کراچی : پاکستان کی معاشی سمت کا تعین کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اہم اجلاس آج منعقد ہو رہا ہے۔ ملکی معیشت کو مہنگائی کے دباؤ سے نکالنے اور مالیاتی استحکام کے لیے اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں اضافے کی مضبوط پیش گوئی کر دی گئی ہے۔
مالیاتی ماہرین کے مطابق، موجودہ معاشی اشاریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اسٹیٹ بینک پالیسی ریٹ میں 50 سے 100 بیسسز پوائنٹس کا اضافہ کر سکتا ہے۔
یہ معاشی اجلاس ایک ایسے منفرد وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان کی عالمی ساکھ بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کی غیر معمولی تعریف اور ایران-امریکہ کے درمیان پاکستان کے کامیاب ثالثی کردار نے عالمی برادری میں پاکستان کا اعتماد بحال کیا ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگرچہ شرح سود میں اضافہ ایک کڑا فیصلہ ہے، لیکن پاکستان کی حالیہ سفارتی فتوحات بہت جلد بڑے پیمانے پر غیر ملکی سرمایہ کاری کا باعث بنیں گی۔
سٹاک ایکسچینج اور منی مارکیٹ کے کھلاڑیوں کی نظریں اسٹیٹ بینک کے اعلامیے پر مرکوز ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کا فیصلہ ملکی معیشت کو طویل مدتی استحکام کی پٹری پر ڈالنے کے لیے سنگِ میل ثابت ہوگا۔
بڑی معاشی پیش رفت: سٹیٹ بینک کا ہنگامی اجلاس آج، شرح سود میں اضافے کا الرٹ جاری
10:40 AM, 27 Apr, 2026