یہ جنریشن زی کا دور ہے یہ وہ نسل ہے جو اخبار کے صفحے سے نہیں بلکہ موبائل کی اسکرین سے خبریں پڑھتی ہے۔ جن کے ہاتھ میں فون ہے اور ذہن میں ایک الگ دنیا۔ یہ نسل سوشل میڈیا فیڈ پر پلی بڑھی ہے جہاں معلومات کی رفتار بجلی سے بھی تیز ہے مگر ان کی بنیاد زیادہ تر فیک اور پروپیگنڈا کی پیٹری پر کھڑی ہے، جس کا مقصد سچائی اور حقیقت کو چھپانا اور جھوٹ کو سچ کی طرح پروان چڑھانا ہے تاکہ ویوز کمائے جائیں اور ڈالر آئیں۔ حالانکہ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے کہ سوشل میڈیا نے معلومات تک رسائی کو بہت زیادہ آسان بنا دیا ہے مگر حقیقت کو پہچاننا اتنا ہی مشکل بھی کر دیا ہے۔ اب خبر خبر نہیں رہی بلکہ ایک بیانیہ ہے جسے جس سمت میں چاہو موڑ دو۔ سیاسی جماعتیں، مفاداتی گروہ حتیٰ کہ بعض میڈیا ادارے بھی اب اس دوڑ میں شامل ہیں کہ کس کا "بیانیہ" زیادہ وائرل ہو گا۔ جس کے بعد سچائی پیچھے رہ گئی اور مقبولیت آگے نکل گئی۔
یہی وہ فضا ہے جس میں پراپیگنڈا ایک باقاعدہ صنعت بن چکا ہے۔ جعلی تصویریں، ترمیم شدہ ویڈیوز، اے آئی سے بنے چہرے اور ایڈیٹ شدہ آڈیوز آئے روز سوشل میڈیا پر گردش کرتے ہیں۔ کسی ایک ویڈیو کو اگر بار بار پوسٹ کیا جائے تو دیکھنے والے کے ذہن میں وہی تصویر "حقیقت" بن جاتی ہے کہ ہاں یہی سچ ہے ایسا ہی ہوا ہو گا۔ جبکہ سچ یہ ہے کہ اب اگر کوئی آپ کے سامنے ویڈیو تک ہی کیوں نہ رکھ دے، اس پر یقین نہ کرو کہ کہیں وہ فیک نہ ہو۔ پاکستان میں اس کا سب سے بڑا مظاہرہ ہم نے الیکشنز، تحریکوں اور قومی سانحات کے دوران دیکھا۔
یاد کیجیے 2022 میں پی ٹی آئی کے جلسوں اور اس کے بعد ہونے والے پرتشدد واقعات کو کس طرح سوشل میڈیا پر جعلی ویڈیوز اور پرانے کلپس مگر نئی تشریحات اور کپشن کے ساتھ پھیلایا گیا۔ کہیں کسی پر فیک "بیانِ حلفی" لگا، کہیں کسی کی آواز کو مصنوعی طور پر بدلا گیا۔ ہر فریق نے دوسرے پر "جھوٹ پھیلانے" کا الزام لگایا مگر کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ سچ کیا ہے اور اگر کسی نے سچ بولنے اور لکھنے کی جرأت کی تو اس کی کردار کشی کی گئی۔ سوال پوچھنا
ہی جرم بنا دیا گیا۔اسی طرح پنجاب میں بچوں کے اغواء یا سکولوں میں بے ہوشی کے واقعات سے متعلق خبریں ہوں یا خواتین پر تشدد کے ویڈیوز، بیشتر مواقع پر بعد میں ثابت ہوا کہ وہ ویڈیوز پرانی تھیں یا کسی اور ملک سے تعلق رکھتی تھیں۔ لیکن تب تک وہ ہزاروں مرتبہ شیئر ہو چکی تھیں۔ جھوٹ وقتی طور پر یقین بن چکا ہوتا ہے اور سچ ایک کمزور وضاحت کے ساتھ اسکرولنگ میں نیچے جا رہا تھا۔ایک وقت تھا جب خبر کے لیے "ذرائع" سے بات کی جاتی تھی مگر اب "وائرل ویڈیو" ہی ثبوت بن گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرہ سچ اور فریب میں فرق کھوتا جا رہا ہے۔ یہ مسئلہ صرف سیاسی نہیں بلکہ فکری بھی ہے کیونکہ ہماری سوچ کی جڑیں متاثر ہو رہی ہیں۔ یونیورسٹیوں میں پڑھے لکھے نوجوان بھی اب "مصدقہ" کی جگہ "مقبول" مواد کو ترجیح دیتے ہیں۔ کسی سیاسی وی لاگر کی ایک جذباتی تقریر کو وہ تجزیہ سمجھ لیتے ہیں۔ کسی ٹک ٹاکر کا ایک ایڈیٹ شدہ کلپ ان کے لیے حقیقت کا درجہ رکھتا ہے۔ تحقیق اور تصدیق کی روایت تقریباً ختم ہو چکی ہے۔
