قائدِ اعظم محمد علی جناح کے پرسنل اسسٹنٹ فخر عالم زبیری اپنی یاد داشتوں پر مشتمل کتاب " گورنر جنرل ہاؤس سے آرمی ہاؤس تک" میں لکھتے ہیں کہ جب قائدِ اعظم کی وفات کے بعد خواجہ ناظم الدین پاکستان کے گورنر جنرل مقرر ہوئے تو انہوں نے مجھے بلایا اور کہا کہ میں نے اپنے کزن کو ڈھاکہ میں خط لکھوانا ہے لیکن یہ خط میرے اور آپ کے درمیان راز رہے گا۔ خواجہ نے خط لکھوایا کہ میرے مالی حالات خاصے خراب ہیں ۔ تنخواہ کی مد میں جو کچھ ملتا ہے وہ سب خرچ ہو جاتا ہے بلکہ میرے پاس جو تھوڑا بہت اثاثہ تھا وہ بھی خرچ ہو گیا ہے۔ میرا بینک بیلنس صفر ہے، آپ فوراً دس ہزار روپے کا ڈرافٹ مجھے بھیج دیجئے۔۔ فخر عالم زبیری خط لکھ کر خواجہ صاحب کو سنا چکے تو انہوں نے اپنی جیب سے پانچ روپے نکال کر فخر عالم زبیری کو دئے اور کہا کہ یہ میرا ذاتی خط ہے اس کی رجسٹری کرا دیجئے۔سرکاری خرچ پر نہ بھیجیں اور کسی سے بھی اس کا ذکر نہ کریں۔ اس کی آفس کاپی مجھے دے دیں۔
فخر عالم نے اپنی کتاب میں قائدِ اعظم سے جنرل ضیاء الحق تک تمام سربراہانِ مملکت کا ذکر کیا ہے جن کے دورِ حکمرانی میں وہ ایوانِ صدر میں کام کرتے رہے تھے۔ انہوں نے اسٹینو گرافر کی حیثیت سے دہلی میں سرکاری ملازمت شروع کی، پاکستان آئے اور 38 سال بعد ضیاء الحق کے دور میں ڈپٹی سیکریٹری کے طور پر ریٹائر ہوئے۔ ان کی کتاب میں ان کے ذاتی مشاہدات کا ذکر ہے۔قائدِ اعظم سے اپنی پہلی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے فخر عالم لکھتے ہیں، ایک مرتبہ کے ایچ خورشید قائدِ اعظم کے پرسنل سیکریٹری چھٹی پر تھے ان کی غیر موجودگی میں قائدِ اعظم کو کوئی ضروری نوٹ لکھوانا تھا جو وہ خود ڈکٹیٹ کرانا چاہتے تھے۔ چانچہ مجھے ان کے پاس بھیجا گیا ، قائدِ اعظم کا کچھ ایسا رعب تھا کہ سب ان کے پاس جاتے ہوئے گبھراتے تھے مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اس وقت میں ان کے سامنے یقیناً خوفزداہ بیٹھا تھا۔ انہوں نے مجھے اپنے پاس بٹھا لیا اور صرف ایک صفحے کا کا نوٹ لکھوایا جو میں نے جلدی جلدی ٹائپ کر کے قائدِ اعظم کے پاس بھجوا دیا۔ سچ یہ ہے کہ جب تک وہ دستخط ہو کر واپس نہیں آیا میرا دل دھڑکتا رہا۔
خواجہ ناظم الدین کے بعد غلام محمد گورنر جنرل بن کر ایوانِ مملکت میں آئے اور پھر یہیں سے حصولِ اقتدار کے لئے پاکستان میں محلاتی سازشیوں کی ابتداء ہوئی۔ فخرِ عالم لکھتے ہیں کہ غلام محمد کے گرد فوراً ہی خوشامدی لوگوں کا ٹولہ جمع ہو گیا۔ ویسے ان کا دبدبہ بہت تھاکیونکہ وہ ڈانٹ ڈپٹ کرتے رہتے تھے۔ اسکندر مرزا کے بارے میں فخر عالم لکھتے ہیں کہ اسکندر مرزا کا خط بہت برا تھا اور پھر وہ ہر چیز خود لکھتے تھے۔ اس کی وجہ سے عملے کو کافی دقت پیش آتی تھی۔ ان کے اوپر ان کی بیوی ناہید مرزا کا بہت اثر تھا۔ وہ حکومت کے کاموں میں بھی دخل دیتی تھیں۔ اکتوبر 1958ء میں اسکندر مرزا نے آئین منسوخ کیا اور مارشل لاء لگایا۔ اس کے نتیجے میں وہ خود بھی فارغ ہو گئے۔ 