حکمرانوں کی نورا کشتی، نہروں کا طوفان ختم

09:31 AM, 27 Apr, 2025

پہنچی وہاں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا، پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی جو کہ سالہا سال سے حکومت بنانے کے لیے ایک دوسرے کو سہارا دیتے ہیں اور عوام کے سامنے شور مچاتے ہیں کہ ہم حکومت میں نہیں ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رہنما یہ کہتے ہیں کہ ہم تو جمہوریت کے لیے مسلم لیگ ن کے ساتھ ہیں، مسلم لیگ ن والے کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن ایک ہی راستے کے مسافر ہیں اور ہم کو اس راستے پر چلانے والے ایک ہیں۔ اس لیے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے رہنما جو مرضی ہوا میں تلواریں چلا لیں ایک دوسرے پر انگشت زنی کریں اور بلا وجہ سندھ میں پانی کی کمی اور پنجاب میں نہروں کا نکالنا اور چولستان کو سیراب کرنا حکمرانوں کی آپس میں نورا کشتی ہے جو گزشتہ ایک ماہ سے شروع تھی۔ میں بار بار اپنے ٹی وی پروگراموں اور وی لاگ میں یہ کہتا رہا یہ لڑائی صرف اور صرف ہوا میں لڑی جا رہی ہے، سندھ میں پانی کی کمی پنجاب میں پانی کی چوری اور چولستان کو پانی دینا یہ ان حکمرانوں کے خوابوں کی تعبیر نہیں ہے۔ صرف خواب ہیں کہ سندھ میں پانی کے نام پر سندھیوں کو اپنا گرویدہ بناؤ، پنجاب میں نہری پانی کمی کے نام پر ڈنکے بجاؤ اور پنجاب کے کسانوں کو گندم کی فصل کی قیمت ادا نہ کرو اور ان کو تحریک انصاف کی الیکشن میں مدد کرنے پر کوڑی کوڑی کا محتاج کر دو۔ یہ سارا ایجنڈا ہے، موجودہ حکمران دونوں پارٹیوں کا۔ شور مچاؤ عوام کی بہبود کے لیے اور نو ارب روپیہ اپنے خزانے میں شہباز شریف سے لے کر بلاول بھٹو رکھ لیں۔ فنڈ ملنے سے قبل بڑا شور تھا اصولوں کی سیاست ہے ہم اصولوں پر سودے بازی نہیں کریں گے جو ہم سے وعدے کیے گئے تھے وہ شریفوں نے پورے نہیں کیے۔ نو ارب روپے ملنے کے بعد تمام ٹوئٹر ٹھپ ہو گئے زبان گنگ ہو گئی اور پھر دیکھا کس طریقے سے عوام کو بے وقوف بنایا جاتا ہے۔ پانی کی کمی اور نہروں کی کھدائی کا مسئلہ لے کر میدان عمل میں آ گئے پورے سندھ میں ریلیاں نکالی گئیں جگہ جگہ بلاول بھٹو نے میاں شہباز شریف کے خلاف باتیں کی اور کہا کہ اگر نہریں نکالی گئی تو ہم حکومت سے راہیں جدا کر لیں گے۔ پھر کیا ہوا، وزیراعظم میاں شہباز شریف نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو اسلام اباد میں دعوت دی اور ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کے، گلے میں باہیں ڈال کر کہا کہ بند کرو کافی ہو گیا ہم کون سی نہریں نکال لیتے جس پہ آپ شور ڈال رہے تھے، مشترکہ پریس کانفرس ہوئی اور غباروں سے ہوا نکل گی۔ حالانکہ کام شروع ہوا نہ کوئی فنڈ رکھا گیا اور نہ ہی اس کے لیے کوئی منصوبہ بندی کی گئی۔ میاں شہباز شریف اور بلاول بھٹو نے عوام کو چونا لگانے کے لیے دو ماہ تک کمپین چلائی، حقیقت کو جاننے والوں کو پہلے ہی 100 فیصد یقین تھا یہ لڑائی نورا کشتی ہے اور ایسا ہی ہوا، کسی کو پانی ملا نہ کسی کا پانی ختم کیا گیا، کوئی نہر نکالی گئی نہ کام شروع ہوا اور تنازع ختم ہو گیا۔ یہ ہوتی ہے۔ دوسری طرف ہندوستان نے پاکستان کا پانی بند کرنے کا عندیہ دیا ہے جب عوام جو کہ بھوک فلاس اور حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے خودکشیوں پر مجبور ہیں ان کو جب نہیں سنبھالا جا سکا تو ہندوستان نے جنگ کا سماں پیدا کر دیا۔ اب کل سے پاکستان تحریک انصاف کے تمام رہنما بیانات دے رہے ہیں جنگ ہوئی تو ہم افواج پاکستان کے ساتھ ہیں پاکستان کا بچہ بچہ پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے لیکن حکمرانوں کو جب بھی یہ بیان سنائی دیتا ہے ان کو مسائل نظر آتے ہیں کہ تحریک انصاف کے لوگ افواج پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا نام نہ لیں، ہم نے تو ان کو نو مئی والے بنایا ہوا ہے۔ حکمرانوں کا ایک ہی دعویٰ ہے اگر عمران خان اس کی پارٹی نو مئی نہ کرتی تو ان سے بات چیت ہو سکتی تھی۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی جو کہ پاکستان اور مسلمانوں کا دشمن ہے اور ان کا ووٹ بینک ہی صرف مسلمان دشمنی اور پاکستان دشمنی پر ہے اس نے کوئی شرارت کرنے کی کوشش کی تو اس کو منہ کی کھانا پڑے گی۔ پاکستان کی فوج مضبوط ہے پاکستان کی قوم افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے۔ پاکستان کی فوج دنیا کی نمبر ون فوج ہے اور اس کے سامنے ہندوستان ایک پل بھی نہیں ٹھہر سکتا، اللہ تعالیٰ پاکستان کو ہمیشہ کامیابی سے ہم کنار کرے اور پاکستان میں افواج کے سالار سید عاصم منیر پاکستانی سرحدوں کی جس طریقے سے حفاظت کرنے کے لیے عزم رکھتے ہیں وہ کامیاب ہوں اور بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نریندر مودی کو بتا دیں کہ پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو تمہاری آنکھیں نکال دیں گے۔

مزیدخبریں