پاکستان مئی 2025 سے حالت جنگ میں ہے بھارت نے 22 اپریل 2025 کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام پر ہونے والے ایک دہشت گردانہ حملے کو جواز بنا کر 7 مئی 2025 کو آپریشن سندور کے نام سے پاکستان پر حملہ کر دیا۔ پہلگام حملے میں 26 شہری ہلاک ہوئے۔
بھارت نے اسے پاکستان کی سرحد پار دہشت گردی کو فروغ دینے کی پالیسی کا نتیجہ قرار دیا اور پھر آزاد جموں کشمیر میں لشکر طیبہ اور جیش محمد کی پناہ گاہوں کو تباہ کرنے کے نام پر میزائل حملہ کر دیا۔ پاکستان نے جوابی کارروائی کے ذریعے بھارت کو شرمناک شکست سے دوچار کیا۔
10مئی 2026 کو پاکستان کی جوابی کارروائی کے بعد امریکی مداخلت پر جنگ رک گئی۔ بھارت نے آپریشن سندور کو بند نہ کرنے کا اعلان کر کے جنگی تیاریاں جاری رکھی ہوئی ہیں اربوں ڈالر کا اسلحہ بھی خریدا جا رہا ہے، بلوچستان اور کے پی کے میں پاکستان دشمن سرگرمیوں کی امداد بھی کر رہا ہے پاکستان بھارت کے ساتھ عملاً حالت جنگ میں ہے۔ بلوچستان دہشت گردوں کے حصار میں ہے خیبر پختونخواہ افغانستان میں چھپے دہشت گردوں کی زد میں ہے۔ افغان طالبان پاکستان پر ڈرون اور میزائل حملے بھی کر رہا ہے عالمی دہشت گرد گروپوں کو پناہ بھی فراہم کرتا ہے اور وہ بڑھ چڑھ کر پاکستان پر حملے بھی کر رہے ہیں۔ پاکستان افغانستان کے ساتھ بھی حالت جنگ میں ہے ہماری مسلح افواج شاندار طریقے سے پاکستان دشمنوں کو مزہ چکھا رہی ہیں سکیورٹی ایجنسیز کی کارکرکردگی بھی قابل تحسین ہے۔
اندرون ملک صورتحال درست نہیں ہے شہاز شریف اتحادی حکومت نے ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے تو بچا لیا ہے لیکن عوام ڈیفالٹ میں گھر گئے ہیں۔ بیرونی و اندرونی سرمایہ کاری نہ ہونے کے باعث معاشی پھیلاؤ کا عمل مطلوبہ نتائج ظاہر نہیں کر پا رہا ہے۔ روزگار کے مواقع پیدا نہ ہونے کے باعث بے روزگاری بڑھ رہی ہے توانائی کے بحران نے معاملات میں شدید بگاڑ پیدا کر دیا ہے گردشی قرضہ ناقابل برداشت ہو چکا ہے، بجلی مہیا کرنے والے نجی پاور پروڈیوسر کو بجلی پیدا کئے بغیر جو چارجز ادا کئے جا رہے ہیں اس نے بجلی کی قیمت کو آسمانوں تک پہنچا دیا ہے۔
اس سے پیداواری مصارف بڑھتے چلے جارہے ہیں مہنگائی بڑھتی چلی جارہی ہے قدر زر میں کمی نے معاملات کو بگاڑ کی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے فروری 2026 سے ایران، امریکہ اسرائیل جنگ نے تیل کی عالمی منڈی میں غیر یقینی کی صور تحال پیدا کر دی ہے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے رہی سہی کسر بھی نکال دی ہے، عوام میں بے اطمینانی عام ہو چکی ہے۔
سیاست میں بھی یکسوئی نہیں ہے پی ٹی آئی کی بات اپنی جگہ، مولانا فضل الرحمان کی جاری سیٹ اپ کے خلاف گوہر افشانیاں بھی سمجھ آتی ہیں۔ لیکن حکمران اتحادیوں کے درمیان بھی معاملات تسلی بخش نہیں ہیں سب سے اہم حکومت کا سیاسی درجہ حرارت کو نارمل سطح پر لانے میں عدم دلچسپی لمحہ فکریہ ہے حکمران کسی قسم کی تنقید پر کان دھرتے نظر نہیں آ رہے ہیں۔ وہ قانون سازیوں کے ذریعے اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبانا بلکہ کچلنا چاہتے ہیں۔
