لاہور:حکومت نے کاروباری برادری کو شامل کرتے ہوئے ٹیکس فراڈ کمیٹی میں شفافیت بڑھا دی ہے۔ اب کسی بھی کاروباری فرد کو 37 اے کے تحت گرفتار کرنے سے قبل کمیٹی کی اجازت لینا ضروری ہوگا۔
ذرائع کے مطابق کمیٹی میں شامل نمائندے وفاقی ایوانہائے صنعت و تجارت کے دو، لاہور اور ملتان چیمبر آف کامرس کے نمائندے، کراچی، حیدرآباد اور سرحد چیمبر آف کامرس کے نمائندے، آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے دو عہدیدار اور پاکستان بزنس کونسل کے دو نمائندے ہیں۔
کمیٹی کا قیام اس لیے کیا گیا ہے تاکہ کاروباری افراد کی گرفتاری کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی گرفتاری سے قبل انکوائری اور اجازت لازمی ہو۔