پنجاب میں سیلاب نے 200 سے زائد سڑکیں تباہ کر دیں، موٹر وے ایم فائیو 15ویں روز بند

12:32 PM, 26 Sep, 2025

لاہور : پنجاب میں حالیہ بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچا دی ہے۔ صوبے کے مختلف علاقوں میں 200 سے زائد قومی اور ضلعی سڑکیں متاثر ہو چکی ہیں، جس کی وجہ سے آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے۔ پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا کے مطابق موٹر وے ایم فائیو کے 13 مقامات پر نقصان پہنچا ہے اور مزید چند جگہوں پر خطرہ موجود ہے، اسی لیے یہ موٹر وے مسلسل بند ہے۔

موٹر وے پولیس کے ترجمان عمران شاہ نے بتایا کہ ملتان سے سکھر کے راستے کے لیے متبادل روٹس استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ مسافر شاہ شمس انٹرچینج سے قومی شاہراہ پر جا کر اوچ شریف انٹرچینج کے ذریعے دوبارہ موٹر وے پر شامل ہو سکتے ہیں۔

پنجاب میں سیالکوٹ، گجرات، حافظ آباد اور نارووال میں ریکارڈ بارشوں کی وجہ سے شہری علاقے بھی زیر آب آ گئے۔ دریائے ستلج، بیاس اور راوی کے سیلاب نے 27 اضلاع کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں امدادی کام مکمل ہونے کے بعد بحالی کے لیے سروے شروع کر دیا گیا ہے، مگر سڑکوں اور پلوں کی مرمت ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔

عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ جلالپور پیروالہ سے جھانگڑال تک 22 کلومیٹر کا راستہ خاص طور پر شدید متاثر ہوا ہے، جہاں موٹر وے کے نیچے موجود 73 گزرگاہوں میں سے 15 مکمل تباہ ہو گئی ہیں۔ پانی کی نکاسی کے بغیر ان کی مرمت ممکن نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دریائے ستلج کا پانی دریائے چناب میں شامل ہونے میں تقریباً ایک ہفتہ لگے گا، اس کے بعد مکمل بحالی کا کام شروع ہو سکے گا۔ کئی اہم سڑکیں اور پل بھی متاثر ہوئے ہیں، جن میں گڑھ مہاراجہ شورکوٹ روڈ اور علی پور کے پل شامل ہیں۔ ان جگہوں پر عارضی لوہے کے پل لگا کر امدادی کام جاری ہے۔

پنجاب کے جنوبی اضلاع خاص طور پر جھنگ میں سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے، جب کہ سیالکوٹ اور گجرات میں بارشوں کی وجہ سے ہونے والی فلڈنگ کے بعد سڑکوں کی بحالی کا عمل کافی حد تک مکمل ہو چکا ہے۔

دریائے ستلج اور چناب کے کنارے جنوبی پنجاب کے سینکڑوں کلومیٹر علاقے اب بھی پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ وہاں امدادی سامان عارضی راستوں سے پہنچایا جا رہا ہے، مگر پانی کا خاتمہ اور معمول کی زندگی میں واپسی ابھی چند دنوں کا کام ہے۔

مزیدخبریں