9 ستمبر 2025 کو اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے دوحہ کے ضلع لقطیفیہ میں دس میزائل داغے جس میں حماس کے سینئر سیاسی رہنماؤں خلیل الحیا، ظہیر جبرین، محمد اسماعیل درویش اور خالد مشعل کو نشانہ بنایا گیا لیکن خوش قسمتی سے وہ محفوظ رہے۔ پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ اسرائیل کا نشانہ چوکا ہو۔ حماس کے جن رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا وہ غزہ جنگ بندی اور اسرائیلی اور فلسطینی یرغمالیوں کے تبادلے کے لیے مذاکرات میں شامل تھے۔ اسرائیل حماس کے رہنماؤں کو شہید کرنے میں ناکام رہا۔ اس حملے پر بین الاقوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ بینجمن نیتن یاہو نے قطر پر کئے جانے والے اسرائیلی حملے پر معذرت کرنے کی بجائے انتہائی بے شرمی سے اس حملے کا جواز پیش کیا ہے۔ نیتن یاہو نے حماس کے سیاسی رہنماؤں کو دہشت گرد قرار دے کر کہا ہے کہ وہ آئندہ بھی حماس کے سیاسی رہنماؤں کو دہشت گرد گردانتے ہوئے ان پر حملے جاری رکھے گا۔ فلسطین کے گزشتہ انتخابات میں غزہ میں حماس کی حکومت قائم ہوئی تھی۔ بالکل ویسے ہی جیسے اسرائیل میں ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں بینجمن نیتن یاہو کی اسرائیل میں حکومت قائم ہوئی۔ حماس عوامی حمایت کے ساتھ سیاسی عمل کے نتیجے میں اقتدار میں آئی تھی اس لئے انہیں کسی صورت دہشت گرد قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اسرائیل 8 دہائیوں سے خطے میں فلسطین، لبنان، شام، اردن، مصر اور یمن پر حملے کر رہا ہے۔ یہاں تک کہ اسرائیل نے اپنی سرحدوں سے تقریباً 2 ہزار کلومیٹر دور ایران پر بھی اس وقت حملہ کر دیا تھا جب اسماعیل ہانیہ تہران میں تھے۔ اس حملے میں ہانیہ شہید کر دیئے گئے تھے۔ ہانیہ کی شہادت کے علاوہ اسرائیل نے ایران کے دسیوں جوہری سائنس دان، فوجی جنرل اور پاسداران انقلاب کے سربراہان کو ایران، شام اور بغداد میں شہید کر دیا تھا۔ اسرائیل فلسطین، لبنان، شام، مصر، اردن، یمن، ایران اور قطر پر حملے کرے تو ہر بار اس کے پاس جواز موجود ہوتا ہے اور وہ خود کو دہشت گرد نہیں کہتا لیکن اگر کسی ملک کی طرف سے اسرائیل کی بربریت کا جواب دیا جائے تو وہ اس جواب کو دہشتگردی قرار دیتا ہے۔ اگر اسرائیل پر حملہ کرنا دہشتگردی ہے تو ان تمام مسلم ممالک کے خلاف بار بار کی جانے والی اسرائیلی جارحیت سب سے بڑی دہشت گردی ہے۔
ماضی میں امریکہ اور طالبان کے درمیان قطر میں امن مذاکرات ہوتے رہے ہیں۔ انہی امریکہ
طالبان مذاکرات کے نتیجے میں ہی افغانستان میں اگست 2021 میں طالبان واپس اقتدار میں آئے ۔ یہ وہی طالبان تھے جنہیں 9/11 کے بعد امریکہ نے دہشت گرد قرار دے کر اقتدار سے نکالا تھا۔ ماضی کے وہی طالبان 2021 میں ایک بار پھر دہشت گرد سے سیاست دان قرار دے دیئے گئے تھے۔ امریکہ اور اسرائیل جب چاہیں اپنے مفادات کے پیش نظر کسی شخص یا گروہ کو دہشت گرد کہہ کر اقتدار سے بیدخل کر دیں اور جب چاہیں کسی شخص یا گروہ کو سیاسی قرار دے کر دوبارہ اقتدار تک رسائی دے دیں۔
اب تک طالبان اور حماس کے ساتھ قطر میں ہونے والے جنگ بندی اور یرغمالیوں کے تبادلے سے متعلق مذاکرات امریکہ کی مرضی سے ہی ہوتے رہے ہیں۔ اسرائیل قطر پر حملہ آور ہونے سے پہلے قطر کی ثالثی اور اسکے سفارتی کردار کے تحت حماس سے مذاکرات جاری رکھے ہوئے تھا۔ قطر کی سفارت کاری کی وجہ سے ہی حماس نے اسرائیل کے یرغمالیوں کو آزاد کیا تھا۔ قطر اس وقت تک تو اسرائیل کی نظر میں قابل احترام خودمختار ریاست تھا لیکن 9 ستمبر کو اسی قطر کی خودمختاری کا احترام کرنا اسرائیل کے لئے لازم نہ ٹھہرا۔ اسرائیل، ایران اور قطر کے ساتھ ہونے والے امن مذاکرات کی کامیابی نہیں چاہتا تھا اسی لئے اس نے سازش کے تحت ایران اور قطر میں حماس کی قیادت کو نشانہ بنایا۔
