ٹرمپ ۔شی ملاقات:دوستی یا مجبوری ؟

09:38 AM, 26 Sep, 2026

دنیا کی دوبڑی طاقتوں امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات میں اچانک آنے والی سفارتی گرمجوشی نے عالمی سیاست میں اِس اہم سوال کو جنم دیاہے کہ کیاواشنگٹن اور بیجنگ واقعی ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں یادونوں طاقتیں اپنی اپنی مجبوریوں کے تحت وقتی طورپر مفاہمت کررہی ہیں ؟ٹرمپ کاشی جن پنگ کوجوائنٹ بیس اینڈ ریوزپر خود لینے جانامعمولی سرگرمی نہیں کیونک حالیہ عشروں میں امریکی صدور عام طورپر ایسے استقبال سے گریز کررہے ہیں اسی بناپر صدرشی کی امریکہ آمدپر صدرٹرمپ کی طرف سے والہانہ استقبال غیر معمولی اورروایت شکن تاثر گہراکرنے کا سبب بناہے۔
چینی صدر شی جن پنگ کا حالیہ دورہ امریکہ اور صدر ٹرمپ کی جانب سے غیر معمولی پُرتپاک استقبال بلا شبہ علامتی اہمیت رکھتا ہے وائٹ ہائو س میں فوجی اعزاز ،مشترکہ تقریبات ،گرمجوش ملاقات اور اِس کے بعد تجارتی جنگ بندی میں توسیع نے یہ تاثر پیدا کیا ہے کہ دونوں ممالک اپنے تعلقات کو کسی نئے بحران سے بچانا چاہتے ہیں لیکن اِس مفاہمت کو چین و امریکہ دوستی کہنا شاید حقیقت سے زیادہ اُمید پر مبنی تعبیر ہوگی۔
 حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور چین اب بھی ایک دوسرے کے بڑے تجارتی اور تزویراتی حریف ہیں۔ تجارت،مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی،تائیوان،بحیرہ جنوبی چین،عالمی منڈیوں اور اہم معدنیات کے معاملے پر دونوں کے مفادات مختلف ہیں حالیہ سربراہی ملاقات میں بھی اِن بنیادی اختلافات کا کوئی حتمی حل سامنے نہیں آیا سب سے نمایاں نتیجہ یہ ہے کہ دونوںملکوں نے تجارتی جنگ بندی کو دس جنوری 2027تک بڑھانے پر اتفاق کر لیا ہے یہ توسیع دراصل دونوں کی باہمی ضرورت کی علامت ہے امریکہ ابھی چین کے ساتھ تجارتی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتاجب عالمی معیشت پہلے ہی جنگوں ،توانائی کے بحران اور سپلائی چین جیسے مسائل سے دوچار ہے دوسری طرف چین بھی امریکی منڈی ،ٹیکنالوجی اور عالمی مالیاتی نظام سے مکمل علیحدگی نہیں چاہتا مزید یہ کہ نایاب معدنیات اور خصوصاً نایاب ارضی عناصر کی عالمی رسد میں چین کااہم کردار ہے یہ معدنیات جدید ٹیکنالوجی،برقی گاڑیوں ،توانائی اور دفاعی صنعت کے لیے بہت اہم ہیں یہی انحصار واشنگٹن اور بیجنگ دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ کسی نہ کسی درجے کا رابطہ رکھنے پر مجبورکرتاہے اِس پس منظرمیں ٹرمپ کی سفارتی گرمجوشی کو دوستی سے زیادہ انتظام شدہ مسابقت کہا جا سکتا ہے دونوں طاقتیں ایک دوسرے کو شکست دینے کی کوشش سے دستبردار تونہیں ہوئیں لیکن شایدیہ سمجھ چکی ہیں کہ مکمل محاذ آرائی دونوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے اسی لیے اختلافات اپنی جگہ رکھتے ہوئے تصادم کو روکنے کے لیے رابطے کے راستے کُھلے رکھنا ضروری سمجھا گیا۔
