائے گا پھر ان کا جواب آنے کے بعد ایران کو مطلع کیا جائے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ مسقط اور ماسکو کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔ جہاں وہ امریکی ناکہ بندی کے حوالے سے عمان حکومت اور ممکنہ امریکی بحری حملہ ہونے کی صورت میں اپنے جواب دینے کے حوالے سے مشاورت کریں گے، جس کے بعد وہ واپسی میں پاکستان میں ایک مختصر قیام کر سکتے ہیں۔
امریکی بحری بیڑے اس وقت ایران کے تین اطراف ایرانی پانیوں سے کچھ فاصلے پر کھڑے ہیں۔ ان میں ائیرکرافٹ کیرئیر ان پر متعین قریباً پندرہ ہزار فوجی مشقیں کرتے نظر آتے ہیں جبکہ درجنوں لڑاکا ہوائی جہازوں کی پروازیں بھی مشاہدے میں آ رہی ہیں۔ ایران پر حملے سے پہلے چین نے 27 فروری کو ایک الرٹ میں چینیوں سے کہا تھا کہ وہ ایران سے فوراً نکل جائیں یا محفوظ مقامات میں منتقل ہو جائیں۔ یہ الرٹ اب دوسری مرتبہ جاری کیا گیا ہے جس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کوئی حماقت کر سکتے ہیں۔ چین کے علاوہ روس، برطانیہ، ترکی اور انڈیا نے بھی اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت کر دی ہے۔
روسی اور چینی انٹیلی جنس ایجنسیاں، ایران کو پہلے ہی خبردار کر چکی ہیں کہ امریکی جنگ بندی ایک دھوکہ ہے۔ وہ نئے حملے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے بعد ایران نے بھی اپنی حکمت عملی ترتیب دے دی ہے۔ ایرانی لیڈرشپ کی طرف سے واضح اعلان کیا جا چکا ہے کہ وہ کسی بھی حملے کا منہ توڑ جواب دیں گے۔ یہ بات ذکر اور توجہ کے قابل ہے کہ جب سے امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا ہے۔ ایران نے ایک مرتبہ بھی کسی سے جنگ بندی یا اس میں توسیع کی درخواست نہیں کی بلکہ ہر مرتبہ یہ کوشش امریکہ کی طرف سے کی گئی۔ اس میں اسرائیل کی رضامندی شامل تھی۔ ایک موقع پر ایرانی تہذیب کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دینے کی دھمکی دی گئی پھر کچھ روز بعد ایٹمی حملہ کرنے کی دھمکی دی گئی۔ ایران نے ان دھمکیوں کا کوئی اثر قبول نہیں کیا بلکہ ان دھمکیوں کے جواب میں اپنا مو¿قف مزید سخت کر دیا پھر وہ وقت آیا جب ایران نے مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا۔
جنگ کی نفسیات ہمیں بتاتی ہیں کہ کمزور فریق جلد جنگ بندی کی طرف آتا ہے جبکہ ہر مرحلے پر کامیابیاں حاصل کرنے والا فریق جنگ بندی فوراً قبول نہیں کرتا مزید برآں وہ مذاکرات اپنی شرائط پر کرتا ہے۔ امن، جمہوریت اور انسانی حقوق کے راگ الاپنے والوں کی بے شرمی اور بے حمیتی ملاحظہ فرمائیے۔ سب جانتے ہیں سب نے کھلی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر حملہ کیا مگر پھر بھی سب مل کر امریکہ اور اسرائیل کو ہی فیس سیونگ دینے کی بات کرتے ہیں، اس کے لیے سرگرداں ہیں کہ امریکہ خوش ہو جائے، مکروہ کردار جارح کو فیس سیونگ نہیں سزا ملنی چاہیے۔ ایران ابھی اسے سزا کی بات نہیں کر رہا صرف اپنا حق مانگ رہا ہے، جس پر دنیا کے ترقی یافتہ ممالک سانپ بن کر بیٹھے ہیں اور سنپولیے اس کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی کا انجام کیا ہو گا۔ دنیا اس نکتے پر غور کر دی ہے۔ امریکہ اچانک ایران پر حملہ کر دے گا اور خطے میں ایک بڑی بحری جنگ اور جاری جنگ کا آخری اور اہم ترین معرکہ شروع ہو جائے گا۔ میرا خیال ہے ایسا نہیں ہو گا۔ بلف ماسٹر ڈونلڈ ٹرمپ بلف کھیل رہا ہے۔ آج تک اس کی جو درگت بن چکی ہے وہ مزید ذلت کی تاب نہیں لا سکتا۔ البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ اسرائیل ایک فالس فلیگ آپریشن کر کے ایران کے کسی جہاز پر حملہ کر دے اور اشارہ امریکہ کی طرف کر دے۔ اس پر ایران کے ردعمل سے حالات بدل سکتے ہیں۔
امریکی بحریہ جتنی بڑی جتنی طاقتور ہے، اسے آبنائے ہرمز کے کم گہرے پانیوں میں کوئی بڑی کامیابی نہیں مل سکتی، اس کے مقابلے میں ساڑھے تین سو مسلح ایرانی تیز رفتار کشتیاں اور ایرانی بیلاسٹک میزائل قیامت ڈھا سکتے ہیں۔ ایرانی کشتیاں بادبانی کشتیاں نہیں ہیں۔ وہ پانی میں ستر ناٹ فی گھنٹہ کی رفتار سے فراٹے بھرتی حملہ کرتی ہیں اور پتھریلی چٹانوں میں غائب ہو جاتی ہیں۔ ان پر مشین گنیں اور راکٹ لانچر نصب ہیں، کچھ ایسی ہیں جو تارپیڈو فائر کر سکتی ہیں جبکہ سیکڑوں کی تعداد میں بچھائی گئی تازہ ترین آبی سرنگیں ایرانی بحریہ کا بڑا ہتھیار ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے تعلیمی ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے وہ اپنے زمانہ طالب علمی میں جغرافیہ کے مضمون میں دو مرتبہ فیل ہوئے۔ انہوں نے تاریخ کا کبھی مطالعہ کیا ہی نہیں۔ اگر وہ ایران کی تاریخ اور جغرافیے سے واقف ہوتے تو کبھی ایران پر حملہ نہ کرتے۔ یہ غلطی بائیڈن، کلنٹن اور بش نے نہیں کی جو وہ کر چکے ہیں۔ آج پاکستان، عرب خلیج اور خطے کی تمام ممالک جنگ بندی چاہتے ہیں جبکہ ایران امریکہ کی مستقل نس بندی کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ پھر کبھی حملہ کرنے کی جرا¿ت نہ کرے۔ یہ نس بندی روسی استرے اور چینی قینچی کی مدد سے ایرانی سرجن کریں گے۔
جنگ بندی ، ایک دھوکہ
09:03 AM, 27 Apr, 2026