اگر یہ کہا جائے کہ پورے پنجاب کے عوام اس وقت کسی نہ کسی قسم کی مشکل ،پریشانی یا کشمکش میں مبتلا ہیں تو غلط نہ ہو گا۔ کوئی روزگار کے حصول کے لیے پریشان ہے تو کوئی نوکری میں مناسب مراعات نہ ملنے پر سراپا احتجاج ہے، کوئی رہائشگاہ کی عدم دستیابی پر پریشان ہے تو کوئی اپنے مکان پر سرکاری بلڈوزر چل جانے پر دل گرفتہ، کسی کو کاروبار میں منافع کی شرح کم ہو جانے کا شکوہ ہے تو کوئی سرکاری آپریشن میں اپنی دکان یا سٹال ڈھائے جانے پر دکھی ہے، کوئی مارکیٹ میں سبزیاں اور پھل مہنگے ہو جانے کا رونا رو رہا ہے تو کوئی اپنی فصل کے مناسب ریٹس نہ ملنے پر دل گرفتہ ہے، کوئی طالبعلم یونیورسٹی میں داخلہ نہ ملنے پر پریشان ہے تو کوئی اسی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد نوکری نہ ملنے پر اور ماحول دوستی کے جذبہ کے تحت شجرکاری کرنے اور پھر ان درختوں اور پودوں کی حفاظت میں مگن رہنے والے سرکاری اہلکاروں کی جانب سے گرین بیلٹس اور گھروں کے باہر لگے ہوئے پودے اجاڑنے پر دکھی ہیں۔غرض ایک اندازے کے مطابق پہلی خاتون وزیر اعلیٰ کے اقتدار کا تحفہ یہ ہے کہ پورے کا پورا صوبہ دکھی ہو کر رہ گیا ہے۔
مہنگائی ، بے روزگاری اور لاقانونیت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ اور حکومت کی تمام تر توجہ بنیادی مسائل کے بجائے کاسمیٹک مسائل پر مرکوز ہے۔ تکنیکی اعتبار سے دیکھا جائے تو شائد مہنگائی اور بے روزگاری کو کنٹرول کرنا واقعی حکومت کے بس کی بات نہیں ، لیکن حکومت اپنے فیصلوں سے کم از کم اتنا تو کر ہی سکتی ہے کہ ان میں اضافہ نہ ہو۔ مانا کہ مارکیٹوں میں سٹالوں کے نام پر بے انتہا تجاوزات کی گئی تھیں۔ لیکن اس سب کا ایک مثبت پہلو یہ بھی تو تھا کہ ایک طرف ہزاروں بے روزگار نوجوان یہیں سے اپنے گھر کا خرچہ چلا رہے تھے تو دوسری طرف کم آمدنی والے سفید پوش لوگ انہیں سٹالوں سے نسبتاً کم مہنگی خریداری کر لیتے تھے۔ حکومت تجاوزات اور سٹالوں پر کریک ڈاون ضرور کرتی لیکن کیا ہی اچھا ہوتا کہ ان سٹال والوں کے لیے بھی کوئی جگہ مخصوص کر دی جاتی تاکہ ان کا سلسلہ روزگار جاری رہ سکے۔ ورنہ اتنی بڑی تعداد میں بیروزگار نوجوانوں کا وارداتوں کی جانب راغب ہو جانا کوئی اچنبھے کی بات نہ ہو گی۔ اور اگر خدا نخواستہ بات اس طرف چل نکلی تو پھر حکومت امن واماں اور قانون پر عملداری جیسی باتوں کو تو بھول ہی جائے۔اس کے علاوہ حکومت سے یہ سوال بھی پوچھا جانا چاہیے کہ جب یہ تجاوزات بن رہی تھیں تو متعلقہ محکمے کہاں تھے اور جو لوگ ہر ہفتے ان سٹال والوں سے رقم بٹور کر لے جایا کرتے تھے وہ کون ہیں۔
اسی طرح یہ بھی شنید ہے کہ حکومت چنگ چی رکشوں پر بھی پابندی عائد کرنے جا رہی ہے ۔ اس فیصلہ کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ یہ فضائی آلودگی کا باعث بن رہے ہیں، ان رکشوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور ان کے ڈرائیورز خطرناک ڈرائیونگ کے مرتکب پائے جاتے ہیں۔ یہ تمام اعتراضات تو یقینا درست ہی ہوں گے لیکن حکومت اور اس کے متعلقہ ادارے اس وقت کہاں سو رہے تھے کہ جب شہر سے سست رفتار ٹریفک یعنی ٹانگوں اور ریہڑوں وغیرہ کے انخلا کے لیے انہی چنگ چی رکشوں اور لوڈرز کو فروغ دیا گیا۔پھر ایک طرف تو انہی رکشوں اور لوڈرز کی درآمد کی اجازت دیئے رکھی تو دوسری جانب ان کی رجسٹریشن کا کوئی قانون ہی نہیں بنایا۔ اب بھی اگر حکومت ہوش کے ناخن لے اور انہی چنگ چی رکشوں کو قانون کے دائرے میں لائے۔ بے شک دھواں چھوڑنے والے رکشوں اور غلط اور کم عمر ڈرائیونگ کرنے والوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کرے لیکن اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو بیروزگار کرنے کے منصوبے پر عملدرآمد نہ کرے۔
