معروف ادیب، کالم نگار اور صحافی ابراہیم جلیس کی 48ویں برسی آج منائی جا رہی ہے

03:42 PM, 26 Oct, 2025

لاہور : آج اردو ادب کے معروف ادیب، کالم نگار اور صحافی ابراہیم جلیس کی 48ویں برسی منائی جا رہی ہے۔ ان کی شخصیت اور ان کا کام آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں اور انہیں ادب اور صحافت کے میدان میں ایک رہنمائی کی حیثیت حاصل ہے۔

ابراہیم جلیس 11 اگست 1922ء کو ہندوستان کے شہر بنگلور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے علی گڑھ یونیورسٹی سے بی اے کیا اور اپنے طالب علمی کے دوران ہی لکھنے کا شوق پال لیا۔ 1948ء میں پاکستان آ کر مختلف اخبارات میں کام کیا اور یہاں کی ادبی، صحافتی دنیا میں اپنی جگہ بنائی۔

وہ طنز و مزاح کے حوالے سے بے مثال تھے اور اپنے کالموں میں لوگوں کے مسائل کو نہایت دلچسپ اور سادہ انداز میں بیان کرتے تھے۔ ان کا کالم پڑھتے وقت قاری کی مسکراہٹ رکنا مشکل ہوتا تھا، مگر ان کے کالموں میں گہری باتیں بھی چھپی ہوتی تھیں۔ ان کی زبان اور اندازِ بیان پر مکمل عبور تھا اور یہی بات انہیں دوسرے لکھاریوں سے ممتاز کرتی تھی۔

ابراہیم جلیس کی تصانیف میں پانچ افسانوں کے مجموعے شامل ہیں، جن میں "40 کروڑ بھکاری", "آزاد غلام", "دو ملک ایک کہانی", "جیل کے دن، جیل کی راتیں" اور "زمین جاگ رہی ہے" شامل ہیں۔ ان کے روس، چین اور امریکہ کے سفرنامے بھی قارئین میں بہت مقبول ہوئے اور ان کا سٹیج ڈراما "اجالے سے پہلے" بھی ادب کی دنیا میں قابلِ ذکر ہے۔

انہوں نے صحافیوں کے حقوق کے لئے بھی آواز بلند کی اور ہمیشہ سچائی کی بات کی۔ ان کی زندگی اور ان کا کام صحافت کی آزادی اور ادبی حقیقت پسندی کا پیغام دیتے ہیں۔ وہ 26 اکتوبر 1977ء کو کراچی میں انتقال کر گئے، مگر ان کی ادبی اور صحافتی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

ابراہیم جلیس کی وفات کے بعد حکومت پاکستان نے 14 اگست 1989ء کو انہیں بعد از مرگ تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا، جو ان کی خدمات کا بہترین اعتراف تھا۔ ان کا اثر آج بھی اردو ادب اور صحافت کی دنیا میں محسوس کیا جاتا ہے۔

مزیدخبریں