چانگشا: صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کے دورہ چین کے دوران سندھ کے انفراسٹرکچر اور زراعت میں انقلاب لانے کے لیے تین بڑی مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کیے گئے ہیں۔ چین کے شہر چانگشا میں منعقدہ اس تقریب میں کراچی کی پیاس بجھانے کے لیے جدید چینی ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
محکمہ بلدیات سندھ اور چینی ادارے 'لوشیئن انوائرمنٹل ٹیکنالوجی گروپ' کے درمیان ایک اہم شراکت داری قائم ہوئی ہے۔ اس کے تحت کراچی کو پانی کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے سمندری پانی کو میٹھا بنانے (Desalination) کے منصوبوں پر کام کیا جائے گا۔
سندھ حکومت نے 'لانگ پن ہائی ٹیک انفارمیشن کمپنی' کے ساتھ زرعی ٹیکنالوجی میں تعاون کا سمجھوتہ کیا ہے، جس کا مقصد فصلوں کی بہتر پیداوار اور جدید فارمنگ کی منتقلی ہے۔ان تاریخی دستاویزات پر پاکستان کی جانب سے سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے دستخط کیے۔ اس موقع پر صدر آصف علی زرداری نے چینی حکام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کی شراکت داری محض سفارتی نہیں بلکہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر محیط ہے۔ کراچی جیسے میگا سٹی کے لیے پانی کا منصوبہ ہماری اولین ترجیح ہے۔
کراچی میں پانی کی دائمی قلت کے پیش نظر سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانا ایک ایسا خواب ہے جو اب چینی تعاون سے حقیقت بننے جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ صدر زرداری کے اس دورے سے سندھ میں چینی سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھلیں گے، جس سے بالخصوص ساحلی پٹی پر رہنے والے لاکھوں شہری مستفید ہوں گے۔
پاک چین دوستی کے نئے ثمرات: کراچی میں سمندری پانی کو میٹھا بنانے کا منصوبہ طے، صدر زرداری کی موجودگی میں معاہدوں پر دستخط
01:41 PM, 27 Apr, 2026