انتخابات اور نگلہ!

09:43 AM, 26 Sep, 2026

بعض لفظ لغت میں نہیں ملتے، مگر زندگی کی لغت میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ نگلہ بھی میرے لیے ایسا ہی ایک لفظ ہے۔ یہ لفظ مجھے گوجرانوالہ کے بزرگ استاد مولوی محمد اسحاق بٹ صاحب سے ملا، جو ہمارے اکھاڑے کے استاد تھے۔ آخر عمر تک کڑیل جسم رکھتے تھے اور ورزش، صحت، صفائی، نماز اور کردار کی تربیت کو یکساں اہمیت دیتے تھے۔ گوجرانوالہ کے کئی نامور پہلوان، باڈی بلڈر اور مسٹر پاکستان انہی جیسے استادوں کے اکھاڑوں سے نکلے۔ معظم بٹ صاحب نے بچپن میں ایک واقعہ سنایا تھا جو آج بھی میرے ذہن میں محفوظ ہے۔ کہتے ہیں ایک لڑکی کو ایک لڑکے سے محبت ہوگئی۔ لڑکے نے اپنی ہر خامی بیان کی۔ پہلے کہا کہ وہ غریب ہے، لڑکی نے کہا پیسے میرے پاس ہیں۔ کہا جوا کھیلتا ہوں، جواب ملا یہ عادت چھوٹ جائے گی۔ کہا بازار میں عورتوں کے پاس جاتا ہوں، لڑکی نے کہا محبت تمہیں بدل دے گی۔ بزدلی کا ذکر کیا تو لڑکی نے کہا ہم نے کون سی جنگیں لڑنی ہیں۔ آخر میں لڑکے نے کہا کہ میں نگلہ ہوں، یعنی جھوٹ بولنے کی عادت ہے۔ یہ سنتے ہی لڑکی نے اسے لتر اتارتے ہوئے کہا: بھاگ! توں جھوٹا وی ایں تے نگلہ وی ایں، توں تے اک ٹکے دا وی نئیں!۔
عمر کے ساتھ سمجھ آیا کہ نگلہ صرف جھوٹے شخص کو نہیں کہتے۔ نگلہ وہ بھی ہے جو زبان کا پاس نہ رکھے، وعدہ کرے اور وعدہ بھول جائے، امید دلائے مگر عمل کے وقت نیا بہانہ تراش لے۔ ایسا شخص تعلقات کو ضرورت کے مطابق استعمال کرتا ہے اور ضرورت ختم ہوتے ہی تعلق بھی ختم کردیتا ہے۔ نگلے پن کی ایک بڑی علامت یہ ہے کہ زبان بہت شیریں ہوتی ہے، مگر عمل میں اس شیرینی کا ایک قطرہ بھی نہیں ہوتا۔ آپ فکر نہ کریں، آپ کا کام میرا کام ہے، بس دو دن دیں، میں خود دیکھتا ہوں جیسے جملے بار بار سننے کو ملتے ہیں، مگر دو دن دو ہفتوں، دو مہینوں اور کبھی برسوں میں بدل جاتے ہیں۔ ایک باوقار شخص کو ایک اہم کام کی تکمیل کا وعدہ کیا گیا۔ اس کے بعد مہینوں خط و کتابت ہوتی رہی۔ کبھی قانونی رائے لی گئی، کبھی کسی ماہر سے مشورہ ہوا اور کبھی نئی وضاحت مانگی گئی۔ وعدہ اپنی جگہ موجود رہا، مگر عمل نہ 
بن سکا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کے منصب سے زیادہ اس کا کردار سامنے آتا ہے۔ اختیار، عہدہ، بڑا دفتر، سیکریٹری اور دروازے پر منتظر افراد کسی انسان کو بڑا نہیں بناتے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا وہ اپنی زبان کا ذمہ دار بھی ہے؟۔
انتخابات کے دن یہ سوال مزید اہم ہوجاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں مختلف ایوان ہائے صنعت و تجارت اور تاجر تنظیموں کے انتخابات ہوئے۔ میرا ان انتخابی معاملات سے براہ راست کوئی تعلق نہیں تھا، نہ کسی کی جیت میری جیت تھی اور نہ کسی کی شکست میری شکست۔ تاہم بعض نتائج نے یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ تعلقات، دعووں اور بڑے بڑے رابطوں کے باوجود بعض امیدوار کیوں کامیاب نہ ہوسکے، جبکہ بعض ایسے گروہ بھی کامیاب ہوگئے جنہیں روایتی طور پر کمزور سمجھا جاتا تھا۔ تب استاد اسحاق بٹ صاحب کا وہ جملہ یاد آیا: توں جھوٹا وی ایں تے نگلہ وی ایں! شاید انتخابات میں صرف مخالف امیدوار نہیں لڑتا، آدمی اپنے گزشتہ کردار کے ساتھ بھی لڑ رہا ہوتا ہے۔ جو شخص برسوں لوگوں کو یقین دلاتا رہا ہو مگر عمل کے وقت پیچھے ہٹتا رہا ہو، جو وعدے کرتا رہا ہو مگر انہیں پورا نہ کرتا ہو، جو لوگوں کو انتظار کی عادت ڈالتا رہا ہو، وہ جب ووٹ مانگنے نکلتا ہے تو ضروری نہیں کہ لوگ اس کا ماضی بھول جائیں۔ لوگ خاموش ضرور ہوتے ہیں، بھولے نہیں ہوتے۔ ایک صاحب سے ایک دوست کی فون پر گفتگو ہوئی۔ شکریہ، مہربانی، ملاقات اور دوبارہ بیٹھنے کے وعدے ہوتے رہے۔ سامنے والے نے کہا کہ مجھے چائے نہیں چاہیے، آپ اپنا کام کریں، مگر وعدوں کا سلسلہ جاری رہا۔ اس واقعے میں چائے سے زیادہ اہم زبان اور حقیقت کے درمیان موجود فاصلہ تھا۔ یہ فاصلہ جتنا بڑھتا جائے، اعتبار اتنا ہی کم ہوتا جاتا ہے۔
نمائندگی دراصل منصب نہیں، امانت ہے۔ جو شخص تاجروں، صنعت کاروں، وکلا، مزدوروں یا کسی بھی طبقے کی نمائندگی کا دعویٰ کرے، اسے انتخابات سے پہلے اپنے اندر ضرور جھانکنا چاہیے۔ کیا میں اپنی زبان کا آدمی ہوں؟ کیا میرے وعدے میری ذات سے بڑے ہیں؟ کیا میں لوگوں کو صرف اس وقت یاد کرتا ہوں جب مجھے ان کے ووٹ کی ضرورت ہوتی ہے؟ کیا میرے تعلقات اصول پر قائم ہیں یا مفاد پر؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا میں نگلہ تو نہیں؟ دولت کردار نہیں بناتی، عہدہ کردار نہیں بناتا اور بڑے لوگوں سے تعلقات بھی کردار نہیں بناتے۔ مہنگی گاڑی، بڑا دفتر، بیرون ملک سفر، دولت اور بڑی کرسی انسان کے اندر موجود خامی کو ختم نہیں کرسکتے۔ کردار اندر سے بنتا ہے۔ جھوٹا آدمی دولت سے سچا نہیں ہوجاتا، وعدہ خلاف شخص عہدے سے وفادار نہیں ہوجاتا اور نگلہ آدمی تقریروں سے معتبر نہیں بن سکتا۔
انسان دوسروں کو دھوکا دیتے دیتے ایک وقت کے بعد خود کو بھی دھوکا دینے لگتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ لوگ اس کی باتوں سے متاثر ہیں، حالانکہ لوگ شاید صرف خاموش ہوتے ہیں۔ خاموشی ہمیشہ رضامندی نہیں ہوتی؛ کبھی برداشت، کبھی مصلحت، کبھی تعلق اور کبھی فیصلہ محفوظ رکھنے کا نام بھی خاموشی ہے۔ؤ لاہور میں خواجہ اظہر گلشن پاکستان سپریم کونسل تاجر اتحاد کے چیئرمین ہیں۔ ان کے بھائی ایک سانحے میں دنیا سے رخصت ہوئے۔ وقت گزرتا رہا اور آج ان کا بھانجا حمزہ جاوید بٹ بھی کامیاب ہونے والوں میں شامل ہے۔ یہاں اصل بات کسی ایک شخص کی کامیابی یا ناکامی نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کردار کا اپنا حافظہ ہوتا ہے۔ دولت ختم ہوجاتی ہے، منصب بدل جاتا ہے اور کرسی کسی دوسرے کے پاس چلی جاتی ہے، مگر انسان کا کردار لوگوں کے حافظے میں باقی رہتا ہے۔ اسی لیے نمائندگی کے میدان میں اترنے والوں کو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ میرے ساتھ کتنے لوگ ہیں، بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ میرے کردار کے ساتھ کتنے لوگ ہیں۔ ووٹ مانگنے کے لیے امیدوار دروازے پر جاتا ہے، مگر ووٹر جب پردے کے پیچھے پہنچتا ہے تو اس کے سامنے صرف امیدوار کا چہرہ نہیں ہوتا۔ اس کے سامنے اس کا پورا ماضی، وعدے، وفائیں، بے وفائیاں، زبان اور عمل ہوتا ہے۔
پھر ایک چھوٹی سی پرچی ہاتھ میں آتی ہے۔ بظاہر وہ کاغذ کا ایک ٹکڑا ہوتی ہے، مگر بعض اوقات برسوں کا حساب اپنے اندر لیے ہوتی ہے۔ لوگ فورا بدلہ نہیں لیتے، مگر موقع ملے تو اپنا فیصلہ ضرور سناتے ہیں۔ شرط صرف ایک ہے: پرچی گنی جائے۔

مزیدخبریں