پاکستان عالمی امن کا ضامن!

09:01 AM, 27 Apr, 2026

ماحول کتنا ہی تعفن زدہ، گھٹن اور ناامیدی کی تصویر پیش کر رہا ہو تاہم ایک تازہ ہوا کا جھونکا سب کچھ بدل کر رکھ دیتا ہے۔ زمینی حقائق یہی ہیں کہ عالمی منظرنامہ اس وقت ایسی ہی منظر کشی کر رہا ہے اور پاکستان ایک تازہ ہوا کا جھونکا، امید کی کرن اور امن کے ضامن کے طور پر دنیا کو اس گھٹن سے نکالنے کا استعارہ بن چکا ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان کو ایک نئی پہچان اور جہت ملی ہے۔ ڈیجیٹل میڈیم پر دنیا میں گزشتہ ایک مہینے کے دوران سب سے زیادہ سرچ کیا جانے والا ملک پاکستان اور شخصیات کی بات کی جائے تو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف ہیں۔ پاکستان کا وقار عالمی سطح پر بلند ہوا ہے۔ پاکستان کی قیادت کی دور اندیشی، قائدانہ صلاحیتوں، سفارتی تاریخ رقم کرنے اور عالمی امن کیلئے کی جانے والی ناقابلِ فراموش کاوشوں کی وجہ سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کو امن کے فرشتے کا خطاب دیا جا رہا ہے۔ عالمی برادری پاکستان کو نوبل امن ایوارڈ دینے کی سفارش کر رہی ہے۔ جبکہ دوسری طرف پاکستان کی دشمن قوتیں، بھارت، اسرائیل اور طالبان کی پراکسی پی ٹی آئی سوشل میڈیا دہشت گرد پاکستان دشمنی میں اس حد تک آگے بڑھ چکے ہیں کہ امریکہ، ایران مذاکرات جز وقتی طور پر تعطل کا شکار ہوئے تو یہ عاقبت نااندیش پاکستان کو نوچنے والے بھیڑیے خوشی کے شادیانے بجانے لگ گئے پاکستان، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کو ملنے والی عزت ان کیلئے ناقابلِ برداشت ہو گئی ہے۔ پی ٹی آئی کے بھگوڑے یوٹیوبرز باہر بیٹھے ہیں انہوں نے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل اور پاکستان کے کردار کو متنازع بنانے کیلیئے بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف جو بیانیہ بنایا گیا اسے حرف بہ حرف وی لاگ اور ایکس پر ترویج دے کر اس بات پر تصدیقی مہر ثبت کر دی کہ پی ٹی آئی سوشل میڈیا دہشتگردوں کے مقاصد وہی ہیں جو بھارت پاکستان کے خلاف حاصل کرنا چاہتا ہے۔ یہ بات اب روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بی ایل اے، بھارت، طالبان اور کپتان کی ٹیم ایک ہے اور ان کا اولین مقصد پاکستان کو نقصان پہنچانا ہے۔ اس کیلئے یہ ہر ممکنہ حد عبور کر سکتے ہیں۔ ملک میں حالیہ دہشت گردی، مخصوص علما پر قاتلانہ حملے اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ پاکستان کو ملنے والی عزت اور عالمی امن کیلئے کاوشوں سے جو مقام حاصل ہوا ہے وہ ان دشمنوں کو کسی بھی صورت ہضم نہیں ہو رہا۔ مگر ہم دشمن کے سینے پر مونگ دلتے رہیں گے۔ پاکستان کے اندورنی و بیرونی دشمنوں کیلئے بُری خبر یہ ہے کہ امن مذاکرات جاری ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سرکاری دورے پر پاکستان آئے اور مستقبل میں امن مذاکرات کا مکمل خاکہ یا لائحہ عمل دے چکے ہیں۔ ممکنہ طور پر وہ مسقط اور روس کے دورے کے دوران پھر سے پاکستان آئیں گے اور مذاکرات کا عمل آگے بڑھے گا۔ بیک ڈور ڈپلومیسی جاری ہے۔ امریکی وفد اسلام آباد میں موجود ہے۔ ایران کی شرائط کو مکمل رازداری کے ساتھ امریکہ کی اعلیٰ قیادت تک پہنچا دیا گیا ہے۔ پیش رفت کی بات کی جائے تو رواں ہفتے امریکہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی بھی جز وقتی طور پر ختم کرنے پر آمادگی کا اظہار کر چکا ہے۔ دونوں فریق مذاکرات کیلئے تیار ہیں تاہم مستقبل میں اس قسم کی صورتحال سے بچنے کیلئے لانگ ٹرم (دیرپا) امن معاہدہ چاہتے ہیں۔ یقینی طور پر لگ بھگ پانچ دہائیوں سے دشمنی، سفارتی تعلقات کی تعطلی اور دیگر کار فرما عوامل کا حل ایک دو یا تین نشستوں میں نہیں نکل سکتا تھا۔ پاکستان کا یہی کردار ناقابلِ فراموش اور قابلِ ذکر ہے کہ یہ دونوں فریق ایک میز پر بیٹھ گئے ہیں۔ مسائل کا حل بھی یہی ہے کہ ایک ساتھ بیٹھ کر مسائل کا ادراک کرتے ہوئے بات چیت کے ذریعے آگے بڑھ کر امن کو راستہ دیا جائے۔