شاید ہی کوئی طبقہ ہو گا جو حکومت کی پالیسیوں سے اتفاق کرتا ہو ہر طرف عدم اطمینان پایا جاتا ہے پنشنر ہوں تو پریشان اساتذہ حیران، شعبہ تعلیم ابتری کا شکار، کسان بے حال، ایک طرف وسائل کی قلت کا رونا رویا جاتا ہے قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لئے قرض لیا جاتا ہے تو دوسری طرف حکمرانوں کی شاہ خرچیاں اور اس پر منہ زوری انتہائی پریشان کن ہے حکمرانوں کے لئے نئے جہازوں کی خریداری پر اربوں روپے خرچ کرنا، خصوصی پروازوں کے ذریعے غیرملکی دوروں پر کروڑوں کے اخراجات، پریشان حال عوام کے ساتھ مذاق نہیں تو اور کیا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ پی ٹی آئی ختم ہوگئی ہے۔ لیکن 27 ستمبر کے لانگ مارچ کو نمٹنے کے لئے حکومت جو کچھ کر رہی ہے وہ تو ایسے لگتا ہے کہ کوئی غیر ملکی حملہ آور فوج اسلام آباد پر قبضہ کرنے آ رہی ہے اگر پی ٹی آئی ختم ہو گئی ہے تو پھر پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے نمٹنے کے لئے اس قدر بھاری بھرکم انتظامات کا کیا مطلب ہے۔
پی ٹی آئی فکری و عملی طور پر دہشت گرد اور انتشار پسندوں کا گروہ ہے جنہوں نے پاکستانی معاشرے کو پراگندہ کر دیا ہے 2022 میں پی ٹی آئی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے یہ جماعت ملک دشمنی پر اتر آئی ہے 9 مئی اسکا واضح ثبوت ہے کہ انہوں نے جس طرح ریاست کو تباہ وبرباد کرنے کی کوشش کی وہ ملک دشمنی نہیں تو اور کیا ہے دوسری طرف ریاست ان سے نمٹنے کے لئے یکسو نظر نہیں آ رہی ہے پی ٹی آئی کے لانگ مارچوں کے تجربات کی روشنی میں ہر بار انہیں روکنے کی کامیاب کاوشیں کی جاتی ہیں لیکن ایسا کرنے میں عام شہریوں اور کاروبار زندگی پر جو منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں لیکن وہ نا قابل تلافی ہیں۔
لانگ مارچ سے نمٹنے کے لئے حکومت جو کچھ کر رہی ہے وہ انتظامی معاملات سے بہت کچھ اوپر کی صور تحال لگتی ہے۔ اسلام آباد کو کنٹینروں سے بھرنا، پولیس کو اکٹھا کرنا ، فوج اور رینجرز کو طلب کرنا، انٹرنیٹ بند کرنا، موٹر وے اور جی ٹی روڈ بند کرنا یہ سب کچھ جنگی صورتحال جیسا نہیں تو اور کیا ہے عوام پہلے ہی نفسیاتی دباؤ میں گھرے ہوئے ہیں اس طرح کی کارروائیوں سے عوامی بے چینی بڑھے گی نہیں تو اور کیا ہو گا۔ یہ روز روز کی چخ چخ سے کیا بہتر نہیں کہ ریاست تحریک انصاف کے حوالے سے کوئی بنیادی فیصلہ کرے کہ پی ٹی آئی کیا ہے۔
کیا یہ ایک سماج دشمن اور ملک دشمن پارٹی ہے تو پھر اس پر پابندی عائد کر دینی چاہئے اگر نہیں تو پھر اسے ایک سیاسی جماعت کے طور پر ڈیل کیا جانا چاہئے۔ اسے آئین میں درج حقوق ملنے چاہئیں۔ یہ در میانی اپروچ کسی طور بھی درست نہیں ہے اس سے معاملات بگاڑ کی طرف جارہے ہیں اور عوامی مشکلات میں بھی اضافہ ھوتا ہے۔
لانگ مارچ، حکومتی تیاریاں اور عوام
09:40 AM, 26 Sep, 2026