پاکستان جیت چکا

09:28 AM, 27 Apr, 2025

21فروری 1987کی صبح تھی ۔ہندوستان کی فوجیں ہماری سرحدوں پرتعینات تھیں۔ہندوستان کی فوج کی بڑی تعدادسندھ کے قریبی صحراؤں میں جنگی مشقوں کے نام پر پاکستان پر حملے کا منصوبہ بنارہی تھی ۔منصوبہ آئی ایس آئی کی انفارمیشن کے ذریعے پاکستان کے صدر کی میز پر پہنچا،ہندوستان کا منصوبہ پاکستان پر تین اطراف سندھ ،پنجاب اورایل او سی سے حملہ کرکے پاکستان کو تین حصوں (خاکم بدہن) میں تقسیم کرناتھا۔ایک طرف یہ صورتحال تھی اور دوسری طرف پاکستان کی کرکٹ ٹیم جے پور میں بھارت کے ساتھ ٹیسٹ میچ کھیل رہی تھی۔پیغام رسانی کی آج کل کی بہاریں نہیں تھیں۔بیانیوں کی جنگیں مسدود،جو ہوتا ہلکی پھلکی بیان بازی، اخبارات یا دونوں اطراف کے سرکاری ٹی وی تک ۔ حالات کی سنگینی کا ادراک غالب آیا تو جنرل ضیاالحق نے ترپ کا پتہ پھینکنے کا منصوبہ بنایا۔ جنرل ضیا ایئر فورس کے سربراہ مملکت کے لیے مخصوص جہاز پر سوار ہوئے اور سیدھے دلی ایئر پورٹ جاپہنچے۔ جنرل ضیا کی اس اچانک آمدپر بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی پریشان ہوگئے ۔ایک طرف جنگ کے منصوبے اور دوسری طرف پاکستان کے صدر کے استقبال کی مجبوری۔
راجیو گاندھی جنرل ضیا کے استقبال کے لیے دلی ایئر پورٹ آئے ،ہاتھ ملانے تک کی ملاقات ہوئی۔جنرل ضیاسے راجیو گاندھی ہاتھ ملانے کے لیے قریب ہوئے تو جنرل ضیا نے بھارتی وزیراعظم کو اپنا ’’جوہری پیغام‘‘ دیا۔جنرل ضیا نے راجیو سے کہا کہ ’’راجیو تم پاکستان پرحملہ کرنا چاہتے ہو؟ شوق سے پاکستان پر حملہ کرو لیکن یاد رکھنا یہ جنگ سادہ اور عام سی جنگ نہیں ہوگی بلکہ یہ جنگ ایٹمی جنگ ہوگی پھر دنیا ہلاکو خان اور چنگیز خان کو بھول جائے گی اور صرف جنرل ضیا اورراجیوگاندھی کو یاد رکھے گی ۔اورہاں اس جنگ میں شاید پاکستان ختم ہوجائے لیکن اس دنیا میں ایک ارب کے قریب مسلمان پھر بھی موجود رہیں گے لیکن جب ہندوستان صفحہ ہستی سے مٹے گا تو تمہارا مذہب اور اس کے نام لیوا بھی دنیا سے ختم ہوجائیں گے‘‘ جنرل ضیا کا یہ ایٹمی پیغام راجیوگاندھی کو اندر تک ہلاگیا۔
یہ تفصیلات راجیوگاندھی کے قومی سلامتی کے مشیر بہرامنم نے انڈیا ٹوڈے میں لکھے اپنے ایک آرٹیکل میں بیان کی ہیں۔انہوں نے لکھا کہ یہ جملے کہنے کے بعد جنرل ضیا الحق میچ دیکھنے کے لیے چنائی روانہ ہونے لگے تو انہوں نے جاتے ہوئے وہاں موجود تمام ہندوستانیوں اور پاکستان کے سفارتی عملے سے ہاتھ ملایا لیکن وزیراعظم راجیوگاندھی اور مجھ سے ہاتھ ملائے بغیر جہاز پرسوار ہوگئے ۔ یہ پیغام تھا کہ اگر اب بھی سوچ کے کسی خانے میں جنگ یا حملے جیسا کوئی خیال رہ گیا ہے تو دوبارسوچ لیں پاکستان جو کہہ رہا ہے وہ کرکے بھی دکھائے گا۔وہ لکھتے ہیں کہ جنرل ضیاکو چنائی کے لیے رخصت کرکے وزیراعظم ہاؤس میں آکر ہنگامی اجلاس طلب کرلیا۔جنرل ضیا کا پیغام کام کررہا تھا ۔ہندوستان نے سوچ بچار کے بعد فیصلہ کیا کہ وزیراعظم راجیوگاندھی جنرل ضیا سے ملاقات کے لیے چنائی جائیں گے۔ چنائی میں دونوں رہنماؤں کے درمیان باضابطہ ملاقات ہوئی جس میں عقل اور شعور غالب آیا۔ ہندوستان باز آیا۔ اس نے اپنی فوجوں کو سرحدوں سے واپس بلانے کا حکم دیا ۔ تاریخ اس واقعہ کوکرکٹ ڈپلومیسی کے نام سے یاد کرتی ہے ۔اس کے بعد بھی کئی موقع آئے جب دونوں ملک کشیدگی میں پڑے لیکن سوائے کارگل کے دونوں ملک ایک دوسرے کے اس طرح آمنے سامنے نہیں آئے ۔
