سرکاری، نجی، ایلیٹ… تین تعلیمی انتہائیں

09:30 AM, 27 Apr, 2025

کسی بھی ملک کا تعلیمی نظام بظاہر ایک ایسا شعبہ ہے جو قوم کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے مگر پاکستان کے تناظر میں دیکھیں تو حقیقت یہ ہے کہ یہی شعبہ ہمارے معاشرے کی طبقاتی تقسیم کو گہرا کرنے والا ایک خاموش ہتھیار بن چکا ہے۔ تعلیم جو مساوات، شعور اور ترقی کا ذریعہ ہونی چاہیے، وہ ہمارے یہاں تفریق، تفاوت اور امتیاز کا استعارہ بن گئی ہے۔ ہمارے تعلیمی ادارے بچوں کو نہ صرف مختلف نصابات کے ذریعے مختلف حقیقتوں میں جینے پر مجبور کر رہے ہیں بلکہ ان کے مستقبل کے امکانات کو بھی ان کے طبقاتی پس منظر کے مطابق محدود یا وسیع کر رہے ہیں۔
پاکستان میں تعلیمی نظام کو مجموعی طور پر تین بڑے حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، سرکاری سکول، نجی سکول اور ایلیٹ پرائیویٹ یا بین الاقوامی سکولز۔ سرکاری سکولز میں وہ بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں جو اکثر متوسط یا نچلے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، جن کے والدین مالی وسائل سے محروم ہیں یا دیہی و پسماندہ علاقوں میں مقیم ہیں۔ ان سکولوں میں نہ صرف وسائل کی شدید کمی ہے بلکہ تربیت یافتہ اساتذہ کی کمی اور غیرحاضری، خراب انفراسٹرکچر، ناکافی تربیت اور ناقص نصاب بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ یہاں تعلیم محض ایک رسمی کارروائی کی مانند ہے جو اکثر طلبہ کو صرف امتحان پاس کرانے کی حد تک محدود رہتی ہے، عملی زندگی کی کامیابیوں کو ان سے وابستہ کرنا اپنے ہی پیروں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے۔
دوسری طرف نجی سکولز ہیں، جہاں نسبتاً بہتر نصاب، تدریسی سہولیات اور تربیت یافتہ استاد پروفیشنل اور سبجیکٹ سپیشلسٹ موجود ہیں لیکن یہاں بھی کئی سطحیں ہیں۔ کم فیس والے نجی سکولز میں تعلیم کا معیار سرکاری سکولز سے کچھ بہتر ضرور ہوتا ہے مگر وہ اکثر بنیادی سطح سے اوپر نہیں جا پاتا۔ جبکہ ایلیٹ یا بین الاقوامی سکولز کا ایک اور ہی جہان ہے جہاں انگریزی میڈیم، جدید ٹیکنالوجی، غیر ملکی نصاب ، غیر ملکی اساتذہ اور مغربی طرز تعلیم سے آراستہ بچے ایک بالکل مختلف سماجی اور فکری شناخت کے ساتھ پروان چڑھتے ہیں۔ ان بچوں کی زبان، طرز تکلم، رہن سہن، حتیٰ کہ ان کے 
خواب اور ترجیحات بھی معاشرے کے دیگر طبقات سے مکمل طور پر مختلف ہوتے ہیں۔
یہ نظام نہ صرف طلبہ کے درمیان علمی تفریق پیدا کرتا ہے بلکہ معاشرتی شعور، سوچنے کی صلاحیت اور دنیا کو دیکھنے کے زاویے میں بھی ایک ناقابلِ عبور خلیج پیدا کر دیتا ہے۔ غریب طبقے کے بچے جو سرکاری یا کمزور نجی اداروں سے تعلیم حاصل کرتے ہیں، وہ اکثر اعلیٰ تعلیم یا معیاری ملازمت کے مقابلے میں پہلے ہی مقابلے سے باہر ہو جاتے ہیں۔ یوں یہ نظام برابری کے مواقع کی نفی کرتا ہے اور طبقاتی امتیاز کو مزید مضبوط بناتا چلا جاتا ہے۔زبان کی بنیاد پر بھی یہ تفریق واضح ہے۔ انگریزی میڈیم اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر بہتر مواقع ملتے ہیں جبکہ اردو میڈیم یا مقامی زبانوں میں تعلیم حاصل کرنے والے اکثر پسماندگی کا شکار رہتے ہیں۔ انگریزی کو ترقی کی کنجی تصور کرنے کی سوچ نے تعلیم کو علم سے زیادہ ایک سٹیٹس سمبل میں بدل دیا ہے۔ اس رجحان نے ایک ایسا تعلیمی ماحول تشکیل دیا ہے جہاں زبان علم کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک دیوار بن چکی ہے، جو امیر اور غریب کے درمیان کھڑی ہے۔
