پنجاب میں میڈیکل کالجز کی داخلہ پالیسی منظور، اوورسیز طلبہ کے لیے فیس مقرر

11:40 AM, 26 Sep, 2025

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت ہونے والے اہم اجلاس میں سرکاری اور نجی میڈیکل و ڈینٹل کالجز میں داخلے کی نئی پالیسی کی منظوری دے دی گئی۔ اس پالیسی کا مقصد میڈیکل ایجوکیشن کے نظام کو شفاف اور مؤثر بنانا ہے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سرکاری میڈیکل کالجز میں داخلے کے لیے MDCAT کا پاس ہونا لازمی ہوگا، جبکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے بچوں کے لیے داخلہ فیس 10 ہزار امریکی ڈالر مقرر کر دی گئی ہے۔

نجی میڈیکل کالجز میں داخلے کے عمل کو بھی منظم بنانے کے لیے نئی پالیسی کے مطابق امیدواروں کو ابتدائی طور پر ایک تہائی فیس یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (UHS) میں جمع کرانا ہوگی۔ حتمی میرٹ لسٹ جاری ہونے کے بعد باقی فیس متعلقہ کالج میں جمع کروائی جائے گی، اور یو ایچ ایس ابتدائی فیس کالج کو منتقل کرے گا۔

اجلاس میں ہیلتھ سیکٹر سے متعلق اہم فیصلے بھی کیے گئے۔ پرائیویٹ اسپتالوں میں پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ مکمل کرنے والے ڈاکٹروں کے لیے لازمی سروس کی تجویز پر اتفاق کیا گیا ہے تاکہ ماہر ڈاکٹروں کی کمی دور کی جا سکے۔

وزیراعلیٰ نے ساہیوال میں پہلی کامیاب انجیو پلاسٹی پر خوشی کا اظہار کیا اور کارڈیک سرجری کے آغاز کو خوش آئند قرار دیا۔ ساتھ ہی میو اسپتال کے ابلیشن سینٹر میں مریضوں کے علاج کے لیے شفاف نظام بنانے کی ہدایت کی۔

مریم نواز نے کینسر کے مریضوں کو ہر ممکن ریلیف دینے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ پنجاب کے ہر اسپتال میں غریب مریض کو بغیر ایک روپیہ خرچ کیے علاج کی سہولت میسر ہو۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نئے میڈیکل کالجز کے لیے الگ عمارت بنانے کے بجائے سرکاری یونیورسٹیوں میں ہی میڈیکل بلاکس قائم کیے جائیں گے تاکہ اخراجات بچائے جا سکیں اور کام جلد مکمل ہو۔ اس کے علاوہ "نواز شریف میڈیکل سٹی" کے جلد قیام کے لیے بھی فوری اقدامات کی ہدایت جاری کر دی گئی۔

مزیدخبریں