پاکستان کی اعلیٰ قیادت وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ذاتی کوششوں نے جنگ بندی کو غیر معینہ مدت کیلئے آگے بڑھا دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اور ایرانی سیاسی قیادت نے پاکستان کی جنگ رکوانے کی عظیم کوشش کو سراہا ہے اور مذاکرات کا عندیہ بھی دیا ہے۔ یقینی طور پر جب ایم او یو ڈرافٹ ہو جائے گا تو اعلیٰ امریکن وفد بھی پاکستان پہنچے گا اور پھر سے معنی خیز مذاکرات شروع ہو جائیں گے۔ ایران کے ہاں یقینی طور پر قیادت تذبذب کا شکار ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کا اپنا سخت گیر نقطہ نظر ہے۔ پاسداران کے اندر ہارڈ لائنرز اور گروہ جنگ جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ جبکہ ایرانی سیاسی قیادت امن کو راستہ دینا چاہتی ہے۔ ایرانی سیاسی قیادت دنیا کے نظام کو سمجھتی ہے، دنیا کے ساتھ سفارتی سطح پر تعلق کو فروغ دینا چاہتی ہے۔ مگر اسے اپنے ملک میں اس حوالے سے مزاحمت کا سامنا ہے۔ سپریم لیڈر کی صحت بارے متضاد اطلاعات ہیں، ان کی سکیورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے رابطوں کا فقدان ہے۔ یوں یہ کہا جا سکتا ہے کہ 18 لاکھ پاسداران 9 کروڑ کی آبادی والے ملک کو عملی طور پر چلا رہے ہیں۔ سیاسی قیادت خود سے فیصلہ نہیں کر سکتی اور یوں معاملات آگے بڑھنے کی رفتار سست روی کا شکار ہے۔ پاکستان نے ایرانی قیادت کو عالمی منظرنامے سے اچھی طرح آگاہ کر دیا ہے کہ معاملہ طوالت اختیار کر گیا تو اس کا نقصان کیا ہو سکتا ہے۔ برطانیہ نے بھی اس بات کا اعلان کر دیا ہے کہ پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے گا اور وہ اس حوالے سے قانون سازی کر رہے ہیں۔ یورپ پہلے ہی پاسداران انقلاب کو بین کر چکا ہے۔ ایرانی قیادت کو سنجیدگی سے سوچنا ہو گا کہ کیا اسی روش کے ساتھ آگے چلنا ہے، کیا جنگ جاری رکھنی ہے؟ یقینا ایران کا بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔ مگر اب اس فیز سے نکلنا ہے اور آگے بڑھنا ہے۔ حل مذاکرات ہی ہیں آج کریں یا سال بعد مذاکرات کی میز پر ہی بیٹھنا ہو گا۔
پاسداران انقلاب کو پاسدارانِ عوام کی نظر سے دیکھنا ہو گا۔ عوام کا سوچنا ہو گا۔ جنگ چھ مہینے لڑ لیں سال لڑ لیں گے اس سے ایرانی عوام کو کیا حاصل ہو گا۔ اس وقت ایرانی سیاسی قیادت اور سیاسی سوچ کے حامل لوگوں کو آگے آ کر امن کو رستہ دینا چاہئے۔ جنگ اب براہ راست ساری دنیا کو متاثر کر رہی ہے۔ ہر گزرتا دن مشکل سے مشکل ترین ہوتا جا رہا ہے۔ ایک وقت آئے گا کہ دنیا ایران کے خلاف امریکہ کے ساتھ کھڑی ہو جائے گی۔ برطانیہ اعلان کر چکا باقی ممالک بھی سوچ بچار کر رہے ہیں۔ اس وقت ایران کی پوزیشن اچھی ہے وہ مذاکرات میں ایک زینہ اوپر ہیں۔ ان کی بیشتر شرائط کو مانا جا چکا ہے۔ ایک آدھ شرط پر دور اندیشی کا مظاہرہ کر کے آگے بڑھنا چاہیے۔ مستقل جنگ بندی، عالمی پابندیوں میں نرمی اور بحالی کے بعد سفارتی محاذ پر ایران کے عوام کا حق حاصل کرنا آسان ہو گا۔ پاکستان ایک دوست، ہمدرد اور برادر اسلامی ملک ہونے کی حیثیت میں حتی المقدور کوشش کر رہا ہے کہ مذاکرات حتمی طور پر فیصلہ کن ثابت ہوں۔ پاکستان نے ثالثی کیلئے غیر مشروط طور پر خود کو پیش کیا ہے۔ الحمدللہ پاکستان کی کوششیں رنگ لائی ہیں۔ پاکستانی قیادت بالخصوص وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر عالمی امن کے ضامن کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ دنیا اس کی معترف ہے۔ تاریخ پاکستان کو امن کے ضامن کے طور پر ہمیشہ یاد رکھے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں فریقین عالمی امن کیلئے ایک قدم آگے بڑھا کر بالغ نظری کا مظاہرہ کریں ایرانی پاسداران سیاسی قیادت کو فیصلہ کرنے دیں اور دنیا کو خون کی ہولی سے بچائیں۔ جنگ کے نتائج ہمیشہ بھیانک نکلتے ہیں، تاریخ گواہ ہے کہ یہ بازی کوئی نہیں جیت سکتا، اس کے نتیجے میں انسانی المیہ جنم لیتا ہے۔

مزیدخبریں