ممکن ہے کہ بہت سے لوگ میرے آج کے موضوع سے متفق نہ ہوں لیکن میں آج بات صرف پاکستانی نقطہ نظر سے کروں گا۔ میرے نزدیک قومی اَور بین الاقوامی سیاست میں سب سے اہم پاکستان ہے۔ میں ہر بات، ہر صورتِ حال کو اِسی نظر سے دیکھتا ہوں۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ہمیں کم از کم بین الاقوامی سیاست کو اِسلام کی نظر سے دیکھنا چاہیے۔ لیکن میں جب اَپنے چاروں طرف دیکھتا ہوں تو مجھے معلوم ہوتا ہے کہ تمام اِسلامی ممالک سب سے پہلے اَپنے ملک کے متعلق ہی سوچتے ہیں۔ جب اَیسا ہے تو اگر میں اَیسا سوچوں تو کیا حرج ہے؟
آج کل پھر فلسطین اَور غزہ کی صورتِ حال کے حوالے سے ہمارے ملک میں ہلچل ہے۔ جلوس نکالے جارہے ہیں۔ جلسے ہو رہے ہیں۔ بائیکاٹ کے نعرے لگ رہے ہیں۔ ہڑتال کے دھمکیاں بھی سننے میں آرہی ہیں۔ کوئی جلوس یا جلسہ اَیسا نہیں جس کی وجہ سے لوگوں کی زندگی اجیرن نہ ہوتی ہو۔ سڑکیں بند ہوجاتی ہیں۔ ٹریفک کو دوسری سڑکوں پر موڑا جاتا ہے۔ وہاں گاڑیاں ایک دوسرے کے پیچھے رِینگتی رہتی ہیں۔ پندرہ منٹ کا سفر ایک گھنٹے میں طے ہوتا ہے۔ لوگوں کا وقت اَور پٹرول برباد ہوتا ہے۔ ہڑتال ہونے پر ملک کے کاروبار کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ یہ سب کس لیے ہے؟ اگر فلسطین پر بمباری ہورہی ہے تو کیا اَپنے ملک کی سڑکیں بند کردینے سے، دْکانوں پر تالے ڈال دینے سے، ٹرینوں کو بند کردینے سے وہ بمباری رْک جائے گی؟ ہم کسی کی محبت میں اَپنے ہی لوگوں کو نقصان کیوں پہنچاتے ہیں؟ ہمارے نزدِیک اَپنے ملک کا نقصان کوئی اَہمیت کیوں نہیں رکھتا؟
میرا دْوسرا سوال یہ ہے کہ فلسطین کے مسئلہ پر ہم جو اِس قدر جذباتی ہورہے ہیں تو فلسطینی اْس وقت کہاں تھے جب ہم مصیبت میں آئے ہوئے تھے؟ ہمارے ملک نے 1965ء اَور 1971ء میں دو جنگیں لڑیں۔ دْوسری جنگ کے نتیجے میں ہمارے ملک کا ایک حصہ ہم سے کٹ کر الگ ہوگیا۔ ہمارے نوے ہزار فوجی جوان دْشمن کی قید میں چلے گئے۔ تب ہمارے لیے کہاں جلسہ ہوا اَور کتنے جلوس نکلے؟کون ہماری طرف سے لڑنے کے لیے آیا۔ پاکستان پر دہشت گردوں نے ایک عرصے سے مصیبت ڈالی ہوئی ہے۔ کون ہماری مدد کو آیا ہے؟
تیسری بات یہ ہے کہ فلسطین اِسرائیل تنازع ایک علاقے کی جنگ ہے۔ یہ مذہبی جنگ نہیں ہے۔ ہمارا بھی ایک علاقائی تنازع کشمیر کے حوالے سے بھارت سے چل رہا ہے۔ بھارت نے کشمیر پر ناجائز قبضہ کررکھا ہے۔ وہاں کے لوگوں کی نسل کشی کی جارہی ہے۔ یہ بھی مذہبی لڑائی نہیں ہے۔ لیکن ہمارے لیے تو کسی کے دِل میں درد نہیں جاگا۔ کس نے ہمارے حق میں جلوس نکالے اَور ہڑتالیں کیں؟ کس ملک نے کشمیرکے حوالے سے بھارت سے اَپنے تعلقات توڑے اَور اْس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا؟ کیا مسلمان ممالک میں بھارتیوں کی ایک بڑی تعداد ملازمت نہیں کرتی؟ کیا بھارتی مصنوعات مسلمان ممالک میں فروخت نہیں ہوتیں؟ کیا اْن کی فلمیں اْن ممالک میں نہیں دکھائی جاتیں؟
اِس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے سیاست دانوں اَور رہنماؤں کو اَبھی تک بین الاقوامی سیاست کی سمجھ ہی نہیں آئی ہے۔ جہاں کہیں بھی کچھ ہوجائے ہم سب سے پہلے اَپنے ملک میں تباہی لاتے ہیں۔ بابری مسجد کا واقعہ ہوا تو پاکستان میں کئی لوگ مندروں کو توڑتے ہوئے اَور مظاہرے کرتے ہوئے جان سے گئے۔ یہاں بسوں کو آگ لگا دی گئی۔ ٹریفک کے اِشارے توڑ دیئے گئے۔ لوگوں کی کاروں کو نقصان پہنچایاگیا۔
