بلوچستان، نوجوان اور گمراہ کن بیانیہ

09:03 AM, 27 Apr, 2026

بلوچستان کی سرزمین آج جس آزمائش سے گزر رہی ہے، وہ محض بندوق اور بارود کی کہانی نہیں بلکہ دہشت گردوںکی منظم پراپیگنڈا مہم اور ذہنی گمراہی پھیلانے کی کوششوںکی عکاس ہے، جس میں اصل ہدف بلوچ نوجوان کا ذہن اور شعور ہے۔ فتنہ الہندوستان کالعدم تنظیمیں ایک مربوط حکمت عملی کے تحت نوجوانوں کو سب سے پہلے احساس محرومی میں مبتلا کرتی ہیں، پھر اسی احساس کو بنیاد بنا کر ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیتی ہیں جس میں ریاست کو ظالم اور خود کو نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے سوشل میڈیا، خفیہ روابط، پس پردہ سرگرمیوں اور جذباتی نعروںکو بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔ نوجوانوں کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ ان کے ساتھ تاریخی ناانصافیاں ہوئی ہیں، ان کے وسائل پر قبضہ کیا گیا ہے اور ان کی شناخت کو دبایا جا رہا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اس بیانیے کے ذریعے نہ صرف ریاستی اقدامات کو متنازع بنایا جاتا ہے بلکہ ترقیاتی منصوبوں اور مثبت سرگرمیوں کو بھی دانستہ نظر انداز کیا جاتا ہے تاکہ نوجوانوں کے ذہن میں بداعتمادی پیدا ہو۔ یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں ایک عام نوجوان، جو تعلیم اور روزگار کے مواقع تلاش کر رہا ہوتا ہے، آہستہ آہستہ اس پراپیگنڈے کا شکار ہو کر اپنی سمت کھو دیتا ہے۔ اس کے بعد اسے عملی میدان میں اتارا جاتا ہے، جہاں وہ ریاستی اداروں، عوامی تنصیبات اور ترقیاتی منصوبوں کے خلاف کارروائیوں میں استعمال ہوتا ہے۔ قومی دھارے میں شامل ہونے والے کالعدم تنظیم بی ایل اے کے اہم کمانڈر، پنجاب یونیورسٹی میں سیاسیات کے تھرڈ سمسٹر کے طالب علم طلعت عزیز کے انکشافات اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہیں کہ جن لوگوں کو لاپتا افراد قرار دیکر ڈرامہ رچایا جاتا ہے، وہ سبھی پہاڑوں پر دہشت گردی کے کیمپوں میں موجود ہیں۔ اس پورے عمل میں سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ نوجوان خود کو کسی آزادی کی جدو جہد کا حصہ سمجھتا ہے، جبکہ درحقیقت وہ ایک ایسے کھیل کا مہرہ بن چکا ہوتا ہے جس کا مقصد خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے اور جس کے اثرات براہ راست اسی کے اپنے معاشرے پر پڑتے ہیں۔ اس ذہنی عمل کی گہرائی کو سمجھنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ یہ محض چند نعروں یا وقتی اشتعال تک محدود نہیں بلکہ ایک مستقل فکری دبا¶ ہے، جس کے ذریعے نوجوانوں کی ترجیحات، سوچ اور رویے کو بتدریج تبدیل کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنے ہی معاشرے کے مفادات کے برعکس فیصلے کرنے لگتا ہے۔ یہ صورتحال محض داخلی عوامل تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے بیرونی سرپرستی کے شواہد بھی مسلسل سامنے آتے رہے ہیں، اور اسی تناظر میں بھارت کا کردار نمایاں طور پر ہے۔ سرکاری سطح پر متعدد مواقع پر یہ واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان کے پاس ایسے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں جو اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بھارت، پاکستان میں دہشت گردی میں براہ راست ملوث ہے اور بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کی معاونت کر رہا ہے۔ ان شواہد میں گرفتار دہشت گردوں کے بیانات، ڈیجیٹل مواصلاتی ریکارڈ، مالی لین دین کی تفصیلات اور سکیورٹی آپریشنزکے دوران برآمد ہونے والا اسلحہ شامل ہے، جو ایک منظم نیٹ ورک کی موجودگی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی واضح کیاگیا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ ان عناصر کو فنڈنگ، تربیت اور ہدایات فراہم کرتی رہی ہے تاکہ صوبے میں بدامنی کو برقرار رکھا جا سکے۔ ان حقائق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ بلوچستان میں جاری شورش دراصل ایک بیرونی ایجنڈے کا حصہ ہے، جس کا مقصد پاکستان کو اندرونی طور پر کمزور کرنا ہے۔ ماضی میں گرفتار ہونے والے بھارتی نیوی کے افسر کلبھوشن یادیو کا اعترافی بیان بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جس میں اس نے بلوچستان میں تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہونے اور مقامی نیٹ ورکس کے ساتھ روابط کا ذکر کیا تھا۔ ان تمام شواہد کو یکجا کیا جائے تو ایک واضح تصویر سامنے آتی ہے کہ کس طرح ایک منظم حکمت عملی کے تحت بلوچ نوجوانوں کو گمراہ کر کے انہیں ایک ایسی جنگ میں جھونکا جا رہا ہے جس کا مقصد صوبے میں بدامنی پیدا کرنا ہے اور اس عمل میں سب سے بڑا نقصان خود اسی خطے کے عوام کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اس پیچیدہ صورتحال کے پیش نظر جنوبی بلوچستان میں ایف سی بلوچستان (سا¶تھ) نے ایک جامع تعلیمی اور سماجی حکمت عملی اختیار کی ہے، جس کے تحت نوجوانوں کو درست معلومات اور حقیقت پر مبنی شعور فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ وہ گمراہ کن پراپیگنڈے کا شکار نہ ہوں۔ اس سلسلے میں تعلیمی اداروں میں باقاعدگی سے مختلف موضوعات پرسیمینارز کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جن کا مقصد نوجوان نسل کی فکری تربیت، شعور کی بیداری اور منفی رجحانات کے اثرات سے بچا¶ ہے۔ اس حکمت عملی کے ذریعے نوجوانوں کو مثبت سمت میں رہنمائی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ معاشرے میں تعمیری کردار ادا کر سکیں اور کسی بھی منفی یا گمراہ کن اثر سے محفوظ رہیں۔ آج میڈیا کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ایسے مواد کو فروغ دینا ہو گا جو حقیقت پر مبنی ہو اور نوجوانوں کی مثبت رہنمائی کرے۔ والدین اور اساتذہ کا کردار بھی نہایت اہم ہے، انہیں چاہیے کہ وہ نوجوان نسل کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں اور ان کی ذہنی و فکری رہنمائی کریں تاکہ وہ کسی بھی قسم کے منفی اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ان عناصر کے خلاف مو¿ثر کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے جو نوجوانوں کو گمراہ کر کے انہیں تشدد کی طرف دھکیلتے ہیں۔ آج اس چیلنج کا بھرپور طریقے سے مقابلہ کیا جا رہا ہے۔ اس لیے آج یہی نوجوان امن، ترقی اور استحکام کے ضامن بن چکے ہیں، آج بلوچستان تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان اعتماد سازی کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ غلط فہمیوں کا خاتمہ ہو اور ایک مشترکہ قومی بیانیہ مضبوط ہو سکے۔ بلوچستان کا روشن مستقبل اسی وقت ممکن ہے جب اس کے نوجوانوں کو نفرت اور گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر علم، شعور اور مثبت سوچ کی روشنی میں لایا جائے، کیونکہ ایک باشعور نوجوان ہی کسی بھی معاشرے کی اصل طاقت ہوتا ہے اور یہی وہ قوت ہے جو اس خطے کو پائیدار امن اور استحکام کی طرف لے جا سکتی ہے۔ آج ایف سی بلوچستان (ساﺅتھ) یہی کام کر رہی ہے۔

مزیدخبریں