اکھنڈ بھارت کے بعد اکھنڈ اسرائیل شوشہ

09:19 AM, 26 Sep, 2025

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کے اہم ترین اجلاس میں شرکت سے قبل اپنے اہم حلیف ملک برطانیہ کا دورہ کیا جہاں ان کا فقید المثال استقبال ہوا۔ وہ سرخ قالین پر چلے آرہے تھے کہ دنیا کو جامنی رنگ کارپٹ استقبالئے یاد آ گئے۔ یہ امریکہ اور یورپ کی اختراع ہے جو اب خلیج کے ملکوں میں بھی مقبول ہو رہی ہے لیکن برطانیہ اپنے کلچر اور روایات سے جڑا ہوا ہے، وہ کسی کی نقالی نہیں کرتا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ برطانیہ کے ساتھ ہی ان کے ستارے گردش میں آگئے ہیں۔ انہیں خود بھی اپنے ستاروں کو گردش میں رکھنے کا شوق ہے۔ وہ عمر کے جس حصے میں ہیں وہاں پہنچ کر انسان کی کئی چیزیں قابو سے باہر ہو جاتی ہیں۔ ہاتھ پائوں ، زبان، دماغ وغیرہ۔ امریکی صدر کو برطانیہ پہنچنے پر گارڈ آف آنر پیش کیا گیا تو ان کی زبان بے قابو ہو گئی۔ انہوں نے تمام پروٹوکول بالائے طاق رکھتے ہوئے ساتھ چلنے والے گارڈ سے گفتگو شروع کر دی۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے وہ اس سے برطانیہ میں مہنگائی کے بارے میں پوچھ رہے تھے جبکہ کچھ کا خیال ہے وہ پوچھ رہے تھے تنخواہ وقت پر مل جاتی ہے یا نہیں۔ امریکی صدر سلامی کے چبوترے پر کھڑے تھے، ان کے سامنے سے گھڑ سواروں نے سلامی دے کر گزرنا تھا، سامنے پہنچ کر گارڈ مہمانوں کی طرف منہ کر کے سلامی دیتا ہے، یہاں بھی ایسا ہی ہوا لیکن سوار کے ساتھ اس کے گھوڑے نے بھی اپنے انداز میں ڈونلڈ ٹرمپ کو سلامی پیش کی۔ اس نے سامنے پہنچ کر امریکی صدر کی طرف آنکھوں سے دیکھا اپنی زبان میں یعنی ہنہناتے ہوئے کچھ کہا پھر دُم پوری اٹھائی اور ’’پوٹی‘‘ کرتے ہوئے سلامی پیش کی۔ ایسا واقعہ اس سے قبل کسی پریڈ یا سلامی کے دوران نہیں پیش آیا۔ امریکیوں کا خیال ہے گھوڑے نے اس انداز میں سلامی امریکی صدر کو نہیں کسی اور کو پیش کی ہے جبکہ برطانویوں کے مطابق یہ سلامی مہمان کو ہی پیش کی گئی ہے۔ اس وقت ان سے زیادہ اہم مہمان کوئی اور نہ تھا۔
امریکی صدر کے اعزاز میں ہونے والے ڈنر میں برطانیہ کی اہم شخصیات نے شرکت کی۔ ان میں خواتین کے ایک بڑی تعداد بھی شامل تھی۔ تقریب کی کوریج کرنے والے کیمرے نے چند سیکنڈ کیلئے ایک منظر محفوظ کیا جو دنیا کو محظوظ کرنے کا سبب بنا، کیمرے نے ایک خاتون کا کلوز شاٹ دکھایا جو معنی خیز اشارے سے اپنے ساتھی کو بتا رہی تھی۔ دیکھو دیکھو ٹرمپ کیا کر رہا ہے۔ وہ ایک خاتون میں محو تھے۔ امریکی صدر اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لئے پہنچے تو یہاں بھی ان کا ستارہ گردش میں تھا۔ ان کی بیگم میلانیا ٹرمپ ان سے چند قدم آگے تھیں۔ انہوں نے برقی زینے پر قدم رکھا۔ ٹرمپ کا قدم پڑتے ہی خودکار زینہ رک گیا، جس نے ٹرمپ اور بیگم ٹرمپ کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔ برقی زینوں کا رک جانا حیرت انگیز تھا، ایسے موقع پر بجلی چلے جانے یا کسی اور خرابی کا امکان تو نہیں ہوتا لیکن یہ دیکھ کر ٹرمپ کے سوٹ بوٹ میں موجود محافظین نے پوزیشنز سنبھال لیں۔ ایک مختصر وقفے کے بعد برقی زینہ متحرک ہوا تو سب کی جان میں جان آئی۔