یہ پہلو خاص طورپر اہم ہے کہ دنیا پہلے ہی کئی محازوں پر بحران کا شکارہے روس ویوکرین جنگ نے یورپی سلامتی کا پورا ڈھانچہ متاثر کیا ہے جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے امریکہ کی توجہ اور وسائل پر مزیددبائو بڑھایا ہے ایسے ماحول میں واشنگٹن اور بیجنگ براہ راست ایک دوسرے کے خلاف نیا محاز کھولتے ہیں توعالمی عدمِ استحکام کئی گُنا بڑھ سکتا ہے اسی لیے ٹرمپ۔شی مفاہمت کو ایک ممکنہ نئی سرد جنگ سے بچنے کی کوشش کے طورپر دیکھاجا سکتا ہے یہ سردجنگ روایتی امریکہ سوویت کشکمش سے مختلف ہوگی اِس کا مرکز فوجی اتحادوں ،ٹیکنالوجی ،چپ سازی،معدنیات،،مالیاتی نظام اور عالمی سپلائی چین ہوں گے خطرہ یہ ہے کہ اگر یہ مقابلہ بے قابو ہو گیا تو دنیا دوالگ الگ معاشی اور تکنیکی بلاکس میں تقسیم ہو سکتی ہے۔
جنوبی ایشیا میں اِس صورتحال کا ایک اہم پہلو بھارت ہے واشنگٹن نے گزشتہ برسوں بھارت کے ساتھ دفاع،ٹیکنالوجی اور جوہری توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھایا ہے امریکہ اور بھارت نے 123سول نیو کلیئرمعاہدے کو آگے بڑھانے اور امریکی ساختہ جوہری ری ایکٹروں میں تعاون کااعادہ بھی کیا ہے بھارت،امریکہ ،جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ کواڈ کا حصہ ہے اور واشنگٹن اِسے ہند۔ بحرالکاہل میں ایک اہم شراکت دار سمجھتا ہے لیکن یہاں ایک اہم نُکتہ ہے بھارت کاامریکہ کا اہم شراکت دار ہونا چین کے ساتھ امریکی تعلقات کی ضرورت کوختم نہیں کرتا بلکہ اِس کے برعکس واشنگٹن شاید بھارت کو چین کے مقابل ایک علاقائی شراکت دار اور چین کو ایک عالمی طاقت کے طورپر دیکھتاہے چنانچہ امریکہ بیک وقت بھارت کے ساتھ تزویراتی تعاون اور چین کے ساتھ کشیدگی کو کرنے کی کوشش میں ہے یہ تضاد نہیں بلکہ امریکی خارجہ پالیسی کی کثیرالجہتی نوعیت کی علامت ہے ۔
یورپ اِس پورے منظرنامے میں شاید سب سے زیادہ محتاط فریق ہو گا یورپی ممالک امریکہ کے روایتی اتحادی ہیں لیکن چین اُن کے لیے ایک بہت بڑی تجارتی حقیقت ہے امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی کشیدگی میں کمی یورپی صنعت اور عالمی تجارت کے لیے کچھ استحکام پیدا کر سکتی ہے لیکن اگر واشنگٹن اور بیجنگ کسی ایسے بڑے سمجھوتے پرپہنچتے ہیں جس سے یورپی مفادات نظر انداز ہوں تو یورپ خود کو عالمی طاقتوں کے درمیان ایک ایسے کھیل میں پھنسا ہوامحسوس کر سکتا ہے جس کے فیصلے واشنگٹن اور بیجنگ کررہے ہوں ۔یورپ پہلے ہی چین کے ساتھ تجارتی عدم توازن،اہم معدنیات اور صنعتی مسابقت کے مسائل پر مذاکرات کر رہا ہے۔
روس اور یورکرین جنگ اور مشرقِ وسطیٰ کے بحران نے اِس صورتحال کو مزید پچیدہ کردیا ہے امریکہ اگر ایک طرف روس،ایران اور دوسرے عالمی بحرانوں سے نمٹ رہا ہے تو دوسری طرف چین کے ساتھ کُھلی محازآرائی اُس کے لیے ایک الگ بوجھ ہوگی۔چین بھی ایسے وقت میں امریکہ کے ساتھ مستقل کشیدگی نہیں چاہتا جب اُسے اپنی معیشت ،عالمی تجارت اور ایشیا میں اپنے مفادات کو آگے بڑھانا ہے لہذا واشنگٹن میںٹرمپ اور شی جن پنگ کی گرمجوشی کو نہ تو نئی چین و امریکہ دوستی کا آغازسمجھنا چاہیے اور نہ ہی محض نمائشی سفارتکاری کہہ کرنظر اندازکردینا حقیقت ہوگا زیادہ مناسب تعبیر یہ ہے کہ دنیا کی دوبڑی طاقتیں اپنے اختلافات ختم کیے بغیر اُنھیں قابومیں رکھنے کی کوشش میں ہیں یہ مفاہمت اگر برقرار رہتی ہے تو اِس کا سب سے بڑا فائدہ شاید کسی ایک ملک نہیں بلکہ عالمی معیشت کو ہوگالیکن اگر تجارت کے بعد تائیوان ،ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور بحرالکاہل کے معاملات دوبارہ تصادم کا موجب بنے تو موجودہ گرمجوشی بھی عارضی ثابت ہو سکتی ہے۔

مزیدخبریں