پنجاب میں ڈی این اے کا مرکزی ڈیٹا بیس قائم کرنے کا فیصلہ

02:38 PM, 27 Apr, 2025

لاہور : پنجاب حکومت نے جرائم کی تفتیش اور روک تھام کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے صوبے میں ڈی این اے کا مرکزی ڈیٹا بیس بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر محکمہ داخلہ نے اس منصوبے پر کام شروع کر دیا ہے، جس کے تحت پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی صوبے بھر سے ڈی این اے نمونے اکٹھا کرے گی۔

اس نئے نظام کا مقصد سنگین جرائم میں ملوث افراد کی جلد شناخت کرنا اور تفتیشی عمل کو تیز کرنا ہے۔ اس میں نہ صرف صوبے کی جیلوں میں موجود قیدیوں کے ڈی این اے ریکارڈ شامل کیے جائیں گے، بلکہ جرائم پیشہ افراد اور عادی مجرمان کا ڈی این اے بھی محفوظ کیا جائے گا۔

سیکرٹری داخلہ نورالامین مینگل کی ہدایت پر ماہرین کا ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیا گیا ہے جو اس مرکزی ڈیٹا بیس کے قیام کے لیے تجاویز تیار کرے گا۔ اس گروپ میں پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کے ڈی جی ڈاکٹر محمد امجد، ڈائریکٹر ایڈمن ولید بیگ، پروفیسر ڈاکٹر معاذ الرحمان اور ڈی آئی جی اطہر وحید شامل ہیں۔ ورکنگ گروپ ایک ہفتے کے اندر اپنی تجاویز سیکرٹری داخلہ کو پیش کرے گا۔

مزیدخبریں