اگرچہ رہائشی علاقوں میں بھی لوگوں نے تجاوزات کی بھرمار کر رکھی ہے اور ان کے خلاف آپریشن انتہائی ضروری تھا لیکن حکومت نے تو اس سلسلہ میں بھی ایسابدصورت آپریشن شروع کیا ہے کہ خدا کی پناہ۔ لاھور جیسا شہر جو پہلے ہی آلودگی اور درجہ حرارت کے حوالہ سے پوری دنیا میں سر فہرست رہتا ہے یہاں کے رہائشی علاقوں میں تجاوزات کے خاتمہ کے لیے آپریشن کے نام پر انتہائی اجڈ اور اکھڑ لوگوں کو گرین بیلٹس اور پودوں کی بربادی کے لیے بھیج دیا گیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ جن جن علاقوں میں ایل ڈی اے کی جانب سے آپریشن کیا گیا ہے وہ اس وقت غزہ کا سا منظر پیش کر رہے ہیں۔ ایک تو انتہائی بے ڈھنگے طریقے سے آپریشن کیا گیا اور تجاوزات کے نام پر پودوں اور درختوں کی بربادی کر دی گئی ہے دوسرے ملبہ اٹھانے کا کوئی مناسب انتظام نہیں ہے۔
کچھ ایسی ہی صورتحال سے ہمارے کاشتکار بھائی دوچار ہیں۔ اس وقت گندم کی فصل پک کر تیار ہو چکی ہے لیکن اس کی مناسب داموں پر فروخت کے لیے کسان دربدر ہے۔ میرے ایک کزن رانا جواد جو کاشتکاری کے شعبہ سے ہی منسلک ہیں نے بتایا کہ گزشتہ برس حکومت کی مہربانی سے گندم کی سرکاری سطح پر تو خریداری کی ہی نہیں گئی اور کسان کو اونے پونے داموں میں فصل فروخت کرنا پڑی۔گزشتہ برس کے تلخ تجربہ کی روشنی میں انہوں نے اس سال گندم کے بجائے چارہ کاشت کرنے میں ہی عافیت سمجھی اور اس امید میں تھے کہ چلو کم از کم خرچے تو نکل ہی آئیں گے لیکن حکومت کی مہربانیاں اس سال بھی جاری ہیں اور کسان گندم جیسی فصل کو چارہ کے بھائو بیچ کر اپنے خرچے پورے کرنے کے چکر میں ہے لیکن رانا جواد جیسے اپنا چارہ بیچنے سے بھی قاصر ہیں کیونکہ اسی چارہ کی قیمت میں گندم دستیاب ہے۔
فوجی آمریتوں کے بارے میں سنا کرتے تھے کہ انہیں صرف حکمرانی سے غرض ہوتی ہے اور انہیں عوام یا ان کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ لیکن ہم نے تو موجودہ منتخب سیاسی حکومت کو کسی بھی آمریت سے بد تر پایا ہے کہ جس میں عوام کودو وقت کی روٹی اور روزگار کے لالے پڑ گئے ہیں۔ عوام کے پاس دو ہی راستے بچے ہیں یا تو وہ خودکشی کر کے اس دنیا کے مسائل سے اپنی جان چھڑا لیں یا پھر ہمت کر کے کوئی واردات ڈالیں، اگر کامیاب ہو گئے تو چند دن سکون سے گزر جائیں گے ورنہ زندگی تو پہلے ہی جہنم بنی ہوئی ہے۔
معاملات جب حد سے بگڑ جائیں اور امن وامان کی صورتحال قابو سے باہر ہونے لگے تومعاملات کو کنٹرول کرنے کے لیے حکومت کے پاس واحد ہتھکنڈا پولیس مقابلے ہی ہوتا لیکن اس وقت جس بڑے پیمانے پر لوگ مسائل اور تکالیف کا شکار ہیں اس میں شائد اس قسم کے ہتھکنڈے بھی الٹا انہیں کے گلے نہ پڑ جائیں۔
حکومت کو چاہیے کہ اب بھی ہوش کے ناخن لے اپنی رٹ قائم رکھنے کے لیے ضروری اقدامات ضرور کرے لیکن عوام کے پیٹ پر لات نہ مارے ورنہ عوامی ردعمل کے ساتھ ساتھ اللہ کے عذاب کے لیے تیار رہے۔
ہر شخص پریشان ہے
09:29 AM, 27 Apr, 2025