امریکہ اور اسرائیل گریٹر اسرائیل کے منصوبے کو کامیاب بنانے کے لئے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے نام نہاد امن مذاکرات کو خود ہی سبوتاژ کر دیتے ہیں کیونکہ امریکہ اور اسرائیل خطے میں امن نہیں چاہتے۔ امن کی صورت میں امریکہ اور اسرائیل کے گریٹر اسرائیل کے مقاصد پورے نہیں ہوتے۔ 9 ستمبر کو قطر پر اسرائیلی حملے کے پیچھے بھی امریکہ اور اسرائیل کی یہی خوفناک سازش موجود تھی۔
2 مئی 2011 کی شب ایبٹ آباد میں امریکہ نے اسامہ بن لادن کے نام سے منسوب ایک جعلی فوجی آپریشن کیا۔ سکرپٹ کے مطابق آپریشن مکمل ہوا تو باراک اوباما نے بتایا کہ ایبٹ آباد میں دنیا کا سب سے مطلوب شخص اسامہ موجود تھا جسے آپریشن میں قتل کر دیا گیا۔ اوباما کے مطابق امریکی اسامہ کی لاش اٹھا کر لے گئے اور انہوں نے اسے سمندر میں پھینک دیا۔ اس پراسرار آپریشن میں اسامہ کی ایبٹ آباد میں موجودگی ظاہر کرنے کی سازش کی گئی لیکن اسکی موجودگی اور موت کا کوئی ثبوت نہیں دیا گیا۔ اس وقت ہیلری کلنٹن نے اسامہ کی ایبٹ آباد میں موجودگی کے حوالے سے پاکستان پر الزام لگایا کہ پاکستان نے اسامہ کو پناہ دے رکھی تھی۔
پاکستان نے اسامہ کی ایبٹ آباد میں موجودگی کو کبھی کنفرم کیا نہ امریکہ اسامہ کی پاکستان میں موجودگی کو کبھی ثابت کر سکا۔ البتہ امریکہ نے ایبٹ آباد میں واقع ایک بڑی رہائشی عمارت میں ڈرامائی آپریشن کیا اور وہاں سے رخصت ہونے کے بعد اسامہ کی ہلاکت کی وہ خبر دے دی جس کی کبھی تصدیق نہیں کی گئی۔ میرا یہ یقین کی حد تک ماننا ہے کہ اسامہ ایبٹ آباد میں موجود ہی نہیں تھا۔ اس لئے امریکی آپریشن میں اسامہ کی ہلاکت اور اسکی لاش کا سمندر برد کیا جانا محض ایک ایسی من گھڑت کہانی ہے جسے اب جا کے نیتن یاہو نے قطر پر اسرائیلی حملے کو ایبٹ آباد آپریشن سے جوڑ کر استعمال کیا ہے۔ امریکہ نے اسامہ سے متعلق ساری کہانی ایسے ہی دن کے لئے گھڑ کر بچا رکھی تھی جس دن اسرائیل نے قطر حملے کو دہشت گردوں کے خلاف تعاقب سے منصوب کیا۔
2011 میں اسامہ کی پاکستان میں فرضی موجودگی سے متعلق امریکہ نے ثابت کرنے کی کوشش کی کہ پاکستان دہشت گردوں کو اپنے ہاں پناہ دیتا ہے۔ اسامہ کی ایبٹ آباد میں موجودگی نہ تو حقیقت تھی نہ اسکا ایبٹ آباد آپریشن میں قتل ہونا اور سمندر برد کیا جانا ثابت کیا گیا۔ چنانچہ قطر پر حملے کے بعد نیتن یاہو نے دو بار کہا کہ اسرائیل نے حماس کے دہشت گردوں( سیاسی رہنماؤں) کے تعاقب میں دوحا پر بالکل اسی طرح میزائل حملہ کیا ہے جیسے 2 مئی 2011 کو امریکہ نے ایبٹ آباد میں موجود دہشت گرد اسامہ کو ختم کرنے کے لئے ایبٹ آباد آپریشن کیا تھا۔ اسامہ کی پاکستان میں موجودگی سراسر جھوٹ تھا۔ ایبٹ آباد واقعہ اور دوحا حملہ امریکی سازشی کہانیاں ہیں۔
اول تو دوحا میں امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ دہشت گرد نہیں بلکہ حماس کے وہ سیاسی رہنما امن مذاکرات کر رہے تھے جن پر اسرائیل نے مذاکرات سبوتاژ کرنے کے لئے حملہ کر دیا۔ اسرائیل نے یرغمالیوں کی رہائی کیلئے حماس کے رہنماؤں سے پہلے بھی مذاکرات کر کے یرغمالیوں کی رہائی ممکن بنائی تھی ۔ دوم یہ کہ اسامہ کے نام سے کیا گیا ایبٹ آباد آپریشن سرے سے جھوٹ اور بین الاقوامی فراڈ تھا۔ اسامہ ایبٹ آباد میں موجود ہی نہیں تھا۔ وہ یا تو پاکستان کی سرزمین سے باہر کہیں ہلاک ہو چکا تھا یا وہ امریکہ ہی کے پاس ہے۔
ایبٹ آباد اور دوحا سازشیں
09:21 AM, 26 Sep, 2025