25 مارچ 1969ء جب ایوب خان نے حکومت چھوڑی تو اس وقت اگر چہ ملک میں آئینی حکومت تھی جو 1962ء کے آئین کے تحت کام کر رہی تھی۔ عنانِ حکومت جنرل یحییٰ خان نے سنبھال لی۔پھر اقتدار کے حصول کے لئے ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جو کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے۔ سیاسی استحکام کے نام پر پھر اس ملک میں بہت کچھ ہوا۔
پاکستان میں سیاسی استحکام کا نعرہ آج تک جاری و ساری ہے۔ جب سے اس نعرے یا اس بیانیے کا آغاز ہوا تب سے ہی یہ اعلانات بھی ہونا شروع ہو گئے کہ ملک کو خطرات لاحق ہیں اور ملک عدم استحکام کا شکار ہے۔ ملک کی 78 سالہ تاریخ میں کبھی بھی اور کسی نے بھی جمہوریت اور سیاست کی ضروت سے انکار نہیں کیا پاکستان کے پہلے فوجی حکمران فیلڈ مارشل ایوب خان نے بھی صدر اسکندر مرزا کو فارغ کیا تو انہوں نے ملک میں سیاسی عدم استحکام کا ہی ذکر کیا تھا اور سیاست دانوں کی رقابت اور مخاصمت اور ملک کی بدحالی کو اپنے مارشل لاء کا جواز بنایا تھا۔ وہ بھی سیاست سانوں کی مبینہ بدعنوانیوں کا ذکرِ کثیر لے بیٹھے تھے اور انہیں بدعنوانیوں کی سزا دینے اور پاک دامن سیاست دانوں کی تلاش کا فریضہ انجام دینا بھی خوب یاد آیا تھا۔ جب ذوالفقار علی بھٹو نے ملک میں سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے اپنی حکمرانی کا آغاز کیا تو اشک بار قوم نے مستحکم پاکستان کی آوازوں کو سنا۔ ہم تنکے تنکے جوڑیں گے اور نئے پاکستان کی تعمیر کرے گے۔
تمام اقتداری قوتوں نے سیاسی استحکام کی بات کی، مفاہمت کی ضرورت کا احساس کیا اور اس کا پہلا مظاہرہ ملک میں 1973ء کے متفقہ آئین کی تیاری اور منظوری کی صورت سامنے آیا۔ عوامی سیاست کرنے والوں کی یہ سب سے بڑی فتح تھی۔ عوام میں کسی حد تک اقتدار میں شرکت اور اہمیت کا شعور اجاگر ہوا، انہیں محسوس ہوا جیسے ملکی معاملات میں وہ کسی حد تک متعلق ہیں۔ پاکستان میں سیاست اور جمہوریت کے پودے ابھی نوخیز تھے ابھی ان کو تناور ہونا تھا۔ سیاسی اور جمہوری استعاروں کو مستحکم ہونا تھا۔ قومی اتحاد نے محاذ آرائی کی سیاست کا آغاز کر دیا۔ یہ ایک ایسا سلسلہ ہے جو ختم ہونے کو نہیں آ رہا ہے۔ ہر بار نعرہ وہی رہا ملک عدم استحکام کا شکار ہے اور سیاسی استحکام کی اشد ضرورت ہے۔ کھیل وہی رہا لیکن کھلاڑی تبدیل ہوتے رہے ہیں اور ہو رہے ہیں۔ قائد نے کھوٹے سکے کا ایک لفظ استعمال کیا تھا۔ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں کھوٹے سکے چلتے ہیں اور کھوٹے سکے چلانے والوں کو سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا ہے۔ ساری عزتیں ان کے لئے ہوتی ہیں جو کھوٹے چلاتے ہیں اور سارے ایوان سارے تخت و تاج ان کا مقدر بنتے ہیں جو کھوٹے سکوں کا کاروبار کرتے ہیں۔ پاکستان کے قیام کو 78 سال ہو گئے اور سوچنے کی بات یہ ہے کہ کھوٹے سکوں کا کاروبار کب تک چلے گا۔
سیاسی استحکام
09:21 AM, 26 Sep, 2025