ہمارے بعض رہنما حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اِسرائیل پر فوجی حملہ کردیا جائے۔ اِن رہنماؤں کی عقل پر بھی ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے اَپنے حالات نہایت دگرگوں ہیں۔ ملک بہت مشکل سے معاشی اِستحکام کے راستے پر چڑھا ہے۔ اب بھی اَندرونی سیاسی اِختلافات نے قوم کو تقسیم کررکھا ہے۔ مذہبی اَور لسانی اِختلافات الگ ہیں۔ اِن مسائل کے ہوتے ہوئے کسی بھی ملک پر چڑھائی کرنا خودکشی ہے۔ ہم صداقت کے لیے مرنے کی تڑپ تو رکھتے ہیں لیکن اَپنے پیکر خاکی میں جاں پیدا کرنے کے لیے کچھ نہیں کرتے۔ پھر یہ کہ جو بڑھ بڑھ کر نعرے لگاتے ہیں وہ تواَپنے گھروں میں جابیٹھیں گے اَور پاک فوج کو جنگ کی آگ میں جھونک دیں گے۔ نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان کے بارے میں کوئی نہیں سوچتا۔ سارے جہاں کا درد ہم اپنے جگر میں رکھتے ہیں لیکن اَپنے ملک کی محبت سے ہم عاری ہیں۔ ہمیں تو سب سے پہلے اَپنے بارے میں سوچنا ہے۔ ہم زندہ رہیں گے، طاقت ور ہوں گے تو ہی دْوسروں کے لیے کچھ کرسکیں گے۔ ہمیں یہ بھی جان لینا چاہیے کہ جس مسلم اْمت کے دردمیں ہم بری طرح سے مبتلا ہیں وہ آج کہیں نہیں پائی جاتی۔ اَب مسلمان ممالک ہیں جہاں کے لوگ سب سے پہلے اَپنے ملک کے بارے میں سوچتے ہیں۔ جذباتی تقاریرکرنا دْنیاکا سب سے آسان کام ہے۔ جلسے جلوس نکالنا بھی اِتنا مشکل نہیں ہے۔ اَپنے آپ کو اِتنا مضبوط بنانا کہ کوئی ہماری طرف میلی آنکھ سے نہ دیکھے بے حد مشکل کام ہے۔ جب مسلمان سو رہے تھے تب دْوسروں نے اَپنی کمر کو تختہ بنا لیا تھا اَور بہت محنت کی تھی۔ جب ہم عیاشی کررہے تھے، محلات اَور باغات بنارہے تھے، دولت اَور اِقتدارکی ہوس میں بری طرح سے مبتلا تھے تب لوگ راتوں کو جاگ جاگ کر سائنس اَور ٹیکنالوجی میں آگے جارہے تھے۔ جس نے محنت کی اْسے اْس کا صلہ مل گیا۔ یہی قانونِ قدرت ہے۔ ہمیں اَب بھی عقل نہیں آئی ہے۔ بجائے اِس کے کہ ہمارے یہ رہنما قوم کے نوجوانوں کو سائنس اَور ٹیکنالوجی میں آگے بڑھنے کی تلقین کریں، یہ اْنہیں جلسے جلوسوں کی راہ پر ڈال دیتے ہیں۔ اْن سے ہڑتالیں کراتے ہیں۔ نعرے لگواتے ہیں۔ انہیں جہاد کا درس دیتے ہیں۔ اِس سارے کام میں اْن کی تعلیم یا کام کا جو نقصان ہوتا ہے، اْس کی کسی کوئی پروا نہیں۔ ہمیں افغانستان میں جہاد کرنے کا بھی شوق تھا تھا۔ اْس جہاد کے بعد افغانستان نے پاکستان کیساتھ جو کچھ کیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔
خدارا اَپنے ملک اَور اَپنی قوم کے بارے میں بھی سوچیں۔ بے گانی شادی میں عبداللہ دیوانہ والاحساب نہ رکھیں۔ عقل و خرد کو اَپنے ہاتھ سے کبھی نہ جانے دیں۔ ہمارے اِیمان کی وہ کیفیت نہیں ہے کہ فرشتے ہمارے لیے آسمان سے اْتریں گے۔ وہ بھی اگر ہم صبر والے ہوں تو۔ ہم میں صبر نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ ہم تو جانتے بھی نہیں کہ صبر کس چڑیا کا نام ہے۔ چنانچہ دشمن سے اِس حالت میں ٹکرانا سیدھی سیدھی خودکشی ہے۔ مزید یہ کہ یہ بھی دیکھیں کہ ہم جن کے لیے دیوانے ہورہے ہیں اْن کی نظروں میں ہماری کیا حیثیت ہے۔ کون واقعی ہمارا ہمدرد ہے۔ یونہی نعرے لگانے سے کسی کوفائدہ نہیں پہنچے گا صرف اَپنا ہی نقصان ہوگا۔
خالص پاکستانی نقطہ نظر
09:33 AM, 27 Apr, 2025