جنرل عاصم منیر صاحب کے بارے یہی روایات ہیں کہ وہ ایک مختلف جرنیل ہیں۔ وہ اپنی جنگی حکمت عملی خالص طوپر قرآن پاک اور حضور نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ سے لیتے ہیں۔اُس وقت اگر ایٹمی جنگ کی دھمکی تھی تو آج یہ ایٹم بم ایک حقیقت ہے اور ہندوستان ہمیں بھی جانتا ہے اور اپنی اوقات بھی اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔پھر پلوامہ کے بعد ایک ایڈونچر میں ابھینندن کی صورت میں شرمندگی کے سمندر میں غوطے بھی کھاچکا ہے۔
یہ وقت 1987سے بہت مختلف ہے اس وقت شاید کسی ہندوستانی وزیراعظم میں حیا کی کوئی رمق باقی ہوگی لیکن اس وقت ہندستان میں’’ گجرات کے قصائی‘‘ کی حکومت ہے جو توسیع پسندانہ عزائم رکھتا ہے۔جو اپنی ہندوتوا کی سوچ کو پورے ہندوستان پر مسلط کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے۔پہلگام میں کیا گیا کہ فالس فلیگ آپریشن بھی اسی سوچ کا شاخسانہ ہے۔مکررعرض کہ یہ انیس سو ستاسی نہیں ہے اور نہ ہی پاکستان کسی کو پیغام دینے کے لیے دلی جائے گا بلکہ پاکستان کا پیغام اسی لمحے دلی تک پہنچ گیا تھا کہ جس لمحے اس فالس فلیگ آپریشن کا الزام پاکستان پر لگایا گیا تھا۔
 پہلی بار ہی ہوا ہے کہ پاکستان نے بیانیے کی جنگ اتنی تیزی سے لڑی۔ بہادری سے لڑی۔ کلیئرٹی سے لڑی۔مل کر لڑی۔مکمل فارمیشن کے ساتھ لڑی اور گھنٹوں اور دنوں میں نہیں بلکہ منٹوں میں ہندوستان اور پوری دنیا کو باور کرا دیا کہ جو الزام پاکستان پر لگایا جارہا ہے وہ جھوٹ ہے۔وہ پہلے سے منصوبہ بندی کے ساتھ لگایا جارہا ہے۔آج وہ الزام جو ہندوستان نے سوشل میڈیا اور اپنے روایتی میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے لگایا تھا وہ جھوٹا ثابت ہوچکا ۔ پاکستان کے ہر شخص نے وطن کے لیے یہ بیانیے کی جنگ لڑی ہے۔مجھے بھی ملک کی خدمت کا یہ موقع نصیب ہوا۔ میں نے ہندوستانی میڈیاکا محاذ سنبھالا۔ہندوستانی چینلز پر بیٹھ کر ان کو جھوٹا ثابت کیا۔تاریخ سے ان کے اسی طرح کے فالس فلیگ آپریشنز کی مثالوں سے ان کو جھوٹا ثابت کیا۔اس میڈیا کی لڑائی کے بدلے مجھے پاکستان کے لوگوں نے پلکوں پر بٹھایا۔ یہ جذبہ دیکھ کر میری آنکھیں نم ہیں۔اس ایک بحران نے پاکستان کو دوبارہ متحدہ کردیا ہے۔ ہمیں دوبارہ ایک قوم کی طرح ایک ساتھ سوچنے پر لگادیا ہے۔یہی وہ اصل پاکستان ہے جس میں ہماری بقا ہے ۔ یہی وہ اصل پاکستان ہے جس میں ہماری ترقی اور آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔ 
ہندوستان کی طرف سے اس واقعہ کے بعد انتہائی بے سروپا بیان بازی تو ایک طرف وہ پاکستان کو ڈھنگ کا کوئی جواب بھی نہیں دے پائے ۔سفارتی تعلقات تو دونوں ملکوں کے درمیان پہلے بھی بس انتہائی ضرورت کے لیے ہیں تو ان کے مزید کم ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑیگا۔باقی رہی بات سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے او رپاکستان کا پانی روکنے کی تو اس پر قومی سلامتی کمیٹی نے واضح جواب دے دیاکہ یہ جنگ جیسا اقدام ہے لیکن پانی روکنے پر میرے لیے سب سے اہم بیان اور سوچ چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی جناب بلاول بھٹو زرداری صاحب کا ہے ۔انہوں نے یہ کہہ کر پاکستان کے پچیس کروڑ پاکستانیوں کے دل کی آواز دنیا کے سامنے رکھ دی ہے کہ ’’سندھو (دریائے سندھ)پاکستان کا تھا ،پاکستان کا رہے گا ۔سندھو میں یا تو پانی بہے گا یاپھر اُن (بھارتیوں)کا خون بہے گا۔بلاول بھٹو کا یہ بیان ہندوستان پر کسی ایٹمی حملے سے کم نہیں ہے اور اس کے اثرات صرف محسوس نہیں بلکہ دیکھے بھی جاسکتے ہیں۔

مزیدخبریں