میرے کچھ سرکاری دوستوں نے مجھے اس احساس میں مبتلا کر رکھا ہے میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کے حق میں اگر نہیں لکھوں گا یہ گناہ کبیرہ ہوگا جس کی آخرت میں مجھے کڑی سزا ملے گی، آخرت کی سزا کی مجھے زیادہ پرواہ اس لیے نہیں ہے میرا ایمان ہے ہماری بے شمار خطائیں اور گناہ اللہ معاف فرما دے گا ، سوائے ان گناہوں کے جن کے کسی صورت میں معاف نہ کئے جانے کا قرآن پاک میں ذکرہے ، وہ زمین و آسمان کا بادشاہ ہے چاہے تو وہ گناہ بھی معاف فرما دے جو معاف نہیں کئے جا سکتے ، وہ کوئی ہمارا”زمینی خدا“ تھوڑی ہے جو لوگوں کی چھوٹی چھوٹی خطائیں معاف نہ کرنے کا عزم کر کے بیٹھ جائے اور اپنے بڑے بڑے گناہوں کا بھی خیال نہ رکھے ، خصوصاً ان مظالم کا خیال نہ رکھے جو اندھی طاقت کے بل بوتے پر وہ اپنے لوگوں پر مسلسل ڈھائے جاتا ہے ، اور یہ تاثر دیتاہے موت کبھی اسے اپنے منہ میں نہیں لے سکتی“ ، جو اس یقین میں مبتلا ہے”مرنے کے بعد بھی ایک ایسا نظام قائم کرنے میں وہ کامیاب ہو جائے گا جس میں کوئی اسے پوچھنے والا نہیں ہوگا ، قبر میں جو فرشتے ا±س سے حساب لینے آئیں گے ا±ن سب پر بھی اپنی دھاک بٹھانے میں وہ کامیاب ہو جائے گا، کیڑے مکوڑوں، سانپ بچھوو¿ں اور دیگر زہریلے حشرات پر بھی وہ ا±سی طرح قابو پانے میں کامیاب ہو جائے گا جیسے دنیا میں اس نے پایا ہوا ہے ، سو آخرت میں تو پتہ نہیں مجھ سے پاک سعودی دفاعی معاہدے کے حق میں نہ لکھنے کا کوئی حساب لیا جائے گا یا نہیں ؟ مگر پاکستان میں میرا حساب شروع ہوگیا ہے ،کچھ سرکاری دوستوں کی طرف سے بار بار مجھے یہ احساس دلایا جا رہا ہے ”تم نے اگر پاک سعودی دفاعی معاہدے کے حق میں نہ لکھا اس کا صاف صاف مطلب یہ ہے تم”ملک دشمن“ ہو ، تمہیں پاکستان کی عزت عزیز نہیں“ ، ایک سرکاری سیاستدان نے تو یہاں تک فرما دیا”اس معاہدے سے چونکہ خانہ کعبہ کی حفاظت پاکستان کے ذمے آگئی ہے لہٰذا اس کے حق میں نہ لکھنے کا سیدھا سیدھا مطلب یہ ہے تم”اسلام دشمن“ ہو، میں ہر طعنہ برداشت کر سکتا ہوں مگر اسلام دشمنی یا ملک دشمنی کا طعنہ برداشت نہیں کر سکتا ، اس لئے میں آج کھلے دل سے یہ اعتراف کرنا چاہتا ہوں کہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان جو دفاعی معاہدہ ہوا ہے یہ پاکستان کے لیے واقعی بڑے اعزاز کی بات ہے، خانہ کعبہ کی حفاظت کی ذمہ داری اب پاکستان کو بھی مل گئی ہے ، اس کا مطلب ہے خانہ کعبہ کی حفاظت کے لیے جو دیگر قوتیں مقرر یا مامور ہیں ان کی ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے، پاکستانی قوم کے لیے یہ یقینا فخر کی بات ہے، البتہ پاکستان میں ”قوم“ ہے کہاں ؟ یہ سوچنے کی بات ہے ، یہ بھی بڑے اعزاز کی بات ہے سعودی عرب نے پاکستان پر اندھا اعتماد کیا جس کے نتیجے میں پاک سعودی دفاعی معاہدہ ہوا ، ظاہر ہے اس اعتماد کے پیچھے افواج پاکستان کا کردار بڑا اہم ہے ، اپنے کمینے دشمن بھارت کو وہ ناکوں چنے نہ چبواتی عرب ممالک میں پاکستان کی اتنی اہمیت اور عزت شاید نہ ہوتی کہ سعودی عرب جیسا امیر ملک ہمارے ساتھ دفاعی معاہدہ کرنے پر مجبور ہو جاتا ، اس دفاعی معاہدے کا پاکستان یا پاکستان کے بے بس ، لاچار اور مجبور عوام کو کتنا فائدہ ہوگا ؟ یا معاشی لحاظ سے پاکستان کتنی ترقی کرے گا ؟ یا پاکستان پر اس کے کیا مثبت اثرات ہوں گے ؟ یہ سب سوالات فی الحال غیر ضروری سمجھے جا رہے ہیں ، فی الحال ہمیں صرف جشن منانا ہے اور اپنے سیاسی اور اصلی حکمرانوں کو خراج تحسین پیش کرنا ہے وہ یہ دفاعی معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں ، اللہ کرے سعودی عرب نے ہماری افواج اور ہمارے سیاسی حکمرانوں پر جو اعتماد کیا ہے اس کا دائرہ ہمارے عوام تک بھی وسیع ہو جائے اور سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کو ایسی عزت ملنی شروع ہو جائے جو اس سے پہلے کبھی نہیں ملی تھی ، علاوہ عظیم پاکستانیوں کو حج عمرے میں خصوصی رعایتیں ملنی شروع ہو جائیں ، سعودی عرب کے تمام ایئرپورٹوں پر قائم شدہ ایمیگریشن کاونٹروں پر پاکستانیوں کو اسی طرح عزت کی نگاہ سے دیکھا جانے لگے جیسے امریکیوں کو دیکھا جاتا ہے، علاوہ ازیں اس دفاعی معاہدے کے نتیجے میں سعودی عرب یہ فیصلہ کر لے پاکستان کے تمام بیرونی قرضے اتار کر پاکستان کو ترقی کی ایک ایسی راہ پر ڈال دے گا جس راہ پر وہ خود ڈلا ہوا ہے ، ویسے میں سوچ رہا ہوں سعودی عرب یا ہمارا کوئی اور دوست ملک ہمارے سارے بیرونی قرضے اتار بھی دے ہماری نااہل اور بددیانت سیاسی و اصلی قیادت پھر ایسے حالات پیدا کر دے گی بیرونی قرضوں کے ایک بار پھر ہم محتاج ہو جائیں گے ، بھیک مانگنے یعنی قرضے لینے کی لت جوئے کی لت کی طرح ہوتی ہے جو ہمیشہ پڑی رہتی ہے ، پاکستان پر چڑھے ہوئے بھاری بیرونی قرضوں کا ایک المیہ یہ ہے یہ ہمارے حکمران اپنی گھٹیا ضرورتیں پوری کرنے کے لئے لیتے ہیں اور ان کی ادائیگی ہمارے کمزور اور بے بس عوام کو اپنی بنیادی ضرورتوں کی قربانی دے کر کرنا پڑتی ہے ، ہمارے ایک حکمران اعظم نے ایک بار قرض اتارو ملک سنوارو کی مہم شروع کی تھی ، جس میں لاکھوں پاکستانیوں نے حصہ ڈالا، اس مہم کے نتیجے میں قرض مزید چڑھ گیا اور ملک سنورنے کے بجائے مزید بگڑ گیا ، البتہ حکمران پہلے سے زیادہ مالدارہوگئے ،عزت دارہونا کبھی ا±ن کی ترجیح ہی نہیں رہی ، نہ دنیا میں اپنے عوام کو عزت دلانا کبھی ا±ن کی ترجیح رہی ہے، تاریخ میں کئی مواقع ایسے آئے جب یہ ظاہر ہوا مختلف اہم ممالک نے پاکستان کو صرف اپنے مفاد میں اور اپنی ضرورتوں کے مطابق استعمال کیا ہے، کاش ہماری زندگی میں کوئی سنہرا موقع یا وقت ایسا بھی آئے جب یہ ظاہر ہو پاکستان نے بھی کسی بڑے ملک کو اپنے مفاد میں استعمال کر لیا ہے ، پاکستان کے بے شمار حکمرانوں نے صرف اپنے ذاتی مفادات پورے کیے ،کچھ نے تو پاکستان کے مفاد کو پس پشت ڈال کر کیے، اللہ کرے اب جو دفاعی معاہدہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ہوا ہے وہ کسی مختلف مقصد کے لیے ہوا ہو، ہماری دعا ہے پاکستان دنیا میں ایسی طاقت بن کر ابھرے جو تمام مسلم ممالک کی قیادت کرے ، پاکستان کے سیاسی و اصلی حکمرانوں کو اللہ یہ توفیق دے اب ذاتی مفادات کے بجائے قومی مفادات کو وہ اہمیت دیں اور قومی مفادات کو اہمیت دینے کا سب سے اہم طریقہ یا نقطہ یہ ہے پاکستان میں آئین اور قانون کی بالادستی قائم ہو، صرف یہی ایک صورت ہے جس کے نتیجے میں ہم پر مسلط حکمران طاقتور ملکوں کو اپنے تابع کر سکتے ہیں ، ورنہ ہر طاقتور ملک انہیں اپنے تھلے لگاتا رہے گا، اور انہیں صرف اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتا رہے گا، اور ہمارے حکمران اپنے لوگوں کو یہ جھوٹی خوشخبریاں سناتے رہیں گے کہ”پاکستان کے لئے انہوں نے بہت کچھ حاصل کر لیا ہے“، ویسے پاکستان کو کسی اور سے کیا انہوں نے لے کے دینا ہے جب آج تک وہ خود پاکستان کو کچھ نہیں دے سکے۔
پاک سعودی دفاعی معاہدہ
09:15 AM, 27 Sep, 2025