اس طبقاتی تقسیم کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ صرف تعلیمی اداروں تک محدود نہیں ہے بلکہ بچوں کے مستقبل، پیشہ ورانہ زندگی اور سماجی عزت و وقار پر بھی گہرے اثرات ڈالتی ہے۔ ایلیٹ سکولز کے طلبہ کو بہتر یونیورسٹیوں میں داخلے، انٹرن شپ، نوکریاںاور بیرون ملک مواقع اس لیے زیادہ حاصل ہوتے ہیں کیونکہ ان کے پاس وسائل، سکھائی گئی خود اعتمادی اور وہ نیٹ ورکنگ موجود ہوتی ہے جو نچلے طبقے کے بچے تصور بھی نہیں کر سکتے۔ یوں مساوات اور برابری کی امید ایک خواب بن کر رہ جاتی ہے۔طبقاتی تعلیم کا یہ فرق صرف سماجی ناہمواری کو نہیں بڑھاتا بلکہ قومی وحدت کے تصور کو بھی کمزور کرتا ہے۔ جب ایک ہی ملک کے بچے مختلف نصاب، زبان اور سماجی ماحول میں پروان چڑھتے ہیں تو وہ ایک دوسرے کو نہ سمجھ پاتے ہیں اور نہ ہی قبول کرتے ہیں۔ یہ صورت حال ملک میں فکری انتشار، تعصب اور تقسیم کو جنم دیتی ہے، جس کے اثرات نسل در نسل چلتے ہیں۔ ایسے معاشروں میں قومی یکجہتی ایک نعرہ تو ہو سکتی ہے، حقیقت نہیں بن سکتی۔
حکومتوں نے کئی مواقع پر یکساں نظام تعلیم کے وعدے کیے، مگر یہ دعوے اکثر محض سیاسی نعرے ثابت ہوئے۔ پچھلے دور حکومت میں یکساں قومی نصاب کا منصوبہ بھی عملی طور پر طبقاتی تفریق کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا کیونکہ اس پر عمل درآمد صرف سطحی نوعیت کا رہا۔ اصل چیلنج صرف نصاب کو یکساں کرنا نہیں، بلکہ تعلیمی وسائل، اساتذہ کی تربیت، تعلیمی ماحول اور طلبہ کی فکری نشوونما میں برابری پیدا کرنا ہے۔ جب تک ہر بچے کو مساوی تعلیمی ماحول فراہم نہیں کیا جاتا، محض نصاب کی تبدیلی کسی بڑی اصلاح کا باعث نہیں بن سکتی۔پاکستان کے تعلیمی مسائل کا حل تبھی ممکن ہے جب ہم تعلیم کو بنیادی انسانی حق تسلیم کرتے ہوئے اس پر اخراجات کو بڑھائیں، سرکاری سکولوں کو واقعی "تعلیم گاہ" بنائیں اور اساتذہ کو تنخواہ، تربیت اور عزت کے لحاظ سے معاشرے میں ایک باوقار مقام دیں۔ نجی اداروں کی بے لگام فیسوں اور تعلیمی کاروبار پر موثر ریگولیشن نافذ کی جائے تاکہ تعلیم دولت کے بجائے قابلیت کی بنیاد پر حاصل کی جا سکے۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ والدین، اساتذہ، پالیسی ساز اور سوسائٹی بطورِ مجموعی تعلیم کے اصل مقصد کو سمجھیں اور اس کی روح کو زندہ کریں۔ تعلیم کا مقصد محض ڈگریاں بانٹنا، ملازمتیں دلوانا یا زبانیں سکھانا نہیں بلکہ ایک ایسا باشعور شہری پیدا کرنا ہے جو سماج کی بہتری، انصاف اور ترقی میں اپنا کردار ادا کرے۔ اگر ہم نے اپنے تعلیمی نظام کو اس مقصد سے ہم آہنگ نہ کیا تو ہم ایک ایسی نسل تیار کر رہے ہوں گے جو ایک دوسرے سے کٹی ہوئی، الجھی ہوئی اور تقسیم شدہ ہو گی۔طبقاتی تعلیم صرف ایک مسئلہ نہیں، یہ ایک مکمل بحران ہے جو قوم کی فکری، اخلاقی اور معاشی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ اس بحران سے نکلنے کے لیے ہمیں صرف حکومتی پالیسیوں پر نہیں بلکہ اپنے سماجی رویوں پر بھی نظر ثانی کرنا ہو گی۔ جب تک تعلیم پر برابر کا حق تسلیم نہ کیا جائے گا ترقی ایک خواب اور مساوات ایک فریب ہی رہے گی۔

مزیدخبریں