یہاں جب ہر شخص صرف وائرل مواد دیکھ کر رائے قائم کر لیتا ہے، تو وہ نہ صرف سچائی سے دور ہوتا جاتا ہے بلکہ معاشرتی رویوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ، سوشل میڈیا ایڈیٹرز اور اثرانداز افراد نفسیاتی حربے استعمال کرتے ہیں۔جذبات کو بھڑکانا، خوف پیدا کرنا یا غصے کو متحرک کرنا تاکہ دیکھنے والا بلا سوچے عمل کرے۔ والدین اور اساتذہ کا کردار یہاں کلیدی ہے،اگر وہ بچوں اور نوجوانوں کو یہ تربیت دیں کہ معلومات کی تصدیق، ذرائع کی جانچ اور سوال پوچھنا ضروری ہے تو شاید وہ پروپیگنڈے کے جال سے نکل سکیں۔ اس کے معاشرتی اثرات بھی گہرے ہیں۔ خاندانوں میں نظریاتی تقسیم، دوستوں میں سیاسی دشمنی اور اداروں کے خلاف نفرت، یہ سب اسی "ڈیجیٹل پروپیگنڈا" کا شاخسانہ ہیں۔ جب ہر شخص اپنی مرضی کی دنیا میں رہنے لگتا ہے تو اجتماعی حقیقت بکھر جاتی ہے۔ گزشتہ برسوں میں کئی مواقع پر یہ دیکھا گیا کہ جعلی خبریں براہِ راست تشدد کا باعث بنیں۔ کبھی کسی گاؤں میں گستاخی کے جھوٹے الزام پر ہجوم اکٹھا ہو گیا، کبھی کسی سیاسی رہنما کے "قتل" کی افواہ نے شہر میں ہلچل مچا دی اور کبھی کسی خاتون کے خلاف جعلی ویڈیو، تصویر اور سوشل میڈیا پوسٹ نے اس کی زندگی اجیرن کر دی۔ یہ سب اس لیے ممکن ہوا کہ کسی نے بھی خبر کو پرکھنے کی زحمت نہیں کی اور نہ ہی سوال کیا اور تحقیق کی طرف بڑھا۔
ہم یہ بھول چکے ہیں کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی ایک پوسٹ صرف لفظ نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے اثرات کی ایک پوری زنجیر ہوتی ہے۔ یہ کسی کی ساکھ کو مٹا سکتی ہے، کسی کی نوکری ختم کر سکتی ہے، کسی کی جان بھی لے سکتی ہے۔ جھوٹ کے اس سیلاب میں اگر کوئی چیز بچ سکتی ہے تو وہ شعور ہے۔ یہ شعور تعلیم سے نہیں، تربیت سے آتا ہے۔ اگر والدین، اساتذہ اور میڈیا ادارے نوجوانوں کو یہ سکھائیں کہ ہر خبر کو دیکھنے سے پہلے سوال کریں تو شاید سچ کی سانس بحال ہو جائے۔ ریاست کو بھی اس معاملے میں اپنی ذمہ داری نبھانی چاہیے۔جعلی خبروں اور ڈیجیٹل فراڈ کے خلاف سخت قوانین تو بنائے جا چکے ہیں مگر حسب روایت ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ "پیکا قانون" صرف اختلافِ رائے دبانے کے لیے نہیں بلکہ جھوٹ کے منظم نیٹ ورکس کو روکنے کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔ اسی طرح میڈیا اداروں کے لیے بھی یہ وقت ہے کہ وہ اپنی خبر رسانی کے معیار کو ازسرِ نو مرتب کریں کیونکہ اعتماد ایک بار ٹوٹ جائے تو دوبارہ نہیں بنتا۔ ہمیں بھی یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جھوٹ وقتی طور پر دلکش ہو سکتا ہے مگر سچائی ہی وہ بنیاد ہے جس پر کسی معاشرے کا استحکام قائم رہتا ہے۔ اگر سچ ماند پڑ جائے تو رائے عامہ کی عمارت جھوٹ پر کھڑی رہتی ہے اور جھوٹ کی عمارت ہمیشہ گرنے کے لیے ہی بنتی ہے۔ہمیں اس تیز رفتار ڈیجیٹل دنیا میں ایک لمحہ رک کر سوچنا ہو گا کہ کیا ہم سچ کو سننے کے اہل ہیں؟ کیا ہم اس قابل ہیں کہ فریب کو پہچان سکیں؟ اگر نہیں، تو شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم خود سے سوال کریں کہ کہیں ہم بھی اس "جھوٹ کی رفتار" کا حصہ تو نہیں بن گئے؟ اور یہ کہ کیا ہم نے کبھی یہ سوچا ہے کہ ہر بار جب ہم بلا تحقیق کوئی پوسٹ شیئر کرتے ہیں، ہم ایک چھوٹا سا بیانیہ بھی قائم کر رہے ہیں جو کسی کی زندگی یا سوچ پر اثر انداز ہو سکتا ہے؟ یہ لمحہِ توقف، سوال اور محتاط رویہ ہی اختیار کرنے کا ہے کیونکہ یہی وہ واحد راستہ ہے جو ہمیں سچ کی روشنی تک لے جا سکتا ہے۔
وائرل بیانیہ اور ہارتا ہوا سچ
09:20 AM, 26 Oct, 2025