امریکی صدر خطاب کرنے کیلئے سٹیج پر پہنچے، انہوں نے گفتگو کا آغاز کیا تو ٹھیک چند منٹ بعد ان کے سامنے رکھے ٹیلی پرامپٹر نے کام کرنا چھوڑ دیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کچھ دیر کیلئے جھنجھلا گئے، انہوں نے شرکاء اجلاس کو مطلع کیا کہ ان کا ٹیلی پرامپٹر بند ہو گیا ہے لہٰذا اب وہ فی البدیہ تقریر کریں گے۔ ان کے سامنے ان کی تقریر کے کچھ مندرجات رکھے تھے لیکن ان کی زبان بے قابو ہو گئی پھر انہوں نے وہ گفتگو شروع کر دی جسے اول فول بکنا کہتے ہیں۔ انہوں نے ’’یو این‘‘ پر اپنا غصہ نکالنا شروع کیا اور کہا جس ادارے میں برقی زینے چلتے چلتے بند ہو جائیں جس کا ٹیلی پرامپٹر چلتے چلتے رک جائے، اس ادارے نے اور کیا کرنا ہے۔ یہاں جس قسم کے انتظامات نظر آرہے ہیں، اس سے ملتی جلتی کارکردگی اس ادارے یعنی ’’یونائیٹڈ نیشنز‘‘ کی ہے۔ ٹرمپ کی اس بات سے تو دنیا اتفاق کرتی ہے کہ اس ادارے کی مجموعی کارکردگی صفر ہے۔ یہ ادارہ اپنے قیام کے بعد اس سے وابستہ توقعات پر پورا نہیں اتر سکا، اس کا مینڈیٹ تھا کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نوٹس لیتا۔ بلاوجہ طاقتور ملکوں کی طرف سے شروع کی جانے والی جنگوں کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرے گا لیکن اربوں روپے کے اخراجات اور اربوں ڈالر کے فنڈز اور اختیارات ہونے کے باوجود یو این کی کارکردگی ویسی ہی رہی جیسی ترقی پذیر ملکوں کے سرکاری دفتروں کی ہوتی ہے۔ اقوام متحدہ کی کارکردگی اگر صفر ہے تو اس کا بڑا ذمہ دار امریکہ اور اس کے بغل بچے ہیں جنہوں نے امریکی اشاروں پر اکثر اہم قراردادوں کو ویٹو کیا۔ امریکہ نے حالیہ مہینوں میں چھ سے زائد مرتبہ غزہ میں جنگ بندی کی قراردادوں کو ویٹو کیا۔ امریکہ نے آج تک جتنی مرتبہ یو این میں پیش ہونے والی قراردادوں کو ویٹوکیا ان میں 80 فیصد وہ تھیں جن براہِ راست فائدہ اسرائیل کو ہوا۔ امریکہ کے ویٹو کرنے سے اسرائیلی دہشت گردی میں اضافہ ہوا۔ کوئی اس کے عزائم کو روک نہ سکا۔ یہ تھا اس امریکہ کا اصل چہرہ جو دنیا میں جنگیں ختم کرنے کی باتیں کرتا نظر آتا ہے۔ اقوام متحدہ میں خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ اس نے سات مختلف جنگیں بند کرائی ہیں جس پر شرکاء ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے یو این کی ماحولیات کے حوالے سے کارکردگی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ان کی ماحولیاتی پالیسی بوگس ہے۔ انہیں ماحولیات کا کچھ علم ہی نہیں ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ ادارہ فنڈز کھا گیا ہے۔ یہ امن کیسے قائم کر سکتا ہے۔انہوں نے یورپی ممالک اور بھارت کو یوکرین جنگ بند نہ ہونے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ممالک روس سے تیل خرید کر اسے جنگ جاری رکھنے میں معاونت کر رہے ہیں حالانکہ یوکرین کو جنگ جاری رکھنے کے لئے اربوں ڈالر کی امداد امریکہ نے دی اور اسے اسلحہ بھی سپلائی کیا لیکن وہاں موجود کسی سربراہ مملکت نے یہ اہم معاملہ نہ اٹھایا۔ ٹرمپ حکومت نے اپنی مرضی کے مطابق یو این کو چلانے کیلئے اقدامات کئے ہیں جن میں اس کے فنڈز روکنا بھی شامل ہے۔ وہ ہر ملک ہر ادارے کو اپنے قدموں میں جھکانا چاہتے ہیں۔ کچھ عجب نہیں کل انہیں خود کسی کے سامنے دو زانو ہونا پڑ جائے۔
ٹرمپ کل تک روس کے فتح کئے گئے علاقے اسے بخشنے کے لئے یوکرین کو راضی کر رہے تھے۔ آج یو این میں کہتے پائے گئے کہ یہ علاقے یوکرین کو واپس ملنے چاہئیں۔ انہوں نے غزہ اور فلسطین کے بارے میں مختلف موقف اختیار کر لیا جس نے دنیا کو حیران کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ دو ریاستی حل کوئی حل نہیں ہے حالانکہ وہ عرصہ دراز سے اس پر زور دیتے رہے تھے لیکن جب سے نیتن یاہو نے رنگ بدلا ہے اور کہا ہے کہ وہ مکمل فلسطین کو فلسطینیوں سے خالی کرا کے یہاں اسرائیل کو قائم کرنا چاہتے ہیں، تب سے ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی یہی راگ الاپنا شروع کر دیا ہے۔ پہلے ہم اکھنڈ بھارت بھگتتے رہے ہیں، اب اکھنڈ اسرائیل کا شوشہ سامنے رکھ دیا گیا ہے۔

مزیدخبریں